//آنحضرت ﷺ سے محبت کے تقاضے اور ہم
Mecca

آنحضرت ﷺ سے محبت کے تقاضے اور ہم

. نویں سال ہجری میں سرورِ کائنات آنحضرتؐ نے خانہ کعبہ کا حج فرمایا۔ اور اس دن آپ پر یہ آئت نازل ہوئی۔

اَلْیَومَ أَکْمَلْتُ لَکُم دِینَکُم وَأَتْمَمْتُ عَلَیْکُم نِعمَتِی وَرَضِیْتُ لَکُمُ الإسْلَامَ دِیْنًا (سورۃ المائدۃ 4)

ترجمہ: یعنی آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لئے مکمل کردیا ہے۔ اور جتنے روحانی انعامات خدا تعالیٰ کی طرف سے بندوں پر نازل ہو سکتے تھے۔ وہ سب میں نے تمہاری امت کو بخش دیئے ہیں۔ اور اس بات کا فیصلہ کر دیا ہے کہ تمہارا دین خالص الله تعالیٰ کی اطاعت پر مبنی ہو “

یہ آئت آپ نے مزدلفہ کے میدان میں جبکہ حج کے لئے لوگ جمع تھے سب لوگوں کے سامنے باآواز بلند پڑھ کر سنائی۔ مزدلفہ سے لوٹنےپر آپؐ حج کے قوائد کے مطابق منٰی میں ٹھہرے اور گیارھویں ذوالحجہ کو آپ نے تمام مسلمانوں کے سامنے کھڑے ہو کر ایک تقریر کی جس کا مضمون یہ تھا۔

“ اے لوگو ! میری بات کو اچھی طرح سُنو کیونکہ میں نہیں جانتا کہ اس سال کے بعد کبھی بھی میں تم لوگوں کے درمیان اس میدان میں کھڑا ہو کرکوئی تقریر کروں گا۔

 تمہاری جانوں اور تمہارے مالوں کو خدا تعالیٰ نے ایک دوسرے کے حملہ سے قیامت تک محفوظ قرار دیا ہے۔ خدا تعالیٰ نے ہر شخص کے لئے وراثت میں حصہ مقرر کردیا ہے۔ کوئی وصیت ایسی جائز نہیں جو دوسرے وارث کے حق کو نقصان پہنچائے۔ جو بچہ جس گھر میں پیدا ہو وہ اس کا سمجھا جائے گا۔ اور اگر کوئی بدکاری کی بِناء پر اس بچے کا دعوٰی کرے گا تو وہ خود شرعی سزا کا مستحق ہوگا۔

جو شخص کسی کے باپ کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرتا ہےیاکسی کو جھوٹے طور پر اپنا آقا قرار دیتا ہےخدا اور اس کے فرشتوں اور بنی نوعِ انسان کی لعنت اس پر ہے۔ اے لوگو! تمہارے کچھ حق تمہاری بیویوں پر ہیں اور تمہاری بیویوں کے کچھ حق تم پر ہیں۔ ان پر تمہارا حق یہ ہے کہ وہ عفت کی زندگی بسر کریں اور ایسی کمینگی کا طریق اختیار نہ کریں جس سے خاوندوں کی قوم میں بے عزتی ہو۔ اگر وہ ایسا کریں تو تم (جیسا کہ قرآنِ کریم کی ہدایت ہے (باقائدہ تحقیق اور عدالتی فیصلہ کے بعد ایسا کیا جا سکتا ہے) انہیں سزا دے سکتے ہو۔ مگر اس میں بھی سختی نہ کرنا۔ لیکن اگر وہ ایسی کوئی حرکت نہیں کرتیں جو خاندان اور خاوند کی عزت کو بٹّہ لگانے والی ہو تو تمہارا کام ہے کہ تُم اپنی حیثیت کے مطابق ان کی خوراک اور لباس وغیرہ کا انتظام کرو۔ اور یاد رکھو کہ ہمیشہ اپنی بیویوں سے اچھا سلوک کرنا۔ کیونکہ خدا تعالیٰ نے ان کی نگہداشت تمہارے سپرد کی ہے۔ عورت کمزور وجود ہوتی ہے۔ اور وہ اپنے حقوق کی خود حفاظت نہیں کر سکتی۔ تم نے جب ان سے شادی کی تو خدا تعالیٰ کو ان کے حقوق کا ضامن بنایا تھا۔ اور خدا تعالیٰ کے قانون کے ماتحت ہی تم ان کو اپنے گھروں میں لائے تھے۔

 پس خدا تعالیٰ کی ضمانت کی تحقیر نہ کرنااور عورتوں کے حقوق ادا کرنےکا ہمیشہ خیال رکھنا اے لوگو ! تمہارے ہاتھوں میں ابھی کچھ جنگی قیدی باقی ہیں۔ میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں۔ کہ ان کو وہی کچھ کھلانا جو تم خود کھاتے ہو۔ اور ان کو وہی پہنانا جو تم خود پہنتے ہو۔ اگر ان سے کوئی ایسا قصور ہوجائے جو تم معاف نہیں کر سکتے تو ان کو کسی اور کے پاس فروخت کر دو۔ کیونکہ وہ خدا کے بندے ہیں اور انہیں تکلیف دینا کسی صورت میں بھی جائیز نہیں۔

اے لوگو !! جو کچھ میں تم سےکہتا ہوں سنو اور اچھی طرح سےاس کو یاد رکھو۔ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔ تم سب ایک ہی درجہ کے ہو۔تم تمام انسان خواہ کسی قوم اور کسی حیثیت کے ہو انسان ہونے کےلحاظ سے ایک درجہ رکھتے ہو۔ یہ کہتے ہوئے آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ملا دیں اور کہا جس طرح ان دونوں ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں برابر ہیں اسی طرح تم بنی نوع انسان آپس میں برابر ہو۔

تمہیں ایک دوسرے پر فضیلت اور درجہ ظاہر کرنے کا کوئی حق نہیں۔ تُم آپس میں بھائیوں کی طرح ہو۔ پھر فرمایا ! کیا تمہیں معلوم ہےکہ آج کونسا مہینہ ہے؟ کیا تمہیں معلوم ہے یہ کونسا علاقہ ہے؟ کیا تمہیں معلوم ہے یہ دن کونسا ہے۔ لوگوں نے کہا ہاں ! یہ مقدس مہینہ ہے، یہ مقدس علاقہ ہے، اور یہ دن حج کا ہے۔ ہر جواب پر رسول اللہؐ فرماتے تھےجس طرح یہ مہینہ مقدس ہے، جس طرح یہ جگہ مقدس ہے، جس طرح یہ دن مقدس ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کی جان اور اس کے مال کو مقدس قرار دیا ہے۔ اور کسی کی جان اور کسی کے مال پر حملہ کرنا ایسا ہی ناجائز ہے جیسے کہ اس مہینے اور اس علاقہ اور اس دن کی ہتک کرنا۔

یہ حکم آج کے لئے نہیں، کل کے لئے نہیں، بلکہ اس دن تک کے لئے ہے کہ تم خدا سے جا کر ملو۔ پھر فرمایا ! یہ باتیں جو میں تم سے آج کہتا ہوں ان کو دنیا کے کناروں تک پہنچا دو۔ کیونکہ ممکن ہے کہ جو لوگ آج مجھ سے سن رہے ہیں ان کی نسبت وہ لوگ ان پر زیادہ عمل کریں۔ جو مجھ سے نہیں سن رہے‘‘

یہ مختصر خطبہ بتاتا ہے کہ رسولِ کریمؐ کو بنی نوعِ انسان کی بہتری اور بھلائی کا کس قدر فکر تھا۔ بنی نوعِ انسان کے امن کا کس درجہ فکر تھا۔ عورتوں، کمزوروں کے حقوق کا آپ کو کیسا خیال تھا۔آپ نہیں چاہتے تھے کہ عورتوں کو…جو زمانہ جاہلیت سے مردوں کی غلام قرار دی جاتی تھیں ان کے حقوق کو محفوظ کرنے کا حکم دینے سے پہلے آپ اس دنیا سے گزر جائیں۔ اور وہ جنگی قیدی جن کو غلام بنا کر طرح طرح کےظلم روا رکھے جاتےتھے۔ ان کے حقوق کو محفوظ کرنے سے پہلے آپ اس جہان سے گزر جائیں۔ آپ بنی نوعِ انسان کا باہمی فرق مٹا دینا چاہتے تھے جو بعض انسانوں کو تو آسمان پر چڑھا دیتا تھا اور بعض کو تحت الثریٰ میں گرا دیتا تھا۔ جو قوموں کو قوموں سے اور ملکوں کو ملکوں کے درمیان تفرقہ اور لڑائی پیدا کرنے اور اس کو جاری رکھنے کا موجب ہوتا ہے۔ آپ نے نہ چاہا کہ جب تک اس فرق، اس امتیاز کو مٹاڈالیں، دنیا سے گزر جائیں۔

ایک دوسرے کی جان و مال کو اپنے لئے جائز سمجھنا اور جو ہمیشہ ہی بد اخلاقی کے زمانہ میں انسان کی سب سے بڑی لعنت رہی ہے۔ آپ نے نہ چاہا کہ جب تک اس کو کچل نہ دیں اور انسانی جانوں و مالوں کو وہی حرمت اور وہی تقدس نہ بخش دیں۔ جو خدا تعالیٰ کے مقدس مہینوں کو اور مقدس اور بابرکت مقامات کو حاصل ہے، آپ اس دنیا سے گزر جائیں۔ کیاآج تک انسانی ہمدردی اور انسانی بہبود کے ایسے جذبہ کی مثال کہیں اور نظر آتی ہے۔ نہیں بالکل نہیں۔

سوچنے اور غور کرنے کی بات یہ ہے کہ آج وہ مسلمان جو آپؐ کی محبت کا دم بھرتے ہیں جن کو آنحضرتؐ کے آمتی ہونے کا دعوٰی ہے۔ کیا وہ آپؐ کے احکامات پر عمل کر رہے ہیں۔ نساری دنیا میں صرف غیر مسلموں کی حکومت تو نہیں ہے؟

 پچاس سےزائد اسلامی ممالک مکمل طور پر آزاد ہیں۔ وہ چاہیں تو اپنے پیارے آقا محمدؐ کی ان چند نصائع پر ہی عمل کر کے نمایاں امتیاز پیدا کر سکتے ہیں۔

دور جانے کی ضرورت نہیں اپنے وطنِ عزیز پاکستان کو ہی لےلیجئے۔ جس کا حال ہم سب کے سامنے ہے۔ اگر باقی احادیث کو سرِدست بالائے طاق رکھ کر صرف اس مشہور و معروف خطبہ حجة الوداع کو ہی پیشِ نظر رکھ کر غور کیاجائے تو کیا صرف ان میں سے کسی ایک حکم پرہمارے وطن میں عمل کیا جاتا ہے؟؟ ؟

اس کا جواب ہم سب جانتے ہیں کسی سے بھی پوشیدہ نہیں ہے۔ حکومت کے اداروں کے علاوہ بے شمار دینی مدارس ہیں۔ وہ اسلام کی سچی تعلیم و تربیت کو رائج کرنے کے لئے کیا کردار ادا کر رہے ہیں۔

 ہم ہر روز وطنِ عزیز اور اس کے مسلمانوں کی حالتِ ایمانی اپنی آنکھوں سے دیکھتے اور سنتے ہیں۔ ہر طرف رشوت بد عنوانی، بد دیانتی اور قتل و غارت گری کا بازار گرم ہے۔ جن کے پاس امانتیں رکھوائی جاتی ہیں وہ ہی خائن نکلتے ہیں۔ ملک و قوم کی دولت لوٹ کر اپنے خزانے بھرنے والے کیا مسلمان نہیں ہیں؟؟

جو سلوک اس اسلامی ملک میں عورتوں کے ساتھ ہوتا ہے وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ مسلمانوں میں سے بہت کم ایسے ہونگے جن کو اپنے رب سے باندھے گئے عہد اور اس کے ضامن ہونے کا لحاظ ہو۔ اسی طرح بیویوں کے نان نفقہ کا فکر کرنے والوں کی تعداد بھی آٹے میں نمک کے برابر ہے۔

 اور بچوں کے حقوق کی پامالی شائد ہی کسی دوسرے ملک میں اس قدر ہوتی ہو جو ہمارے وطنِ عزیز میں روا رکھی جاتی ہے۔ اس ظلم و بربریت کی داستانیں آپ سب روزانہ سنتے ہیں۔

اور نوکروں سے تو جانوروں سے بھی بد تر سلوک کیا جاتا ہے۔ ان سے ان کی طاقت سے زیادہ کام لینا۔ ان پر تشدد کے واقعات ٹی وی اور اخبارات میں آپ سب نے بھی دیکھے ہونگے۔ کوئی ان کا پرسانِ حال نہیں ہے۔

باقی رہا دوسروں کی جان ومال کی حفاظت کا معاملہ، تو وہ اس ملک میں رہنے والے کسی انسان کی بھی محفوظ نہیں ہے۔ جب کوئی جس کو چاہے اس کا مال لوٹ لے۔ کسی کی جان لے لے۔ کوئی پوچھنے والا نہیں۔ جن کے پاس پیسہ ہے وہ جس کو جب چاہیں نقصان پہنچا دیں۔ مختلف طبقات اور فرقوں میں امت بٹ چکی ہے۔

نہ اللہ تعالیٰ کاخوف ہے اور نہ ہی آنحضرتؐ کے اُسوہ کا احترام ہے مگر اس کے باوجود آپؐ سے محبت کے بُلندو بانگ دعوے کئے جاتے ہیں۔

 یہ نتیجہ ہے خدا تعالیٰ سے دوری کا۔ قرآنِ کریم کے احکامات فراموش کرنے کا۔ اور آنحضرتؐ کے اُسوہِ حسنہ کو ترک کردینے کا۔

جب یہ عمل ہونگے اور تقوٰی کا فقدان ہوگا تو دعائیں کیسے قبول ہونگی۔

ضروری تھا کہ کوئی خدا کی طرف سے آتا جو دین کی اس خرابی کو دور کر کے اصلاح کا کام سرانجام دیتا۔ اور آنحضرتؐ نے اس کی پیش خبری بھی دے دی تھی۔

آنحضرتؐ نے مسلمانوں کو مہدئِ موعود کی خبر دیتے ہوئے فرمایا تھا۔

 “ اے مسلمانوں جب تم میں مسیحِ موعود ظاہر ہو اور تم اس کو دیکھ لو تو تمہارا فرض ہے کہ تم اس تک پہنچو اور بیعت کر کے اس کے حلقہ اطاعت میں شامل ہو جاؤ خواہ تمہیں اس تک پہنچنے کے لئے برف کے یخ تودوں پر سے گھٹنوں کے بل ہی کیوں نہ جانا پڑے تم ضرور اس کے پاس پہنچو۔ کیونکہ وہ کوئی معمولی ہستی نہیں ہوگا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کا مقرر کردہ خلیفہ اور مہدی ہوگا۔ (مسند احمد بن حنبل جلد 6 صفحہ 30)

 دکھ کی بات یہ ہے محبت کے کھوکھلے دعوے تو ہم کرتے ہیں مگر عمل بالکل مفقود ہے۔ جس کی وجہ سے خدا تعالیٰ کو ہم ناراض کر چکے ہیں۔

 ہر زمانہ میں آنے والے مامور من اللہ کی قوم نے جس طرح ہمیشہ نافرمانی اور مخالفت کی تھی اسی طرح مہدی موعود علیہ السلام کی بھی نافرمانی کی گئی بلکہ قوم ان کی جانی دشمن ہوگئی اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ آپ کے دعوٰی کو ایک صدی سے بھی کچھ دہایاں اوپر گزر چکی ہیں بہت سے نیک فطرت ایمان لا کر خدا تعالیٰ کی گود میں آگئے مگر ابھی تک مسلمانوں کی کثیر تعداد آنحضرتؐ کے اِرشاد کو نظر انداز کر کےغفلت کے گناہ کی مرتکب ہو رہی ہے۔ بے شک خداتعالیٰ غضب میں دھیما ہے مگر اب اس کا غیض جوش میں ہے۔ اور آج جن حالات سےہم گزر رہے ہیں وہ اسی کا نتیجہ ہے کہ زبانی کلامی محبت کا دعوٰی تو ہے۔ مگرآپ کی تعلیم پر عمل نہیں ہے۔

 اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ وہ کسی قوم کو اس وقت تک عذاب نہیں دیتا جب تک وہ اس کی طرف اپنے مامور کو نہیں بھیج دیتا۔ اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں فرماتے ہیں :- ترجمہ

“ اور اللہ ایک ایسی بستی کی مثال پیش کرتا ہے جو بڑی پر امن اور مطمئن تھی۔ اس کے پاس ہر طرف سے اس کا رزق بافراغت آتا تھا

پھر اس کے مکینوں نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی تو اللہ نے انہیں

بھوک اور خوف کا لباس پہنا دیا ان کاموں کی وجہ سے جو وہ کیا کرتے تھے۔

اور یقینًا ان کے پاس انہی میں سے ایک رسول آیا تو انہوں نے اُسے جھٹلا دیا سو عذاب نے انہیں آپکڑا جبکہ وہ ظلم کرنے والے تھے۔ (سوره النّحل آیت 113-114)

 یہ دنیا چونکہ اب گلوبل ویلیج ہے اورایک ہی بستی ہے اس وقت سب کی سب اس عذاب کی لپیٹ میں ہے۔ حضرت مسیح موعود مہدی معہود علیہ السلام کو ساری دنیا کے لئے بھیجا گیا تھا کیونکہ آنحضرتؐ بھی ساری انسانیت کے لئے مبعوث کر کے بھیجے گئے تھے جس عذاب سے آج ہم گزر رہے ہیں یہ سلسلہ اب رکنے والا نہیں۔ بلکہ بہت مشکل حالات اس کے بعد ابھی آنے والے ہیں اس وقت ہم خوف کے عذاب میں مبتلاء ہیں۔ آئیں ہم توبہ کریں اور اپنی اصلاح کریں پیشتر اس کے کہ بھوک کا عذاب ہمیں دبوچ لے۔ بہت سی پیشگوئیاں امامِ وقت کر چکے ہیں۔ اگر ہم اب بھی اپنی اصلاح کرتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ و علیہ وسلم کے احکامات پر سرِتسلیم خم کرتے ہوئے اپنے مولیٰ کی طرف صدقِ دِل سے نہیں جھکتےتو پھر اس سے بھی برے حالات درپیش ہو سکتے ہیں۔ اللہ ہمیں صراطِ مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور ہر دکھ سے بچا لے۔ آمین

اب اسی گلشن میں لوگو راحت و آرام ہے

وقت ہے جلد آؤ !! اے آوارگانِ دشت ِ خار

(درثمین)