//خود پسندی
Selfishness

خود پسندی

. سوشل میڈیا پر ایک نظر ڈالنے سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ دنیا خود پسندی کا شکار ہو چکی ہے۔ کم سے کم سوشل میڈیا کی دنیا تو ضرور۔دماغی صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ خود پسندی اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے اور عام نظر آ رہی ہےلیکن لوگ اتنی بڑی تعداد میں خود پسندی یا نرگسیت کا شکار کیوں ہیں؟ ڈاکٹر لی کا کہنا ہے کہ یہ بیماری ہے جسپر میڈیکل کے میدان میں ابھی زیادہ توجہ نہیں دی گئی انہوں نے کہا کہ خود پسندی کا علاج آسان نہیں۔ ایک تو یہ کہ خود پسندی کے مریض دوسروں کو قصور وار ٹہراتے ہیں اور ان سے یہ منوانا کہ مسئلہ ان کے ساتھ ہے مشکل کام ہے۔

کالنز انگلش ڈکشنری کے مطابق اس کا مطلب ہے اپنے آپ خاص طور پر اپنے روپ میں غیر معمولی دلچسپی اور اس سے متاثر ہونا۔یہ اپنی اہمیت اور صلاحیتوں کے حد سے بڑھے ہوئے احساس اور اپنے آپ میں دلچسپی کا دوسرا نام ہے۔ خودپسندی کے کچھ ایسے پہلو ہیں جو کسی حد تک شاید ہم سب میں موجود ہیں لیکن زیادہ تر معاملوں میں یہ ایک بیماری کی شکل میں سامنے آتی ہے جیسے نارسیسٹک پرسنیلیٹی ڈس آرڈر (NPD) یعنی یہ خیال ہونا کہ آپ بہت اہم ہیں۔ایک برطانوی کنسلٹنٹ ڈاکٹر ٹینیسن لی کے مطابق اس بیماری کو پرکھنے کے نو نکات ہیں جو پوری دنیا میں رائج ہیں۔ خودپسندی کا مریض قرار دیے جانے کے لیے ان نو میں سے پانچ شرائط پوری ہونی چاہیں۔

(1)اپنی اہمیت کا انتہائی احساس (2)کامیابی اور طاقت کے بارے میں وہم ہونا (3)اپنے آپ کو انوکھا اور منفرد خیال کرنا (4)سراہے جانے کی حد سے زیادہ طلب (5)ہر چیز پر اپنا حق سمجھنا (6)باہمی رشتوں میں صرف اپنے بارے میں سوچنا (7)ہمدردی کے احساس کی کمی (8)ہر ایک پر رشک کرنا(9)مغرور اور گھمنڈی رویے رکھنا۔

ہم سب کے ملنے جلنے والوں میں غالباً ایسے لوگ ہوں گے جن میں ان میں سے کچھ خصوصیات موجود ہوں گی لیکن یہ بیماری کب بن جاتی ہیں؟ ڈاکٹر لی کے مطابق ایسا اس وقت کہا جا سکتا ہے جب ان خصوصیات کی وجہ یہ لوگ اپنے لیے یا دوسروں کے لیے پریشانیاں اور مشکلات پیدا کرنا شروع کر دیں۔

قومیں وقبائل فقط تعارف وپہچان کا ذریعہ ہیں مگر الّٰلہ تعالیٰ کے ہاں محترم ومکرم وہی ہے جو الّٰلہ تعالیٰ سےخوف کھاتا ہے، درج ذیل آیت کریمہ میں ان لوگوں کے لئے سخت تنبیہ ہےجو اپنی قوم،ذات اور اعلیٰ حسب ونسب کو کسی اعزاز یاافتخار کا سبب گردانتے ہوئے خودپسندی کے مرض میں مبتلا ہوجاتےہیں۔

اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتا ہے کہ:۔

یٰٓاَیہَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّاُنْثٰى وَجَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَاىِٕلَ لِتَعَارَفُوْا اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقٰىكُمْ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیمٌ خَبِیْر(الحجرات۔۱۳)

ترجمہ: اے لوگو! یقیناَ ہم نے تمہیں نر اور مادہ سے پیدا کیا اور تمہیں قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو بلاشبہ اللہ کے نزدیک تم میں سے سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے یقیناَ اللہ دائمی علم رکھنے والا اور ہمیشہ با خبر ہے۔

عن عبدالّٰلہ عن النبیﷺ قال: لَا یدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِی قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ كِبْرٍ(صحیح مسلم:147)

سیدنا عبداللہ بن مسعودسےروایت ہے کہ رسول الّٰلہﷺ نے فرمایا:جس کے دل میں ذرہ برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔

مذکورہ دلائل سے معلوم ہوتاہے اسلام نسب اور باپ دادوں پر فخر کو انتہائی ناپسندیدہ امرقرار دیتا ہے اور بہت سخت الفاظ کے ساتھ ایسے کرداروں کی حوصلہ شکنی کرتا ہے، جو قومیت اور حسب ونسب کو اختیار کرنے کے باعث خود پسند بنتا ہے وہ ان تمام وعیدوں کا مستحق ٹھہرتا ہے۔

خود پسندی کا دوسراسبب یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو بڑا سمجھے اور تکبرانہ چال چلے، جیسا کہ الّٰلہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

وَلَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(بنی اسرائیل:37)

ترجمہ:اور زمین میں اکڑ کر نہ چل کہ نہ تو زمین کو پھاڑ سکتا ہے اور نہ لمبائی میں پہاڑوں کو پہنچ سکتا ہے۔

خودپسندی وتکبر کی چال چلنے کانقصان:

سیدنا عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالیٰ بیان کرتے ہیں کہ رسول الّٰلہﷺ نے فرمایا:۔

“مَن تَعاَظَم فیِ نَفسِہ وَاختالَ فِی مَشیَتہ لقی اللہ وھو علیہ غضبان.”(أخرجہ الحاکم:1/60)

جوشخص اپنے آپ کو بڑا سمجھتا ہے اوراکڑ کر چلتاہے تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس سے ناراض ہوگا۔

یہ ہے خودپسندی وتکبر اورغرور کا نقصان کہ الّٰلہ تعالیٰ ایسے شخص پر نظر رحمت نہیں فرمائے گا بلکہ اس پر غصے میں ہوگا۔

خودپسندی اور غرور کاتیسراسبب یہ ہے کہ امراء وبادشاہوں کے ہاں پذیرائی کسی فردکا حاکم وقت یا امیر جماعت سے اچھے تعلقات اور روابط ہیں،جس کے باعث وہ شخص پھولا نہیں سماتا اور اپنے آپ میں رہتا ہے کہ جی میری توحکمرانوں کے ہاں بہت شنوائی اور رسائی ہے اس بات کو دومختلف طریقوں سے سمجھیں:

ایک یہ کہ بادشاہ کی بادشاہی اور امیر کی امارت یہ رب العزت کی عطاء اور امانت ہے، اس میں انسان کا کوئی کمال نہیں، الّٰلہ تعالیٰ قادر مطلق ہے وہ اکیلا عزت کامالک ہے جسے جو چاہے عطا کرے۔

خود پسندی اس قدر اچھی نہیں

سامنے ہر دم دھرا ہے آئینہ

(انتخاب)

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ:

’’ اخلاق انسان کے صالح ہونے کی نشانی ہے‘‘

خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے 9 جون2017 کےخطبہ میں ارشاد فرمایا کہ:۔

“ تقویٰ کے بہت سے اجزاء ہیں۔ عُجب، خود پسندی، مالِ حرام سے پرہیز اور بداخلاقی سے بچنا بھی تقویٰ ہے”

تقویٰ یہی ہے یارو کہ نخوت کو چھوڑ دو

کبر و غرور و بخل کی عادت کو چھوڑ دو

(از درثمین)

خودپسندی انسان میں پائی جانے والی عظیم آفت اورخطرناک بیماری ہے، جو انسان کو خالق کی حمد بجالانے سے ہٹا کر اپنے نفس پر اعتماد کرنے اور اسی کو سب کچھ سمجھنے پر مجبور کرتی ہے، الّٰلہ تعالیٰ کی تعریف سے توجہ ہٹاکر خود کی تعریف کرنے پر آمادہ کرتی ہے، یہ بیماری خالق ارض وسما کے سامنے عاجزی وانکساری کے بجائے کبروغرور، عجب وبڑائی اورلوگوں کے احترام اور ان کے درجات کا پاس ولحاظ رکھنے کے بجائے انہیں حقارت کی نگاہ سے دیکھنے اور ان کے حقوق کو پامال کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔

خودپسندی نام ہے اپنے آپ کو بڑھانے چڑھانے کا اپنے اعمال کو بڑا سمجھنے اور ان پر اعتماد کرنے کا۔

خودپسندی کےنقصانات: اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اس کے نتیجے میں نیک اعمال برباد ہوجاتے ہیں۔ آدمی کے اچھے اعمال اور اچھائیاں ختم ہوجاتی ہیں اور اس کے حصہ میں صرف مذمت ہی ہاتھ آتی ہے۔

امام ماوردیؒ کا قول ہے: خودپسندی سے اخلاق حسنہ غائب ہوجاتے ہیں اور خودپسندی کا مطلب ہے نفس اورذات کو شریک بنانا اور تکبر کا معاملہ ایسا ہی ہے۔ اس لئے ریاء اور خودنمائی سے کام لینے والا(اِیّاکَ نَعبد) کے مقام کو نہیں پہنچ سکتا اور خود پسندی سے کام لینے والا (ایاک نستعین) کی منزل کو نہیں پاسکتا، جس نے

 (ایاک نعبد) کو اپنی زندگی میں اپنالیا اس نے گویا اپنے آپ کو ریاء اور خودنمائی سے پاک کرلیا اور جس نے (ایاک نستعین) کی منزل طے کرلی گویا خودپسندی کی دلدل سے نکل گیا۔ابن قدامہ کہتے ہیںکہ جان لو کہ خودپسندی کبروتکبر کو دعوت دیتی ہے، اس لئے کہ خودپسندی سے کبر پیدا ہوتا ہے اور کبر کے نتیجے میں بیشمار آفتیں پیدا ہوجاتی ہیں۔اگر یہ کبر مخلوق کے ساتھ ہو۔کسی نے کیا خوب کہا ہے:

اس کے معنی خود پسندی کے سوا کچھ بھی نہیں

دل میں پیہم خواہشیں داد وفا کیا چیز ہیں

اگر کبر خالق کے ساتھ ہو تو اطاعت پر خودنمائی وخودپسندی کے نتیجے میں انسان اپنی عبادات کو بہت کچھ سمجھنے لگتا ہے، گویا وہ اپنی عبادتوں کے ذریعے الّٰلہ تعالیٰ پر احسان کررہا ہے، اور وہ الّٰلہ تعالیٰ کی جانب سے اس عمل کرنے کی توفیق کی نعمت کو بھلادیتا ہے، اور اپنی خودنمائی کی آفات میں بھٹکنے لگتا ہے، لیکن جو شخص اپنے اعمال کے رد کیے جانے سے ڈرتا ہے تو وہ اعمال کی آفتوں سے ہوشیار ہوجاتا ہے۔خود پسندی پیدا ہی اس وقت ہوتی ہے جب آدمی اپنے آپکو بڑا تصور کرنے لگے اور الّٰلہ تعالیٰ کی نعمتوں کو بھول بیٹھے اور اسے کسی اجر وثواب اور بدلے کی امید نہ ہو۔ اور خوش فہمی اور زعم کے لئے جزاء اور بدلے کی امید رکھنا ضروری ہے اس لئے آدمی کو جب قبولیت دعا کی امید ہو اور باطنی طور سے عدم قبولیت کو ناپسند کرتا ہو، ساتھ ہی ساتھ اپنی دعاء کے تعلق سے تعجب میں مبتلا ہوتو ایسا شخص اپنے علم پر خوش سمجھا جائے گا۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کی خودپسندی اور کبر وغرور سے حفاظت فرمائے، وہ ذات سننے والی اور قبول کرنے والی ہے۔حضرت خلیفة المسیح الرابعؒ فرماتے ہیں:

تم دعائیں کرو یہ دعا ہی تو تھی

جس نے توڑا تھا سر کبر نمرود کا

ہے ازل سے یہ تقدیر نمرودیت

آپ ہی آگ میں اپنی جل جائے گی

آجکل کے حالات دیکھیں کرونا اائرس جو کسی کو نظر بھی نہیں آرہی نے پوری دنیا کو لپیٹ میں لے لیا ہے جبکہ بڑے بڑے ممالک بڑے بڑے سائنسی ٹیکنالوجی کے دعوے کرنے والے بھی اس کو قابو نہیں کر سکے۔ جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ صرف خدائے واحد کی ذات ہے جو غالب ہے اور ہر چیز پر قادر ہے۔ اللہ پاک نے ہمیں کیا پیاری دعا سکھائی ہے اور اس کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میرے دل میں ڈالا گیا کہ یہ اسم اعظم ہے اور یہ کلمات ہیں جو اسے پڑھے گا ہر آفت سے نجات ہو گی۔

رَبِّ کُلُّ شَئٍ خَادِمُکَ رَبِّ فَاحْفَظْنِیْ وَالنْصُرْنِیْ وَارْحَمْنِیْ

ترجمہ: اے میرے رب ہر ایک چیز تیری خادم ہے۔ اے میرے رب پس مجھے محفوظ رکھ اور میری مدد فرمااور مجھ پر رحم فرما۔

اے اللہ ہم پر رحم فرما اور ہمیں خود پسندی جیسی آفت سے ہمیشہ دور رکھ۔ آمین۔