شعر و شاعری

نظم ۔ ۔ ۔ سارا شگفتہ

Spread the love

شاعرہ: سارا شگفتہ

کسی پرندے کی رات پیڑ پر پھڑپھڑاتی ہے
رات پیڑ اور پرندہ

اندھیرے کے یہ تینوں راہی
ایک سیدھ میں آ کھڑے ہوتے ہیں

رات اندھیرے میں پھنس جاتی ہے
رات تو نے میری چھاؤں کیا کی

جنگل چھوٹا ہے
اس لئے تمہیں گہری لگ رہی ہوں

گہرا تو میں پرندے کے سو جانے سے ہوا تھا
میں روز پرندے کو دلاسہ دینے کے بعد

اپنی کمان کی طرف لوٹ جاتی ہوں
تیری کمان کیا صبح ہے

میں جب مری تو میرا نام رات رکھ دیا گیا
اب میرا نام فاصلہ ہے

تیرا دوسرا جنم کب ہوگا
جب یہ پرندہ بیدار ہوگا

پرندے کا چہچہانا ہی میرا جنم دن ہے
فاصلہ اور پیڑ ہاتھ ملاتے ہیں

اور پرندے کی آنکھ کھل جاتی ہے

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *