//شعر و شاعری ماہ جون ۲۰۲۰
urdu_shairy

شعر و شاعری ماہ جون ۲۰۲۰

غمِ عاشقی تیرا شکریہ

پروین شاکر

کبھی رُک گئے کبھی چل دئیے

کبھی چلتے چلتے بھٹک گئے

یونہی عمر ساری گزار دی

یونہی زندگی کے ستم سہے

کبھی نیند میں کبھی ہوش میں

تُو جہاں ملا تجھے دیکھ کر

نہ نظر ملی نہ زباں ہلی

یونہی سر جھکا کے گزر گئے

کبھی زلف پر کبھی چشم پر

کبھی تیرے حسیں وجود پر

جو پسند تھے میری کتاب میں

وہ شعر سارے بکھر گئے

مجھے یاد ہے کبھی ایک تھے

مگر آج ہم ہیں جدا جدا

وہ جدا ہوئے تو سنور گئے

ہم جدا ہوئے تو بکھر گئے

کبھی عرش پر کبھی فرش پر

کبھی اُن کے در کبھی در بدر

غمِ عاشقی تیرا شکریہ

ہم کہاں کہاں سے گزر گئے

غمِ عاشقی تیرا شکریہ

پروین شاکر

کبھی رُک گئے کبھی چل دئیے

کبھی چلتے چلتے بھٹک گئے

یونہی عمر ساری گزار دی

یونہی زندگی کے ستم سہے

کبھی نیند میں کبھی ہوش میں

تُو جہاں ملا تجھے دیکھ کر

نہ نظر ملی نہ زباں ہلی

یونہی سر جھکا کے گزر گئے

کبھی زلف پر کبھی چشم پر

کبھی تیرے حسیں وجود پر

جو پسند تھے میری کتاب میں

وہ شعر سارے بکھر گئے

مجھے یاد ہے کبھی ایک تھے

مگر آج ہم ہیں جدا جدا

وہ جدا ہوئے تو سنور گئے

ہم جدا ہوئے تو بکھر گئے

کبھی عرش پر کبھی فرش پر

کبھی اُن کے در کبھی در بدر

غمِ عاشقی تیرا شکریہ

ہم کہاں کہاں سے گزر گئے

نعت رسول مقبولﷺ

(فوزی بٹ)

دنیائے رنگ و بو کا عنوان ہیں محمد ﷺ

پہچان دینِ حق کی ایمان ہیں محمد ﷺ

ان کے لئیے بنائی دنیا میرے خدا نے

انعام آپ رب کا احسان ہیں محمد ﷺ

دونوں جہاں میں کوئی بھی آپ سا نہیں ہے

رحمت وہ بن کے آئے  درمان ہیں محمد ﷺ

خیر البشر کا رتبہ رب نے عطا کیا ہے

ان سا نہیں ہے کوئی ذیشان ہیں محمد ﷺ

اخلاق عائشہ نے کچھ اس طرح بتائے

اوصاف میں سراپا قرآن ہیں محمد ﷺ

فرمان مصطفے پر ہیں جان ودل بھی حاضر

کہتی ہے فوزی میرا ایمان ہیں محمد ﷺ

نعت رسول مقبولﷺ

(فوزی بٹ)

دنیائے رنگ و بو کا عنوان ہیں محمد ﷺ

پہچان دینِ حق کی ایمان ہیں محمد ﷺ

ان کے لئیے بنائی دنیا میرے خدا نے

انعام آپ رب کا احسان ہیں محمد ﷺ

دونوں جہاں میں کوئی بھی آپ سا نہیں ہے

رحمت وہ بن کے آئے  درمان ہیں محمد ﷺ

خیر البشر کا رتبہ رب نے عطا کیا ہے

ان سا نہیں ہے کوئی ذیشان ہیں محمد ﷺ

اخلاق عائشہ نے کچھ اس طرح بتائے

اوصاف میں سراپا قرآن ہیں محمد ﷺ

فرمان مصطفے پر ہیں جان ودل بھی حاضر

کہتی ہے فوزی میرا ایمان ہیں محمد ﷺ

عزت نفس

امة الباری ناصر

آج پھر شام کو مہمان کوئی آئیں گے

آج پھر ماں نے کہا ہے کہ میں تیار رہوں

پہلے یہ سن کے میں مسرور ہوا کرتی تھی

خوب سج بن کے میں تیار ہوا کرتی تھی

آئینہ دیکھ کے کہتی تھی کہ ’ اللہ ری میں‘

پھر بڑے ناز سے اِٹھلا کے چلاکرتی تھی

کوئی تصویر تصور میں اتر آتی تھی

مسکراہٹ میرے ہونٹوں پہ بکھرجاتی تھی

میں کہ ماں باپ کی معصوم سی شہزادی تھی

دیکھتے دیکھتے اک ننھی کلی پھول بنی

رنگ و خوشبو میں مہکتی ہوئی شاداں رقصاں

مجھ پہ اٹھنے لگی تب بیٹوں کی مائوں کی نظر

پھرتو آنے لگے بیری پہ مسلسل پتھر

ایک کے بعد کئی ایک پھر آئے مہماں

آنے والوں نے مجھے ٹھوک بجا کر دیکھا

مجھے بازار میں بکتا ہوا کپڑا سمجھا

بھیڑ بکری کی طرح دیکھا ٹٹولا جانچا

خوب تنقید کی نظروں سے سراپا دیکھا

بعض نے تو مجھے کچھ دور چلا کر دیکھا

یہ بھی پوچھا کہ گھر اپنا یا کرایے کا ہے

یہ بھی دیکھا کہ جہیز دینے کی ہمت کیا ہے

جائیداد کتنی ہے اس بیٹی کا حصہ کیا ہے

خانداں سارا ہی کھنگال دیا باتوں میں

شاید مل جائے کوئی عیب کہیںپشتوںمیں

جانے کیا بات ہے کس کھوج میں وہ آتے ہیں

ہم پہ دو چار نئے عیب لگا جاتے ہیں

اگلے پچھلوں کو بہت باتیں بنا جاتے ہیں

کچھ تو فون کال پہ ہی رنگ دکھا جاتے ہیں

پوچھتے ہیں مری اماں سے ہزاروں باتیں

جیسے سرکار کسی جرم کی تفتیش کرے

سنتی رہتی ہیں بہت صبر سے سب کی باتیں

دیتی رہتی ہیں تحمل سے سوالوں کے جواب

بعض اصرار سے تصویر طلب کرتے ہیں

رنگ و صورت پہ ہی رشتے کی بنا رکھتے ہیں

پیارے آقا ؐ نے تو فرمایا تھا تقوی دیکھو

بعد میںدوسری چیزیں بھی مناسب دیکھو

لیکن اس بات کو ہم لوگ بھلا بیٹھے ہیں

رنگ گورا نہ ہو تو نظریں گھما لیتے ہیں

چند دن بعد وہ کہہ دیتے ہیں افسوس کے ساتھ

لڑکی اچھی ہے مگر بیٹا نہیں مانتا ہے

اس اچھی کوئی مل جائے وہ یہ چاہتا ہے

میرے بیٹے کو ابھی اور کمانا ہوگا

اپنا گھر بار سٹیٹس بھی بنانا ہوگا

اب تو اس رشتے سے انکار ہی سمجھیں اپنا

لوگ آسانی سے کہہ دیتے ہیں ایسی باتیں

عزت نفس کو اک چوٹ لگا دیتے ہیں

کتنی معصوم تمنائوں کا خوں کرتے ہیں

ہر نیا واقعہ اک درد کا در کھولتا ہے

گھرمیں مایوسی کا اندھیرا سا چھا جاتا ہے

ابا کھوئے ہوچپ چاپ سے ہوجاتے ہیں

اور کچھ سجدوں میں بڑھ جاتی ہے آہ و زاری

اماں ہر صدمے سے بے حال سی ہوجاتی ہیں

چار ہوں آنکھیں تو وہ آنکھیں چرا لیتی ہیں

درد سانجھا ہے تو پھر بانٹ کے حاصل کیاہے ؟

بات کوئی نہ ہو تو بات میں رکھا کیا ہے؟

آج پھر شام کو مہمان کوئی آئیں گے

میری امی نے کہا ہے کہ میں تیار رہوں

اک دفعہ اور مری ماں کو لگے گا دھکا

اک دفعہ اور مرے باپ کا منہ لٹکے گا

اک دفعہ اور وہ اک ہلکی سی سرگوشی میں

گلے میں گھٹتی ہوئی افسردہ سی آواز کے ساتھ

دوستوں ، جاننے والوں سے کریں گے درخواست

میری بیٹی کا خیال رکھئے دعا بھی کیجئے

اداس چہروں کی پہلے تو نفسیات سمجھ

شوکت سلطانہ احمدجرمنی

ہے روشناسئی ذات اور کائنات سمجھ

جو عشق لکھتا ہے دل پر نگارشات سمجھ

زباں سے کہنا پڑے حالِ دل تو کیا حاصل

جو ہو سکے تو دلِ بے زباں کی بات سمجھ

کتاب عشق پڑھی جائے پیش تر اس سے

لکھی ہوئی ہے جو فہرستِ واقعات سمجھ

تلاش ان کی کہا نی کی پھر کبھی کرنا

اداس چہروں کی پہلے تو نفسیات سمجھ

وہ کس طرح ہو مساوات پر عمل پیرا

امیر کے بھی توآخر تحفّظات سمجھ

عصائے موسی کی مانند راہ جاری کر

ہے نیل تیری پریکشا نہ تو فرات سمجھ

یہ زندگی جو مہر بان ہے بہت مجھ پر

بچھا رہی ہے مرے واسطے بساط سمجھ

نظر بدل نہ بدل، نظریہ بدل اپنا

خیال میں ہے نہاں سب جمالیات سمجھ

کرے جو دل پہ اثر شاعری ہے وہ شوکت

جو شعر یہ نہ کرے اس کو واہیات سمجھ

نعت رسول مقبولﷺ

(بشارت سکھی)

نور خدا کا مظہر و انوار آپؐ ہیں

تاریکیوں میں شمع ضیا بار آپؐ ہیں

لولاک جس کے واسطے آیا وجود میں

دنیائے ہست وبود  کا شہکار آپؐ ہیں

فائز ہیں آپ خلق کے اعلی مقام پر

علم وعمل میں یکتا بھی سر کار آپؐ ہیں

مجھ کو فقط سہارا نبی کے درود کا

خیرالانام آپ ہیں دلدار آپؐ ہیں

دشت وجبل ہیں وجد میں تیرے ہی واسطے

رشد و ہدی کا منبع و مینار آپؐ ہیں

عالم تمام جس کی شفاعت کا منتظر

محشر میں آپ  شافی ہیں مختار آپؐ ہیں

ہر سانس ہے سکھی کی ترے نام پر فدا

اس کے  حریم جان بھی سر کار آپؐ ہیں

کس طرح عید کا دن مناتے سکھی

طاہرہ زرتشت نازؔ

کس طرح   عید  کا  دن   مناتے سکھی

سُونے آنگن کو کیسے سجاتے  سکھی

دل فسردہ  ہو  گر میری جاں پھر بتا !

بن   پیا   عید  کیونکر  مناتے  سکھی

آس  و  امید    کا   دیپ   ہی  بجھ   گیا

روشنی   کا    دیا   کیا   جلاتے  سکھی

جانے  والے  نے  چھوڑا  نہ  کوئی   پتہ

روٹھے  ساجن  کو  ورنہ  مناتے سکھی

جب  مقدر  میں   لکھی  مسّرت   نہ   ہو

کس طرح  غم سے  دامن  بچاتے  سکھی

زرد  چادر   فضاؤں  نے   جب  اوڑھ  لی

ہم  بہاروں  کو   کیسے   بلاتے    سکھی

کوئی خواہش بیاں جب کبھی  ہم نےکی

چاند  تارے  بھی   وہ   توڑ  لاتے سکھی

یاد  آتے  ہیں  ہم   کو   وہ   دن  پیار  کے

ناز    کیا    کیا   ہمارے  اٹھاتے  سکھی

غزل

(بشریٰ سحر کولکاتا)

مرے ساتھ چلنے والا مرا ہم سفر نہیں ہے

مرے دل کا حال کیا ہے اسے کچھ خبر نہیں ہے

شب و روز جس کی خاطر میں مٹا رہی ہوں خود کو

اسے  اعتبار  لیکن  مرے  پیار  پر   نہیں    ہے

وہ نظر کہ جو بدل دے مری زندگی کی حالت

مرے دوست پہلے جیسی تری وہ نظر نہیں ہے

مجھے زندہ دیکھنا ہو تو حیات لے کے آؤ

مرے ہم نشیں بھروسہ مجھے موت پر نہیں ہے

ترے در پہ جاکے مانگوں کبھی بھیک میں خوشی کی

ہے خوشی کی مجھ کو چاہت مگر اس قدر نہیں ہے

ترے در کو ڈھونڈتے ہیں مرے بے قرار سجدے

جھکے ہر کسی کے در پر مرا سر وہ سر نہیں ہے

یہ، سحر،  سحر ہے کیسی کہ ہے چار سو اندھیرا

کرے روشنی جو پیدا یہ تو وہ سحر نہیں ہے

جو راہبر تھے بنے ہیں راہزن ، وطن کی مٹی چرا رہے ہیں

(سلمیٰ قریشی سرگودھا پاکستان )

کہیں پہ دھرنے ، کہیں پہ جلسے ،کسی کے پتلے جلا رہے ہیں

یہ آستینوں کے سانپ ہیں جو سر اپنا پھر سے اٹھا رہے ہیں

صداقتوں کے امین تھے جو ، اسیر راہ وفا ہوئے ہیں

یہ بھیڑیئے  ہیں جو بن کے انساں خود اپنے بچوں کو کھا رہے ہیں

محبتوں کو زوال آیا ، وفا سرعام بک رہی ہے

جو راہبر تھے بنے ہیں راہزن ، وطن کی مٹی چرا رہے ہیں

حصول دولت ہے ان کا ایماں، ہوس پرستی شعار ان کا

چھری بغل میں دبا کے منہ سے امن کی بنسی بجا رہے ہیں

نہ علم وانش سے ان کو رغبت ، نہ بھائی چارے سے کام ان کو

کوئی یہودی کوئی ہے ملحد ، کسی کو کافر بنا رہے ہیں

ہماری جنت نظیر دھرتی لگا کے بولی انہوں نے لوٹی

ہیں  ایک تھیلی کے چٹے بٹّے، یہ جا رہے ہیں وہ آ رہے ہیں

کہاں ہے شدّاد کی وہ جنت ، کہاں ہیں قارون کے خزانے!

کوئی رہا ہے نہ تم رہو گے، پرانے قصّے بتا رہے ہیں

حیا کی دیوی اتار چنری، وقار اپنا گھٹا رہی ہے

اسی لیے تو نظر کے تاجر ، بدن کی بولی لگا رہے ہیں

چراغ لے کے محبتوں کے کچھ ایسے لوگوں کو ڈھونڈ لاؤ

جو اب بھی اپنی روش  پہ قائم پرانی رسمیں نبھا رہے ہیں