//خواتین اسلام کی مذہبی اور علمی خدمات پر ایک طائرانہ نظر
muslim_awraten

خواتین اسلام کی مذہبی اور علمی خدمات پر ایک طائرانہ نظر

سلسلہ وار (پہلی قسط)

تاریخ اسلام کا یُوں تو ہر ورق ہی خواتین اسلام کے زرّین کارناموں سے مزّین نظر آتا ہے جسے پڑھ کر حیرت ہوتی ہے لیکن جس طرح بکھرے ہوئے جواہر پاروں کو ایک سلک میں منسلک کر دیا جائے تو اُن میں ایک نظر افروز چمک ، ایک رُوح نواز دلکشی و جاذبیت اور ایک خاص شان دلرُبائی پیدا ہو جاتی ہے، بالکل اسی نظریہ کے مدّنظر میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ کیوں نہ ہم اپنی اسلامی بہنوں کی اولوالعزمانہ مساعی کا تجزیہ کر کے اور مختلف زاویۂ نگاہ سے اُن پر سیر حاصل تبصرہ کر کے اُن محاسن کو بے نقاب کریں جو تاریخ اسلام کے بحرِ زخّار میں پوشیدہ ہیں۔ بہت ممکن ہے یہی بکھری ہوئی خوبیاں منظرِ عام پر آ کر ہمارے مطمئن افکار میں ایک ہیجان برپا کرنے اور ہمارے مُردہ قویٰ میں جوش عمل پیدا کر کے ہماری عاقبت سنوارنے کا موجب ہوں۔ اے خدا! تو ہمیں اس کی توفیق دے۔ آمین۔

مذہبی خدمات

احتساب

جو چیز مذہب کو صحیح اصول پر قائم رکھتی اور انسانی اخلاق کو اسلامی سانچے میں ڈھالے رکھتی ہے اس کو اسلامی اصطلاح میں احتساب کہا جاتا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے تین درجے مقررّ فرمائے ہیں:۔

’’من رأی منکم منکراً فلیغیرہ بیدہٖ فان لم یستطع فبلسانہٖ فان لم یستطع فبقلبہٖ و ذالک اضعف الایمان۔‘‘ (مسلم)

ترجمہ: تم میں سے جو شخص کسی ناگوار امر اور بُرائی کو دیکھے تو اعلیٰ درجہ کا ایمان تو یہ ہے کہ اسکو ہاتھ سے دُور کرے۔ اگر اس میں اس کی طاقت نہیں تو پھر زبان سے اُسے منع کرے۔ اگر اس کی بھی جرأت نہیں تو دل میں اسکو بُرا سمجھے۔ ایمان کے اِن تین درجات میںسے یہ ادنیٰ ترین ایمان کا درجہ ہے۔
تاریخ اسلام سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ رسولِ پاک صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے اِس ارشاد کی تعمیل میں کئی بااثر صحابیاتؓ نے پہلے دونوں طریقوں سے اِس مذہبی خدمت کو انجام دیا۔
ایک دفعہ حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکرؓ اپنی بہن حضرت عائشہؓ کے گھر آئے۔ نہایت عجلت کے ساتھ وضو کر کے جانے لگے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے وضو کا یہ طریق دیکھ کر اپنے بھائی کو ٹوکا کہ عبدالرحمٰن وضو اچھی طرح کیا کرو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو میں نے یہ کہتے سُنا ہے کہ وضو میں جو عضو نہ بھیگے اس پر جہنم کی پھٹکار ہو۔ (مسند جلد 6 صفحہ 385)
ایک دفعہ حضرت عائشہؓ کی بھتیجی حفصہ بنت عبدالرحمٰنؓ نہایت باریک دوپٹہ اوڑ کر سامنے آئیں۔ آپ نے دیکھتے ہی وہ دوپٹہ چاک کر دیا۔ پھر فرمایا۔ ’’تم نہیں جانتیں سورۃ نور میں خدا تعالیٰ نے احکامات نازل فرمائے ہیں۔‘‘ اِس کے بعد گاڑھے کا موٹا دوپٹہ منگوا کر اُن کو اوڑھایا۔ (اُسوقت برقعوں کا رواج نہیں تھا۔ یہی دوپٹے پردہ کا کام دیتے تھے۔ ورنہ برقعوں کے اندر باریک دوپٹے اس ارشاد کے ماتحت نہیں آتے۔)

(مؤطّا امام مالکؒ کتاب اللباس)

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضرت عائشہؓ ایک گھر میں مہمان اُتریں۔ آپ نے میزبان کی دونوں لڑکیوں کو دیکھا جنہوں نے ابھی شباب کی منزل میں قدم رکھا تھا کہ بغیر چادر اوڑھے نماز پڑھ رہی ہیں۔ آپ نے تلقین فرمائی کہ آئندہ کوئی لڑکی بغیر چادر اوڑھے نماز نہ پڑھے۔
رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کایہی ارشاد ہے۔ (مسند جلد 6 صفحہ 96)
ایک دفعہ حضرت عائشہؓ نے ایک عورت کو دیکھا کہ چادر میں حلیب کے نقش و نگار بنے ہوئے ہیں۔ آپ نے دیکھتے ہی سرزنش کی کہ یہ چادر فوراً اتار دو۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس قسم کے کپڑوں کو اگر دیکھتے تو پھاڑ ڈالتے تھے۔ (مسند جلد 6 صفحہ 140)

اشاعتِ اسلام

اشاعتِ اسلام کا کام مذہبی خدمات میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ چنانچہ ابتدائے اسلام ہی سے خواتین اسلام کی مساعی کا اس میں کافی حصہ شامل ہے۔
حضرت ام حکیمؓ بنت حارث کی شادی عکرمہؓ بن ابوجہل سے ہوئی تھی وہ خود تو فتح مکہ کے عظیم الشان روز اسلام لے آئیں لیکن ان کے شوہر ایمان لانے کی بجائے بھاگ کر یمن چلے گئے۔ حضرت ام حکیمؓ بے تاب ہو گئیں۔ انہوں نے یمن کا سفر کیا اور اپنے شوہر کو آغوشِ اسلام میں آنے کی دعوت دی۔ چنانچہ وہ مسلمان ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ دیکھ کر فرطِ مسرّت سے اُچھل پڑے۔

(مؤطّا امام مالک کتاب النکاح)

حضرت ام شریکؓ ایک صحابیہ تھیں جوآغازِ اسلام میں در پردہ قریش کی عورتوں کو اسلام کے محاسن اور خوبیوں سے آگاہ کر کے اُسکی دعوت دیتی تھیں۔ قریش کو جب امِ شریکؓ کی مخفی کوششوں کا علم ہوا تو اُن کو مکّہ سے نکال دیا۔ (اسد الغابہ تذکرہ اُم شریکؓ)
حضرت ابوطلحہؓ نے حالتِ کفر میں ہی حضرت ام سلیمؓ سے نکاح کرنا چاہا لیکن اس اسلام کی بیٹی نے اپنی ایمانی غیرت کا ثبوت دیتے ہوئے کہا کہ تم کافر ہو اور مَیں مسلمان ہوں۔ یہ نکاح کیونکر ہو سکتا ہے۔ ہاں اگر اسلام قبول کر لو تو وہی میرا مہر ہوگا اور مَیں اَور کچھ تم سے مطالبہ نہ کرونگی۔ چنانچہ ابوطلحہؓ اسلام سے آئے اور وہی اُن کا مہر قرار پایا۔ (اسد الغابہ تذکرہ حضرت زید سہل بن اسدؓ)
ایک جنگ میں صحابہ کرامؓ شدّتِ پیاس سے بیقرار ہوئے۔ پانی کی تلاش میں نکلے۔ حسنِ اتفاق سے ایک عورت مل گئی جس کے ساتھ پانی کا ایک مشکیزہ تھا۔ صحابہؓ اس کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خدمت میں لائے اور آپ کی اجازت سے اُس کے پانی کو استعمال کیا۔ اگرچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسوقت اُس عورت کو پانی کی قیمت دوا دی۔ لیکن تاہم صحابہ کرامؓ پر اس عورت کے حسنِ سلوک کا یہ اثر تھا کہ جب اُس کے گاؤں کے آس پاس حملہ آور ہوتے تو خصوصیت سے اُس کے گھرانے کو چھوڑ جاتے۔ چنانچہ وہ عورت صحابہ کرامؓ کی اس سنت پذیری سے اس قدر متاثر ہوئی کہ اُس نے اپنے تمام خاندان کو اسلام ایسی لازوال دولت کے قبول کرنے کی ترغیب دلائی۔ چنانچہ وہ سب کے سب اسلام کو قبول کر کے اس دولت سے مالا مال ہو گئے۔

بدعات کا استیصال

بدعت اسلام کے لئے ایک زہر قاتل ہے بلکہ اس کی پاکیزہ تعلیمات کو مسخ کرنے اور اسکی دلفریب شان کو نیست و نابود کرنے کے مترادف ہے۔ چنانچہ صحابیات کا یہ بھی نمایاں کردار ہے کہ انہوں نے اس قسم کی لغویات کو دُور کرنے کی پوری سعی کی مثلاًاہلِ اسلام کے دلوں میں خانۂ کعبہ کے غلاف کی جو عزت اب موجود ہے اُس کا نتیجہ یہ ہے کہ جب نیا غلاف چڑھایا جاتا ہے تو پُرانا غلاف چُرا چُھپا کر خادموں کو کچھ دے دلا کر لے لیتے ہیں اور تبرّک سمجھ کر اُس کو مکانوں میں رکھتے ہیں۔ دوستوں کو بطور سوغات کے تقسیم کرتے ہیں۔ قرآن میں رکھتے ہیں۔ مسجدوں میں لٹکاتے ہیں اور مریض کو اُس سے ہوا دیتے ہیں۔ لیکن قرنِ اوّل میں یہ حالت نہ تھی۔ متولی کعبہ صرف یہ کرتا تھا کہ غلاف کو زمین میں دفن کر دیتا تھا کہ وہ ناپاک انسانوں کے کام کا نہ رہے۔ وہ ناپاک انسانوں کے کام کا نہ رہے۔ شیبہ بن عثمان نے جو اُس زمانہ میں کعبہ کے کلید بردار تھے۔ حضرت عائشہؓ سے اس واقعہ کو بیان کیا تو وہ سمجھ گئیں کہ یہ تعظیم غیر شرعی ہے اور خدا اور اُس کے رسولؐ نے اِس کا حکم نہیں دیا۔ ممکن ہے آئندہ اس سے بدعات کا چشمہ پُھوٹے۔ اِس لئے شیبہ سے کہا یہ تو اچھی بات نہیں ہے جب غلاف کعبہ سے اتر گیا اور کسی نے اُس کو ناپاکی کی حالت میں بھی کر لیا تو کوئی مضائقہ نہیں۔ تم کو چاہیئے کہ اِس کو بیچ ڈالا کرو۔ اور اس کی قیمت غریبوں اور مسافروں کو دیدیا کرو۔ (عین المصابہ بحوالہ سُنن بہیقی)

نومسلموں کا تکفّل

اسلام کے آغاز میں جو لوگ دولتِ ایمان سے مالا مال ہوتے اور اس نُور سے اپنے سینوں کو منوّر کرتے تھے انہیں بے شمار مصائب و شدائد سے دوچار ہونا پڑتا تھا۔ اہل و عیال سے الگ ہونے کے لئے مجبور کیا جاتا۔ مال و جائیداد سے کنارہ کش ہو نا پڑتا اور فتنہ و فساد کے سیلِ بے پناہ سے ایمان کے دامن کو ملوث ہونے سے بچاتے ہوئے سلامتی کے ساحلِ مراد تک پہنچنا پڑتا۔ اِس حالات میں اشاعت اسلام کے مدّنظر سب سے بڑی خدمت یہ تھی کہ نومسلموں کو سہارا دیا جائے۔ اور اُن کی کفالت میں پوری تندہی سے کوشش کی جائے۔ ہمیں تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ صحابیات نے اِس میں نمایاں حصّہ لیا۔ حدیث میں آتا ہے کہ حضرت امّ شریکؓ نو مسلموںکی خدمت میں اسقدر کوشاں رہتیں کہ اُن کا گھر نو مسلموں کا مہمانخانہ بن گیا تھا۔ یہاں تک کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ بنت قیسؓ کو اُن کے یہاں صرف اس وجہ سے عدت بسر کرنے کی اجازت مرحمت نہیں فرمائی کہ وہاں مہمانوں کی کثرت کی وجہ سے پردہ کا انتظام ناممکن ہے۔ (مسلم کتاب الطلاق باب المطلقہ)
اِسی طرح حضرت درہؓ بنت لہب بھی اپنی فیاضی اور مسلمانوں کو کھانا کھلانے اور اُن کی خاطر و مدارات میں بہت مشہور تھیں۔ (اصابہ تذکرہ درہؓ)
اِسی طرح اور بھی بہت سے واقعات ہیں جن سے خواتینِ اسلام کے مذہبی جذبات کا پتہ چلتا ہے۔

عِلمی خدمات

 

علم تفسیر القرآن

ایک سفر میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ہار کھو گیا۔ حضرت رسول عربی (فداہ ابی و امّی) صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کی تلاش کے لئے چند صحابہؓ کو بھیجا، وہ اس کی تلاش میں مشغول ہی تھے کہ راستہ میں نماز کا وقت آ گیا۔ وہاں چونکہ پانی میسر نہ تھا۔ اس لئے صحابہؓ کو بغیر وضو کے نماز اد اکرنا پڑی۔ واپس آ کر انہوں نے حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں باوضو نماز ادا نہ کر سکنے کی شکایت کی۔ اِس پر تیمم کی آیت نازل ہوئی۔ اِس امر کو حضرت اسید بن حضیرؓ نے حضرت عائشہؓ کی بہت بڑی فضیلت سمجھا (کیونکہ قرآن کریم کی آیت کا بھی کسی کے لئے نازل ہونا بہت بڑا شرف ہے) اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف مخاطب ہو کر کہا:۔

’’جزاک اللّٰہ خیرًا فواللّٰہ ما نزل بک امر قطّ الّا جعل اللہ لک منہ مخرجًا، جعل للمسلمین فیہ برکۃً۔‘‘

خدا آپ کو اجر عظیم سے نوازے، آپ کو زندگی میں کوئی ایسا حادثہ پیش نہیں آیا۔ جس سے خدا نے آپ کو مخلصی کا راستہ نہیں بتاتا اور مسلمانوں کے لئے وہ برکت کا موجب بن گیا۔ (بخاری کتاب النکاح)
اِسی طرح حضرت زینبؓ کے نکاح کے متعلق جو آیت نازل ہوئی تھی۔ وہ اِس پر اکثر فخر کیا کرتی تھیں۔ کیونکہ قرآن مجید کی کسی ایک آیت کا بھی کسی کی شان میں نازل ہونا اس کے لئے باعثِ صد فخر و مباہات ہوتا ہے اور خدا کے نزدیک وہ ایک بلند روحانی مقام پر فائز ہوتا ہے۔
حضرت خولہؓ جو حضرت عبادہ بن صامتؓ کی اہلیہ محترمہ تھیں۔ اُن کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی تھی:۔

’’قد سمع اللّٰہ قول الّتی تجادل الی آخرہٖ‘‘

(خدا نے اس عورت کی بات سُن لی جو آپ سے جھگڑتی تھی۔)

اِس کے باعث ان کا مقام اتنا قابلِ رشک طور پر بلند ہو گیا کہ کسی حق بات کے کہنے میں وہ کسی شخصیت سے مرعوب نہیں ہوتی تھیں۔ چنانچہ ایک دفعہ حضرت عمرؓ مسجد سے تشریف لے جا رہے تھے کہ اچانک راستہ میں حضرت خولہؓ سے ملاقات ہو گئی۔ انہوں نے اُن کو سلام کیا اور پھر کہنے لگیں:۔
’’اے عمرؓ! آپ کا وہ زمانہ بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے جب بازار عکاظ میں لوگ آپ کو عمر کہہ کر پکارتے تھے اور اب آپ کو امیر المومنین کے شاندار لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ پس آپ کا فرض ہے کہ رعایا کے معاملات میں ہمیشہ خشیۃ اللہ مدّنظر رکھیں۔ آپ اس امر پر یقین رکھیں جو شخص خدا کے عذاب سے ڈرے گا۔ اُس کے لئے ہر کٹھن منزل آسان ہوجائیگی۔ اور جو موت سے ڈرے گا۔ اُس کو ہمیشہ مرنے کا خوف دامن گیر رہے گا۔‘‘
ایک شخص جو پاس ہی تھے کہنے لگے:۔ ’’بی بی! تم نے امیر المومنین کو بہت کچھ کہہ ڈالا۔‘‘
لیکن حضرت عمرؓ کو چونکہ آپ کی قدر و قیمت معلوم تھی۔ اس لئے آپ نے فرمایا:۔ ’’جانے دو! یہ خولہؓ بنت حکیم ہیں اور عبادہؓ بن صامت کی اہلیہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان کے ساتھ پردوں سے اِن کی بات سُن لی تھی۔ پھر عمرؓ کو کیا ہے جو نہ سُنے۔‘‘ (اصابہ تذکرہ خولہ بنت مالکؓ)
اِسی طرح علمی لحاظ سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نہ صرف تمام صحابیات میں بلکہ باستثنائے چند باقی تمام صحابہؓ فوقیت رکھتی تھیں اور اکابر صحابہؓ کی ہم پلّہ تھیں۔
امام زہری جو سرخیل تابعین تھے اور جنہوں نے بڑے بڑے بلند پایہ صحابہؓ کی آغوش تربیت میں علمی مدارج حاصل کئے تھے۔ فرماتے ہیں:۔

’’کانت عائشۃ اعلم الناس یسئلھا الّا اکابر من اصحاب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم‘‘

(عائشہؓ تمام لوگوں میں سب سے زیادہ عالم تھیں۔ بڑے بڑے اکابر صحابہؓ اُن سے دریافت کیا کرتے تھے۔ ) (طبقات ابن سعد جزو ثانی)

اسی طرح حضرت عبد الرحمٰن بن عوفؓ کے صاحبزادے ابو سلمہؒ جو ایک جلیل الشان تابعی تھے۔ فرماتے ہیں کہ:۔
’’مَیں نے احادیث نبوی صلعم، فقہ و رائے او ر قرآن کریم کے علم میں حضرت عائشہؓ سے بڑھ کرکسی کو نہیں دیکھا۔‘‘
ایک روز امیر معاویہؓ نے اپنے ایک درباری سے سوال کیا کہ لوگوں میں سب سے بڑا عالم کون ہے؟ اُس نے کہا۔ ’’امیر المومنین! آپ ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا۔ نہیں مَیں تمہیں قسم دیتا ہوں۔ سچ سچ بتاؤ۔ تب اُس نے کہا۔ ’’اگر یہ بات ہے تو پھر عائشہؓ۔ ‘‘ (مستدرک حاکم)
علاوہ ازیں اور بہت سی مستند کتب میں آپ کی علمی شان اور علم و فضل پر سیر حاصل تبصرے کئے گئے ہیں جن میں درج ہے کہ آپ کو قرآن، فرائض، فقہ، طب اور شاعری میں کمال حاصل تھا۔ اور اکابر صحابہؓ آپ کے سامنے زانوئے تلمّذ تہ کرتے تھے۔

(باقی آیندہ قسط میں ملاحظہ فرمائیں)