//تاریخی معلومات حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، دوسری قسط
muhammad_saw

تاریخی معلومات حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، دوسری قسط

سلسلہ وار (دوسری قسط)

چالیس سال کی عمر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو منصبِ نبوّت عطا ہؤا۔ آپؐ نے دعوتِ اسلام شروع کی تو کفارِ مکہ نے آپؐ    کو بہت ایذائیں دینی شروع کیں اور آپؐ پر ایمان لانے والوں کو بھی ستانے لگے۔ لیکن اسلام برابر ترقی کرتا چلا گیا۔ مکہ چونکہ ایک مرکزی مقام تھا جہاں عرب کے چاروں طرف سے لوگ ہر سال حج کے لئے جمع ہوتے تھے۔ اس لئے آپؐ کا پیغام عرب کے کناروں تک پہنچ گیا۔ اِس حالت کو دیکھ کر قریش کی دشمنی کی آگ بھڑک اُٹھی۔ اس لئے انہوں نے پہلے مسلمان غلاموں کو اور پھر شرفاء کو دُکھ دینا شروع کر دیا۔

حضرت بلالؓ ایک حبشی غلام تھے، ان کا مالک انہیں دوپہر کے وقت گرم پتھروں پر لٹا دیتا اور سینہ پر گرم پتھر رکھ دیتا مگر ان کے مُنہ سے اَحَد اَحَد کی آواز ہی نکلتی۔ ان ظالموں نے بعض لوگوں کو اس قدر تکلیف دی کہ وہ جاں بحق ہو گئے۔ چونکہ ہر قبیلہ اپنے آدمیوں کو ایذا پہنچاتا تھا اس لئے فریاد کی کوئی جگہ نہ رہی۔ پانچویں سال مسلمانوں کی جمیعت پچاس کے قریب ہو گئے۔ یہ لوگ دشمنوں کے ظلم سے تنگ آ چکے تھے۔ اس لئے حضورؐ نے انہیں ہجرت کر کے حبش کے مُلک میں چلے جانے کا مشورہ دیا۔ چنانچہ گیارہ اشخاص نے جن میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور آپؓ کی بیوی رقیّہؓ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی) بھی شامل تھے حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ قریش نے ان لوگوں کا تعاقب کیا اور آخر ایک وفد نجاشی شاہِ حبشہ کے پاس بھیجا کہ یہ ہمارے مجرم ہیں انہیں واپس کر دیا جائے۔

مسلمانوں میں سے حضرت جعفر بن ابی طالب جو حضرت علی کرم اللہ وجہہٗ کے بھائی تھے جو اب کے لئے کھڑے ہوئے اور کچھ حصّہ قرآن کریم کا سورۂ مریم سے سُنایا۔ اس کا بادشاہ پر ایسا اثر ہوا کہ اس نے مسلمانوں کو قریش کے سفیروں کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔

اگلے سال حبشہ میں کچھ اَور مسلمان بھی پہنچ گئے اور اُن کی کُل تعداد 101 ہو گئی۔

مکّہ میں اسلام زور سے پھیلتا گیا۔ لیکن بعثت کے ساتویں سال تمام قبائلِ مکّہ نے ایک باہمی معاہدہ کیا۔ وہ مسلمانوں سے نہ ہی شادی بیاہ کا معاملہ کریں گے، نہ کوئی میل جول رکھیں گے، نہ خرید و فروخت کریں گے۔ یہ معاہدہ خانہ کعبہ میں لٹکا دیا گیا۔ اب مسلمان بمقام شعب ابی طالب محصور ہو گئے۔ اب تبلیغ کا کام بھی رُک گیا۔ یہ زمانہ نہایت ہی تکلیف کا زمانہ تھا۔ بچے بھوک سے بلبلاتے تھے اور بڑے بھوک کی وجہ سے گھاس پھوس کھاتے تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی نہایت کمزور و نحیف ہو گئے۔

آخر 3 سال کے بعد قریش میں سے بعض نرم دل لوگوں نے اس ظلم پر احتجاج کیا۔ ادھر عہد نامہ کو دیکھا تو اُسے دیمک کھا گئی تھی اور اس طرح سے بنی ہاشم کو آزادی ملی۔ اس قید کی وجہ سے آپ کے چچا ابوطالب اور آپؐ   کی بیوی خدیجہؓ   کا وصال ہو گیا۔

اس وقت چونکہ مکّے والے کوئی بات سُننے کے لئے تیار نہ تھے اس لئے حضوراکرمؐ طائف کی طرف چلے گئے۔ آپؐ کا غلام زید ساتھ تھا۔ حضورؐ دس دن وہاں رہے مگر کسی نے بھی کوئی بات نہ سُنی اور آپؐ   کو وہاں سے چلے جانے کو کہا گیا۔ جب حضور وہاں سے نکلے تو لوگ دُور تک حضور انورؐ پر پتھر برساتے رہے۔ حضورؐ   کی ٹانگیں لہولہان ہو گئیں۔ جب آپؐ   کسی اوٹ میں بیٹھ جاتے تو لوگ آ کر حضورؐ    کو اُٹھاتے اور کہتے کہ یہاں سے چلے جاؤ اور پھر پتھراؤ شروع کر دیتے۔

طائف سے واپس آنے کے بعد حج کے دن آئے اور حضورؐ نے ہر قبیلہ کو اسلام کا پیغام دیا۔ اس اثناء میں 6 آدمیوں نے اسلام قبول کیا اور مدینے چلے گئے۔ اس سے مدینہ میں اسلام کا چرچا ہونے لگا۔ دوسرے سال 12 آدمی مسلمان ہوئے۔ اب حضورؐ نے ایک صحابی مصعبؓ   کو تبلیغِ اسلام کے لئے مدینہ بھیجا اور اسلام بڑے زور سے مدینہ میں پھیلنے لگا۔ تیسرے سال 73 سالہ قیامِ مکّہ کے بعد حضورؐ نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ وہ تھوڑے تھوڑے کر کے مدینہ جا پہنچیں۔ چنانچہ دو ماہ کے اندر 150 مسلمان مدینہ پہنچ گئے۔ اب آپؐ صرف حضرت ابوبکرؓ اور حضرت علیؓ کے ساتھ مکّہ میں رہ گئے۔ اب حضورؐ حضرت علیؓ   کو اپنی جگہ بستر پر سُلاکر شام کی تاریکی میں حضرت ابوبکرؓ کے گھر پہنچے اور ان کو ساتھ لیکر مدینہ کی طرف چل دیئے۔ راستے میں غارِ ثور میں پناہ لی۔ ادھر ابوجہل کے ساتھیوں نے گھر کا محاصرہ کر رکھا تھا۔ صبح انہیں معلوم ہوا کہ حضور مدینہ کی طرف ہجرت فرما گئے ہیں۔ مدینہ میں پہنچ کر حضورؐ 14 دن قبا میں ٹھہرے جو مدینہ کی بیرونی آبادی ہے۔ پھر مدینہ میں وارد ہوئے۔

مدینہ میں مسجد نبوی بنوائی۔ اس مسجد کی کچی دیواریں تھیں۔ کھجور کے درخت کے ستون، کھجور کی شاخوں اور پتوں کی چھت اور کچا فرش تھا۔ اس مسجد کے پاس ایک چبوترہ تھا جہاں وہ لوگ رہتے تھے جو تعلیمِ دین کے لئے آپؐ کے پاس ٹھہرے ہوئے تھے، ان کو اصحاب الصفہ کہتے ہیں۔

حضور اقدسؐ نے دس سال مدینہ میں گزارے۔ اس زمانہ میں قریش مکّہ سے جو لڑائیاں ہوئیں ان کی تعداد 62 ہے۔ ان میں سے 35 لڑائیاں ایسی ہوئیں جن میں جیشِ اسلام کی سیادت حضورؐ نے نہیں کی۔ ان جنگوں کا نام سریہ ہے۔

27 لڑائیاں ایسی تھیں جن میں آپؐ خود بنفسِ نفیس موجود رہے۔ ان میں سے 9 غزوات ایسے تھے۔ جن میں حضورؐ    کو بھی تلوار اٹھانی پڑی۔ مثلاً غزوہ بدر، دبابد، اُحد، خندق، قریظہ، المصطلق، خیبر، حنین اور طائف۔

پہلی جنگ میں اسلام کے قائد عبیدہ بن الحارث بن المطلب بن عبد مناف تھے اور کفارِ قریش کی کمان ابوسفیان بن حرب الاموی کے ہاتھ میں تھی۔ اور سب سے پہلی لشکر کشی جس کی قیادت خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی وہ غزوۂ ودان ہے۔

جنگ حدیبیہ کے بعد حضورؐ نے اپنی چاندی کی انگوٹھی پر محمد رسول اللہ نقش کرایا۔ اور مُہر لگا کر دعوتِ اسلام کے خطوط ارد گرد کے امراء و سلاطین۔ قیصر روم۔ والئی دمشق۔ مقوقس۔ فرمانروائے مصر۔ کسریٰ شاہِ فارس۔ نجاشی شاہِ حبش۔ ملک بحرین۔ ملک عمان اور والئی یمامہ کے پاس روانہ کئے۔ ان میں سے بحرین اور عمان نے اسلام قبول کیا۔

8   ؁ ہجری میں حضور دس ہزار مجاہدین کے ساتھ مکّہ روانہ ہوئے اور بہت معمولی جنگ کے بعد آپ فاتحانہ مکّہ میں داخل ہوئے۔ فتح مکّہ کے بعد حنین، طائف اور تبوک پر تین مہمیں حضورؐ کے عہد مبارک میں روانہ ہوئی اور ان سب میں کامیابی ہوئی۔

9   ؁ ہجری میں حضورؐ نے حضرت ابوبکرؓ    کو سیادتِ حج کے لئے نامزد فرمایا اور اعلان کرا دیا کہ آئندہ کسی مشرک کو حج بیت اللہ کی اجازت نہ ہو گی۔ اس اعلان پر آج تک عمل ہو رہا ہے۔

10  ؁ ہجری میں حضورؐ نے حجۃ الوداع ادا فرمایا۔ا س میں ایک لاکھ 14 ہزار رفقاء حضورؐ کے ساتھ تھے۔ اس موقع پر حضورؐ نے دو خطبے ارشاد فرمائے اور اسی وقت یہ آیت نازل ہوئی۔

اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ۔