کنول
. تحریرمنیبہ گوہر ربوہ
بہار کی آمد تھی۔ شاید قدرت اپنی تمام دل آویزیوں اور رعنائیوں کے ساتھ جلوہ آرا تھی۔ فدایان فطرت ، ہرے ہرے لہلہاتے ہوئے ، سر سبز شاداب میدانوں، پہاڑوں کے لامتناہی سلسلے اور ان پر لالہ زاروں اور لمبے لمبے درختوں کو دیکھ کر نثار ہوئے جاتے تھے۔ معرفت کے طلبگار، آیات جبیں میں اپنے دل کی تسکیں کا سامان پاتے تھے۔ شعر اء پھولوں کے حسن کی تعریف میں رطب اللسان تھے۔
اسی اثناء میں محبت۔ ایک پھول کی تلاش میں بھٹکی ہوئی موسم بہار کے دیوتا کے پاس آئی۔ اور اس سے ایسا اچھا اور خوبصورت پھول مانگا، جس کی دلفریبی ، دلکشی ،اور رعنائی، آپ اپنی مثال ہو۔ جو سب کا سردار ۔ اور شہنشاہ ہو !۔فوقیت حاصل کرنے کا یہ جذبہ گلاب ۔اور۔ نرگس دونوں میں موجود تھا۔اور اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ شعراء نے ، نرگس کے حسن سے متاثر ہو کر۔ اس کی بڑی تعریف کی۔ اور فی الحقیقت نرگس کا حسن ہی ان کا موضوع سخن بن کر رہ گیا ہے۔
مگر گلاب جو پھولوں میں پھول تھا۔ اس بے انصافی کو کیسے برداشت کر سکتا تھا۔ اور یہی ایک جھگڑا تھا جو موسم بہار کے دیوتا کے سامنے پیش ہوا۔ آیا نرگس حسین ہے۔ یا گلاب ۔؟
محبت نے موسم بہار کے دیوتا کے سامنے التجا کی۔ ایک ایسے پھول کی جو گلاب کی طرح شاندار۔ اور نرگس کی طرح حسین ہو، اور۔ اس کا رنگ بھی گلابی ہو۔ جو آنکھوں کو بھاتا ہوا اور محبت کو یہی پسند ہے۔ اس نے توقف کیا۔ پھر کہا۔ نہیں!… اس کا رنگ نرگسی ہو…یا ایسی پھول جس میں ان دونوں رنگوں کی جھلک موجود ہو…گلابی ۔ اور نرگسی۔ یہ کون سا پھول تھا؟’’کنول ‘‘ گلابی اور نرگسی۔ دونوں کے رنگوں کی آمیزش اس میںموجود تھی۔ پھولوں کا شہنشاہ ’’کنول ‘‘!۔ فقط


