اتنا آساں نہیں قطرہ سے گوہر ہو جانا
اتنا آساں نہیں قطرہ سے گوہر ہو جانا
سب ستاروں کے لئے ایک قمر ہو جانا
یوں نہ مانے گا زمانہ تیری آشفتہ سری
تم زمانے کے لئے ایک خبر ہو جانا
آج بھی یاد ہے گلشن میں خزاں کا موسم
کتنا دشوار ہے ہر شاخ پہ گھر ہو جانا
اب ہر اک دل میں قیامت ہی قیامت برپا
تم جہاں چاہو وہیں دیدہ تر ہو جانا
بے بسی اس بڑی اور ضیاء کیا ہو گی
اپنا گھر ہوتے ہوئے دربدر ہو جانا
فرحت ضیاء راٹھور

