مرد اور عورت کے درمیان طاقت، حساسیت کا توازن
تحریر: شبنم گل
جدید دور میں شادی کا تصور بظاہر آسان اور رومانوی دکھائی دیتا ہے، مگر اس کے اندر چھپے ہوئے مسائل اور چیلنجز پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ پیچیدہ ہو چکے ہیں۔ آج کا انسان تیز رفتار زندگی، ٹیکنالوجی، بدلتی ہوئی اقدار اور بڑھتی ہوئی انفرادیت کے درمیان جی رہا ہے، جس کا براہِ راست اثر ازدواجی زندگی پر پڑتا ہے۔ شادی اب صرف ایک سماجی معاہدہ نہیں رہی بلکہ یہ ایک نفسیاتی اور جذباتی اشتراک بن چکی ہے، جس میں دونوں افراد اپنی شناخت، خواہشات اور آزادی کو بھی ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جدید دور میں شادی کے مسائل محض معاشی یا خاندانی نہیں بلکہ ذہنی، جذباتی اور سماجی سطحوں پر بھی گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔
سب سے بڑا چیلنج خودمختاری اور تعلق کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔ جدید تعلیم اور معاشی آزادی نے فرد کو خود مختار بنا دیا ہے، خاص طور پر خواتین اب اپنی شناخت، کیریئر اور فیصلوں میں زیادہ با اختیار ہو چکی ہیں۔ یہ تبدیلی مثبت ضرور ہے مگر بعض اوقات ازدواجی تعلق میں طاقت کے توازن کو متاثر کرتی ہے۔ جب دونوں افراد اپنی رائے کو حتمی سمجھنے لگتے ہیں تو انا کا تصادم پیدا ہوتا ہے، جو رشتے میں دوری کا باعث بنتا ہے۔ پہلے کے معاشروں میں برداشت اور سمجھوتہ زیادہ تھا، جبکہ آج کے فرد میں خودی کا شعور زیادہ ہے، جس کی وجہ سے معمولی اختلافات بھی بڑے مسائل کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔
سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل دنیا بھی ایک بڑا عنصر بن چکی ہے۔ آن لائن زندگی نے انسان کے ذہن میں غیرحقیقی توقعات پیدا کر دی ہیں۔ لوگ دوسروں کی خوشحال اور خوبصورت ازدواجی زندگی کو دیکھ کر اپنی زندگی کا موازنہ کرتے ہیں، جس سے عدم اطمینان جنم لیتا ہے۔ مسلسل موازنہ اور توجہ کی طلب ازدواجی رشتے میں بےاعتمادی، حسد اور دوری پیدا کرسکتی ہے۔ بعض اوقات سوشل میڈیا پر جذباتی یا غیر مناسب روابط بھی ازدواجی تعلقات کو متاثر کرتے ہیں، جسے جدید نفسیات میں ”emotional infidelity“ کہا جاتا ہے۔
معاشی دباؤ بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور کیریئر کے تقاضے انسان کو ذہنی دباؤ میں مبتلا رکھتے ہیں۔ جب فرد ذہنی طور پر تھکا ہوا ہو تو وہ رشتے کو وقت اور توجہ نہیں دے پاتا، جس سے غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں۔ جدید معاشروں میں دونوں میاں بیوی کا کام کرنا عام ہو گیا ہے، جس سے وقت کی کمی اور گھریلو ذمہ داریوں کی تقسیم کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ اگر ان ذمہ داریوں کو منصفانہ طریقے سے نہ بانٹا جائے تو رنجشیں بڑھنے لگتی ہیں۔
نفسیاتی سطح پر بھی کئی چیلنجز سامنے آتے ہیں۔ جدید انسان زیادہ حساس اور خود آگاہ ہو چکا ہے، مگر ساتھ ہی وہ ذہنی دباؤ، اضطراب اور ڈپریشن کا بھی شکار ہے۔ یہ مسائل براہِ راست ازدواجی تعلق پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اگر ایک فرد ذہنی طور پر غیر متوازن ہو تو دوسرا فرد بھی اس کا بوجھ محسوس کرتا ہے۔ اس حوالے سے ماہرِ نفسیات جان گوٹ مین (John Gottman) کی تحقیق یہ بتاتی ہے کہ کامیاب شادی کا دار و مدار اس بات پر ہے کہ میاں بیوی اختلافات کو کیسے سنبھالتے ہیں، نہ کہ اس بات پر کہ وہ کتنی بار اختلاف کرتے ہیں۔ ان کے مطابق تنقید، تحقیر، دفاعی رویہ اور بات چیت سے گریز ایسے عوامل ہیں جو شادی کو کمزور کرتے ہیں۔
خاندانی نظام کی تبدیلی بھی ایک اہم پہلو ہے۔ پہلے مشترکہ خاندان کا نظام تھا جہاں بزرگ رہنمائی کرتے تھے اور مسائل کو حل کرنے میں مدد دیتے تھے، مگر آج کل nuclear family کا تصور عام ہے۔ اس تبدیلی نے آزادی تو دی ہے مگر ساتھ ہی تنہائی اور عدم رہنمائی کا مسئلہ بھی پیدا کیا ہے۔ نوجوان جوڑے اکثر چھوٹے مسائل کو سنبھالنے کی صلاحیت نہیں رکھتے کیونکہ انہیں تجربہ اور رہنمائی حاصل نہیں ہوتی۔
ثقافتی اقدار میں تبدیلی بھی ازدواجی زندگی کو متاثر کر رہی ہے۔ جدید معاشرہ فرد کی خوشی کو ترجیح دیتا ہے، جبکہ روایتی معاشرہ رشتے کو اہمیت دیتا تھا۔ اس تبدیلی کی وجہ سے لوگ اب رشتے کو برقرار رکھنے کے بجائے اپنی ذاتی خوشی کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ طلاق کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر رشتے میں مشکلات آتی ہیں تو لوگ انہیں برداشت کرنے کے بجائے علیحدگی کو آسان حل سمجھتے ہیں۔
شادی سے پہلے کی توقعات بھی ایک بڑا مسئلہ ہیں۔ فلمیں، ڈرامے اور ناول ایک مثالی محبت کا تصور پیش کرتے ہیں، جو حقیقت سے مختلف ہوتا ہے۔ جب حقیقت ان توقعات کے مطابق نہیں ہوتی تو مایوسی پیدا ہوتی ہے۔ شادی ایک مسلسل عمل ہے جس میں محبت وقت کے ساتھ بدلتی ہے، مگر جدید فرد فوری خوشی اور تسکین چاہتا ہے، جو ہمیشہ ممکن نہیں ہوتی۔
سماجی سطح پر بھی کئی تبدیلیاں آئی ہیں۔ عورت کے کردار میں تبدیلی، مرد پر بڑھتا ہوا معاشی دباؤ، اور صنفی مساوات کی بحث نے ازدواجی تعلق کو نئے سوالات کے سامنے کھڑا کر دیا ہے۔ اگر ان تبدیلیوں کو سمجھداری سے نہ اپنایا جائے تو رشتہ کشیدگی کا شکار ہو سکتا ہے۔ سماجیات کے ماہرین کے مطابق جدید شادی ایک ”negotiated relationship“ بن چکی ہے، جہاں ہر چیز بات چیت اور باہمی رضامندی سے طے ہوتی ہے، مگر اس کے لیے جذباتی بلوغت اور برداشت ضروری ہے۔
ان تمام چیلنجز کے باوجود شادی اب بھی ایک مضبوط اور اہم ادارہ ہے، بشرطیکہ اسے سمجھداری، صبر اور شعور کے ساتھ نبھایا جائے۔ جدید دور میں کامیاب ازدواجی زندگی کے لیے ضروری ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کو بدلنے کے بجائے قبول کریں، کھلی گفتگو کو اپنائیں، اور اختلافات کو مثبت انداز میں حل کریں۔ جذباتی ذہانت، یعنی اپنے اور دوسرے کے جذبات کو سمجھنے کی صلاحیت، اس رشتے کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
مرد کی حاکمیت اور عورت کی حساسیت کو متوازن انداز میں سنبھالنے کے لیے سب سے اہم چیز باہمی احترام اور شعور ہے۔ اگر مرد اپنے اختیار کو برتری یا حکم چلانے کے بجائے ذمہ داری اور تحفظ کے طور پر سمجھے، اور عورت اپنی حساسیت کو کمزوری کے بجائے جذباتی بصیرت کے طور پر استعمال کرے تو رشتہ زیادہ مضبوط ہو سکتا ہے۔ ضروری ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے احساسات، حدود اور رائے کو اہمیت دیں، کھل کر بات کریں اور فیصلے مسلط کرنے کے بجائے باہمی مشاورت سے کریں۔ اس طرح نہ مرد کی انا مجروح ہوتی ہے اور نہ عورت کی حساسیت نظر انداز ہوتی ہے، بلکہ رشتہ توازن، اعتماد اور محبت کی بنیاد پر پروان چڑھتا ہے۔
پاکستان میں طلاق کی شرح حالیہ برسوں میں خاص طور پر بڑے شہروں جیسے کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں تیزی سے بڑھتی ہوئی نظر آتی ہے۔ اس اضافے کی اہم وجوہات میں معاشی دباؤ، بے روزگاری، سوشل میڈیا کا اثر، بدلتی ہوئی سماجی اقدار اور میاں بیوی کے درمیان موثر رابطے کی کمی شامل ہیں۔ خواتین کی بڑھتی ہوئی خودمختاری نے جہاں مثبت تبدیلیاں پیدا کی ہیں، وہیں بعض اوقات روایتی ذہنیت کے ساتھ ٹکراؤ بھی پیدا ہوتا ہے، جو تنازعات کو بڑھاتا ہے۔ ماہرینِ سماجیات اور نفسیات کے مطابق برداشت، مکالمہ اور باہمی سمجھ بوجھ میں کمی طلاق کے بڑھتے ہوئے رجحان کی بڑی وجہ ہے، اور اس مسئلے کے حل کے لیے شعور، تربیت اور کونسلنگ کو فروغ دینا نہایت ضروری ہے۔
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔


