یہ دستور زبان بندی
. تحریرسلمیٰ قریشی-سرگودھا پاکستان
’’ زبان بند کرو لڑکی …خاموش ہو جاؤ! پی جاؤ !! زہر ہے تب بھی…تمہاری آواز ان دیواروں سے باہر نہ جائے !!خبردار! خاندان کی ناموس پر کوئی آنچ نہ آئے ، ورنہ سنگسار کر دی جاؤ گی …کاری ہو جاؤ گی …زندہ درگور کر دی جاؤگی…‘‘
اس نے یہ الفاظ پہلی مرتبہ تو نہ سنے تھے۔ ان الفاظ کی بازگشت اسے حویلی کی دیواروں سے سنائی دیتی تھی… یہ الفاظ تو اس کے ساتھ ساتھ جوان ہوئے تھے۔…ہاں ، وقت ، آواز اور کردار بدلتے رہے ۔
یہ رانی بی بی تھی ، اونچی فصیلوں کے اندر کے رسم و رواج اور رکھ رکھاؤ کے ساتھ پروان چڑھتی ہوئی ۔ بچپن سے ہی سمجھوتے کی پینگ جھول رہی تھی ۔
اس نے اپنی ماں صابرہ کے ضبط کے دودھ کی دھاریں اپنے وجود میں اتاری تھیں
صابرہ …جسے ہر وقت کی دھمکیوں نے نڈھال کر رکھا تھا … ساس نے کہہ چھوڑا تھا کہ اب کے بیٹی ہوئی تو پھر اس گھر میں تمہارا ٹھکانہ نہیں ہوگا…میرے بیٹے کے سر پر لڑکیوں کا ٹوکرا لاد دیا … اچھی طرح سن لو !ہمیں وارث چاہیے !!شوہر کا رویہ بھی اکھڑا اکھڑا سا تھا … اسی لئے جب ڈاکٹر نے بتایا کہ اس مرتبہ بھی بیٹی ہی ہے تو اس کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ خود کو کہاں چھپائے… پھر چپکے سے ایک دن …ان دیکھی معصوم روح کو دنیا میں انے سے پہلے ہی دفنا آئی…وارث نہ دے سکی تو سوتن کو آنے سے کیسے روک سکتی تھی ، سو وہ آ گئی…
دستگیر خاندان کیلیے کچھ بھی نیا نہ تھا …ہاں صابرہ چونکہ اپنوں میں سے تھی اور بڑی بہو بھی اسلیے حویلی ہی میں مقیم رہی ۔اس نے اپنی تمام تر توجہ تینوں بیٹیوں پر مرکوز کر دی۔ رانی بی بی رفتہ رفتہ اسی نامانوس ماحول سے مانوس ہو چکی تھی …
آج ستّاں کام کرنے آئی… اس حالت میں کہ سارا جسم نیل و نیل ہو رہا تھا ۔ کمر پکڑے آ کر فرش پر گر سی گئی … ’’ لو! آج پھر مار کھا کر آ رہی ہے …گھر والے سے‘‘ _ صابرہ کی بات کا کیا جواب دیتی اسکا تو پورا جسم سراپا جواب تھا …وہ چپ رہی ۔کہنے کو تھا بھی کیا …نشئی شوہر نے پیسے مانگے ہوں گے …کہاں سے دیتی !! بس اسی بات پر دُھنک کر رکھ دیا …‘‘ آخر کب تک یوں مار کھاتی رہے گی؟ ’’ صابرہ نے پوچھا …‘‘ کیا کروں جی، ان معصوموں کو نہ چھوڑ سکتی ہوں نہ لے جا سکتی ہوں …بھائی کہتا ہے خود آ جاؤ اُسکی اولاد کو ہم نہیں پالیں گے ’’
خاندان کی روایات اور زباں بندی کے دستور سے رانی بی بی بچپن سے ہی آگاہ ہو گئی تھی جب سنہرے روپہلے دنوں میں اندھیرے کی ایک لکیر کھنچ گئی تھی …سخت جھنجھلائی ہوئی رانی نے اماں سے کہہ دیا کہ یہ جو انکل سلیم ہیں نا ! یہ بہت گندے ہیں… انہیں کہو یہ نہ آیا کریں ہمارے گھر !!!
صابرہ پل بھر میں بات کی تہہ تک پہنچ کر سناٹے میں آگئی بے ساختہ رانی کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا… خاموش !!خبردار ! کسی سے کچھ نہیں کہنا…رانی ماں سے لپٹ کر رونے لگی …صابرہ پل پل بیٹیوں کو نظروں میں تولنے لگی …رانی کا بچپن دہلیز پار کر گیا …اسکول جانے لگی تو اعتماد بحال ہوا اور وہ سب کچھ بھول بھال کر پڑھائی میں لگ گئی … کتنے سہانے دن تھے وہ …پھر ایک دن بڑے ابا کے فیصلے کی بندوق سے نکلنے والی گولی نے دھماکہ کر دیا۔
’’ رائے دستگیر کے گھرانے کی بیٹیاں اور اتنی تعلیم … بہت ہو گیا …رانی بی بی کی کتابیں صندوق میں اور سوچیں ذہن کے مقبرے میں دفن ہو گئیں ۔
انہی دنوں کچھ ریشمی سے خواب اسکی آنکھوں میں سج گئے … جب اچانک چچا زاد رائے جواد کے وارد ہونے سے زندگى الگنی پر پڑی ست رنگی چنری کی طرح لہرانے لگی تھی ، لفظوں نے نیا پیرہن پہنا اور قدم جانو موسیقی کی تال پر اٹھ رہے ہوں … اطوار کی یہ تبدیلی بھلا جہاں دیدہ صابرہ سے کہاں چھپی رہتی ۔ سر اٹھاتے اندیشوں کے تصور سے ہی لرزاں ماں نے جب رانی کو بتایا کہ وہ تو بچپن، بلکہ پیدائش سے پہلے سے تایا زاد رائے زمان کی منگ ہے تو وہ سناٹے میں آگئی …
’’ ماں. تو تو جانتی ہے نا اسے … وہ تو …وہ تو… اور پڑھا بھی تو نہیں ہے اتنا …‘‘ ’’ بس ، چپ ہو جا ! بڑے ابا کو پتہ چل گیا تو تیری بوٹیاں کر دیں گے …نشان تک نہ ملے گا تیرا ’’ ۔
’’ سب مرد ایسے ہی ہوتے ہیں … پر حویلی کی رانی تو تو ہی کہلائے گی نا! بس اب خاموش ہو جا ! ان دیواروں سے ٹکرا کر تیری آواز تجھ تک ہی پلٹ پلٹ کر آئے گی … جانا تو تجھے وہیں ہے …حویلی کے فیصلے بدلا نہیں کرتے ۔‘‘
رات بھر اسے طرح طرح کے خواب ڈستے رہے …کبھی لگتا وہ بھی پھوپھی صفیہ کی طرح سفید جوڑا پہنا کر قران سے بیاہ دی گئی ہے … زندگی ہی میں کفن اسکا پردہ بن گیا !! اس لئے کہ اس نے ایسا ہی خواب دیکھنے کا گناہ کیا تھا … وہ چونک کر اٹھی تو لگا باہر پنچایت لگی ہے …وہ اسوقت الہی بخش کی چندو ہے … اسے کاری کرنے کا حکم سنا دیا گیا ہے … باہر تو مہیب سناٹا تھا …وہ بے دم ہو کر بستر پر لیٹ گئی …خود سے لپٹ کر دم سادھے اندرتک لرزاں رانی کے منہ پر ایک اور مہر ثبت کر دی گئی …
آخر کب تک عورت یوں جھوٹی انا کی سولی پر لٹکائی جاتی رہے گی !!چودہ سو سال ہو گئے حقدار ہو کر بھی حق سے محروم ہی رہی …معاشرتی بندھن کے طوق گلے میں ڈالے، پاؤں میں رسموں کی بیڑیاں پہنے،منہ پر ضبط کی ڈور کھینچے…زندگی کا بوجھ کاندھوں پر لادے خاندان کے ناموس و وقار کی بلی چڑھائی جاتی رہے گی!!!!
وقت نے کروٹ بدلی ، رانی بی بی بیاہ کر سسرال آنگن میں اتر آئی …ماں کا سبق لال دوپٹے کے پلو سے باندھ کر لائی کہ گھر کی بات کبھی باہر نہ آئے …زبان بندی کے دستور العمل اور ضبط کے آئین وفاداری کو نبھاتی رانی نے آنکھوں پر مصلحت کی پٹی باندھ لی…اس سارے عرصے میں اسکی رازدار تھی تو ستاں کی بیٹی زیبو جو جہیز میں بندھ کر اسکے ساتھ آئی تھی …
بڑے دنوں کے بعد آج زیبو آئی تو سخت گھبرائی ہوئی تھی ، رانی بی بی !!!رانی بی بی !!!
پتہ ہے نا! جی! بی بی ، وہ جھورے ماشکی کے بیٹے کے ساتھ ..ساتھ کے گاؤں کی لڑکی چلی گئی تھی … شادی بھی کر لی تھی جی دونوں نے …پنچایت بیٹھی تھی …فیصلہ ہو گیا …بدلے میں جھورے کی بیٹی لڑکی والوں کے حوالے کر دی ہے جی ! پنچایت نے…بی بی وہ اسے پکڑ کر لے گئے ہیں … کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے ، کانپتی آواز میں اس نے آگے کچھ کہنے کے لئے منہ کھولا ہی تھا کہ رانی بی بی نے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا … ایک جھٹکے کے ساتھ زیبو کو دھکیل کر اٹھی ، چادر لپیٹی اور اس انداز سے حویلی کے باہر آئی کہ کسی کو روکنے کی ہمت نہ ہوئی … بھری پنچایت کے سامنے رانی بی بی کھڑی ہوئی تو سب کی نظریں جھک گئیں …
’’کیا فیصلہ ہوا ہے پنچایت کا !! بولو ! کدھر ہے جھورے کی بیٹی ؟؟
وہ گرجی اور بند کمرے کا دروازہ بری طرح پیٹ ڈالا …نکلو، باہر… بڑے سورما بنے ہو… بے گناہ ، معصوم کو پیس کر اپنی مردانگی پر مہر لگانے والے …بزدلو!!!!! باہر آؤ … میں ہوں …رانی بی بی …
پھر دھکا دیکر دروازہ کھولا اور اپنی چادر جھورے کی بیٹی پر ڈال کر اسے باہر لے آئی…
’’ خبردار ! جو کوئی ایک قدم بھی آگے بڑھا … لگتا تھا آج اگر گولی چلی تو رانی اسے اپنے سینے پر لے گی …بتاؤ مجھے …کیا ہمارے پیارے نبی صلی الله علیه وسلم نے کبھی ایسا فیصلہ صادر فرمایا تھا !!!!
کبھی ایسا کرنے کا حکم دیا تھا!!!
جنہوں نے بیٹی کو رحمت خداوندی کہا اسی کے امتی ہوکر ایسے گھناؤنے فیصلے کیونکر کر سکتے ہو …
رانی بی بی معصوم بیٹی کو ساتھ لپٹائے واپس حویلی میں چلی گئی …اس نے ظلم کا ایک باب ہمیشہ کیلئے بند کر دیا تھا ۔


