//عورت کی حیثیت
aurat_ki_haisiyat

عورت کی حیثیت

مرزا  بشیر احمد صاحب ۔ایم اے

عرب میں عورت کی حالت بحیثیت مجموعی اچھی نہ تھی ۔ بیشک عموماً عورت کو اپنا خاوند خود انتخاب کرنے کا اختیار تھا مگر اس اختیار کےبعد وہ عملاً بے اختیار تھی۔ ہاں ہوشیار عورتیں اپنے خاوند پر اچھا اثر رکھتی تھیں۔  جنگ میں عورتوں کے ساتھ جانے کا بیان کیاجا چکا ہے ان کا کام مردوں کو غیرت دلانا اور زخمیوں کی خبر گیری کرنا تھا ۔ عورتیں شعر بھی کہتی تھیں ؛  چنانچہ خنساء زمانہ جاہلیت کی ایک مشہور شاعرہ ہے جو بعد میں مسلمان ہو گئی تھی۔

عورتوں میں پردے کی رسم نہ تھی بلکہ وہ کھلی پھرتی تھیں ۔ تعداد ازدواج کی کوئی حد نہ تھی اور جتنی بیویاں کوئی شخص رکھنی چاہتا تھا رکھتا تھا۔ بعض اوقات باپ کی منکوحہ پر بیٹا وارث کے طور پر قبضہ کر لیتا تھا اور دو حقیقی بہنوں سے بھی ایک وقت میں شادی کر لیتے تھے۔ مگر ان باتوں کو اشرافِ عرب اچھی نظر سے نہ دیکھتے تھے۔ عرب میں طلاق کا عام رواج تھا اور خاوند جب چاہتا بیوی کو الگ کرسکتا تھا۔ لڑکیوں کو زندہ دفن کر دینے کی رسم بھی عرب میں تھی ۔ مگر یہ رسم خاص خاص قبائل میں تھی ،عام نہ تھی۔

لڑکیوں کو ورثہ نہ ملتا تھا اور نہ ہی بیوی کو حتی کہ اگر کسی شخص کی نرینہ اولاد نہ ہوتی تھی تو اس کے مرنے پر سب ترکہ اس کا بھائی لے جاتا تھا اور اس کی بیوی اور لڑکیاں  یونہی خالی ہاتھ رہ جاتی تھیں۔

رسوم اور رسوم پرستی

یہ ابھی بیان کیا جائے گا کہ ظہور اسلام کے وقت عرب میں بہت سے مذاہب پائے جاتے تھے جو مختلف عقائد اور مختلف خیالات کے پیرو تھے۔ لیکن عادات اور قومی اخلاق کے لحاظ سے تمام عرب گویا ایک قوم کے حکم میں تھا اور جو جو عادات اور اخلاق ہم نے اوپر بیان کی ہیں وہ سب میں نمایاں طور پر پائی جاتی تھیں؛  چنانچہ زمانۂ جاہلیت میں یثرب میں ایک یہودی رئیس فطیون تھا اس کمبخت کا یہ عام حکم تھا کہ شہر میں جس لڑکی کی بھی شادی ہو وہ پہلے اس کے گھر میں آوے۔ چنانچہ مدینہ کے اکثر یہودی اپنی ناکتخدالڑکیاں شادی کے وقت پہلے اس کے گھربھیجتے تھے اور اس کے بعد وہ کسی اور کے واسطے جائز ہوتی تھیں۔ آخر ایک غیرت مند شخص نے فطیون کو قتل کر ڈالا ۔ اسی طرح اس زمانہ میں عیسائیوں کی حالت بھی بہت خراب تھی جیسا کہ میور صاحب نے بھی اپنی کتاب میں تسلیم کیا ہے ۔ غرض عرب میں کیا بُت پرست ، کیا یہودی اور کیا نصاریٰ سب اخلاق وعادات اور قومی خصائل کے لحاظ سے ایک ہی رنگ میں رنگین تھے اور قتل و غارت ، قمار بازی ، زنا ، شراب خوری کا بازا ر ہر طرف گرم تھا۔

اسی طرح رسوم کی پابندی بھی سب میں مشترک تھی اور رسوم پرستی اس درجہ کی تھی کہ مذہب بھی اس کے سامنے ہیچ تھا۔ عجیب عجیب رسوم ملک میں پھیلی ہوئی تھیں۔ مثلاً ایک تقسیم بالا زلام کی رسم تھی۔ یعنی ایک قربانی میں دس لوگ حصہ ڈالتے تھے اور پھر اس کی تقسیم حصہ رسدی سے نہ کرتے تھے بلکہ قربانی کے تیروں سے ایک قسم کا قرعہ ڈالا جاتا تھا اور پھر اس طرح جو جو کسی کا حصہ نکلتا تھا وہ اسے مل جاتا تھا اور بعض خالی بھی رہ جاتے تھے۔ ہر تیر کا نام اور الگ الگ حصہ مقرر ہوتا تھا۔ تیروں سے فال لینے کی رسم بھی عام تھی۔ ہر کام کرتے ہوئے تیر سے فال لیتے تھے۔ کعبہ میں بھی فال کے تیر رکھے ہوئے تھے اور وہاں جا کر لوگ فال نکالتے تھے ۔ پرندوں کی اڑان سے بھی فال لینے کا دستور تھا۔

ایک عجیب رسم عرب کے بعض قبائل میں یہ تھی کہ جب کسی سفر کے اراد ے سے گھر سے نکلتے تھے تو اگر راستہ میں کسی وجہ سے واپس آنا پڑتا تھا ، تو دروازوں کے ذریعہ اندر نہ داخل ہوتے تھے بلکہ پشت کی طرف سے آتے تھے ۔ قرآن شریف میں بھی اس کی طرف اشارہ آتا ہے۔

بعض قبائل میں یہ رواج تھا کہ اگر کوئی آدمی مر جاتا تھا تو اس کی قبر کے پاس اس کے اونٹ کو باندھ دیتے تھے  حتیٰ کہ وہ بھوک پیاس سے مرجاتا تھا۔ عورتوں میں سخت نوحہ کرنے کی عادت تھی ۔ سال سال تک ماتم چلاجاتا تھا۔ عرب بالعموم عورتیں جانوروں کا دودھ نہ دوہتی تھیں اور اسے عورت کے لئے ایک عیب سمجھا جاتا تھا ۔ اگر کسی خاندان میں کوئی عورت ایسا کرتی دیکھی جاتی تھی تو وہ خاندان دوسروں کی نظروں میں گر جاتا تھا۔

جانوروں کو بتوں وغیرہ کے نام پر یا کسی نذر وغیرہ کے نتیجہ میں آزاد چھوڑ دینے کی بھی رسم تھی اور اس تعلق میں چار قسم کے جانور زیادہ معروف تھے۔ اول سائبہؔ جو ایسی اونٹنی کو کہتے تھے جس نے پے در پے دس مادہ بچے جنے ہوں۔ ایسی اونٹنی پر سواری ترک کر دی جاتی تھی ۔  اور اس کا دودھ بھی سوائے مہمانوں کے استعمال کے حرام سمجھا جاتا تھا اور اس کی اون  بھی نہیں کاٹی جاتی تھی ۔ دوسرے بحیرہؔ جو سائبہ اونٹنی کے گیارہویں مادہ بچہ کو کہتے تھے۔ بحیرہ کو اس کے کان درمیان میں کاٹ کر اس کی ماں کےساتھ آزاد چھوڑ دیا جاتا تھا۔ تیسرے حامؔ  جو ایسے اونت کا نام رکھا جاتا تھا جو اوپر تلے دس مادہ بچوں کا باپ ہو اسے سانڈ کے طور کھلا چھوڑ دیا جاتا تھا۔ چوتھے وصیلہؔ جو ایسی بکری کو کہتے تھے جو پانچ جھولوں میں مسلسل دس مادہ بچے جنتی تھی۔ ایسی بکری کی بعد کی اولاد کا گوشت صرف مرد کھاتے تھے عورتوں کے لئے حرام تھا۔ البتہ اگر ان میں سے کوئی بچہ مرجاتا تھا تو اس کا گوشت عورتیں بھی کھا سکتی تھیں ۔ قرآن شریف میں بھی ان جانوروں کا ذکرآتا ہے ۔

نکاح کے متعلق بھی عجیب عجیب رسوم رائج تھیں ۔ عموماً نکاح کی صورتیں چار تھیں جن میں سب سے عجیب اور سب سے گندی صورت یہ تھی کہ ایک عورت کے پاس یکلخت چند آدمی پہنچ جاتے تھے اور وہاں یکے بعد دیگرےاپنا منہ کالا کرتے تھے اور جب وہ کوئی بچہ جنتی تھی تو پھر یہ لوگ دوبارہ اس کے پاس جمع ہو تے تھے اور وہ عورت جس شخص کے متعلق کہہ دیتی تھی کہ بچہ اس کا ہے ، اسی کی طرف وہ منسوب ہوتا تھا۔ مگر شرفاء کا دامن اس قسم کی بے حیائیوں سے پاک تھا۔

یہ چند رسوم صرف مثال کے طور پر لکھی گئی ہیں ورنہ عرب میں رسوم کی بیحد کثرت تھی اور عجیب عجیب رسومات کا وجود پیدا ہو گیا تھا۔ اسلام نے سب گندی رسوم کو یک قلم منسوخ کر دیا۔

(سیرت خاتم النبیین ﷺ صفحہ 59تا61 مرزا  بشیر احمد ۔ایم اے )