//اُمّ المؤمنین حضرت حفصہ ؓ( قسط دوم)
Hafsa

اُمّ المؤمنین حضرت حفصہ ؓ( قسط دوم)

. روایات حدیث

آنحضرت ﷺ سے حضرت حفصہؓ نے بہت کچھ سیکھا جسے انہوں نےاپنی روایات اور احادیث میں بیان کیا ہے۔ ساٹھ کے قریب ایسی روایات اور احادیث موجود ہیں۔ حضرت حفصہ ؓ نے بھی اپنے والدحضرت عمر ؓ کی طرح روایات بیان کرنے میں بہت احتیاط سے کام لیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ حضرت عائشہ ؓ کی طرح آپ ؓ کی بھی بہت زیادہ روایات نہیں ہیں۔

تاہم جو روایات ہیں ان سے آپؓ کے علمی مقام کا بھی خوب اندازہ ہوتا ہے۔ان روایات میں آنحضرت ؐ کے گھریلو احوال بھی آپؓ نے بیان فرمائے ہیں۔کبھی آپؓ نے حضور ﷺ سے کوئی علمی مسئلہ دریافت کیا تو اس کابھی ذکر کیاہے۔ایک دفعہ انہوں نے اپنے بھائی حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی خواب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بیان کرکے تعبیر چاہی تھی۔حضور ﷺنے فرمایا “تمہارا بھائی عبد اللہ بن عمر ؓ بہت ہی اچھا انسان ہے۔ کاش ! وہ رات کو نماز تہجد کا اہتمام کیا کرے۔ حضرت حفصہ ؓ نے یہ پیغام اپنےبھائی کو پہنچایا تو وہ بڑی استقامت سے تہجّد پر قائم ہو گئے۔

رسول اللہﷺ کے معمولات اور عبادت کا تذکرہ اور اس کی پیروی

حضرت حفصہ ؓ، حضورؐ کی پاکیزہ سنت بیان کرتے ہوئے فرماتی تھیں کہ رسول ﷺ کے سونے کا طریق یہ تھا کہ دایاں ہاتھ آپ ؐ دائیں گال کے نیچے رکھ کر دائیں پہلو ہو کر لیٹتے تھے۔اور سوتے وقت یہ دعا بھی کرتے تھے رَبِّ قِنِى عَذَابَكَ یوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ۔اے میرے ربّ مجھے اس دن اپنے عذاب سے بچانا اور محفوظ رکھنا جس دن اپنے بندوں کو تو اُٹھائے گا۔

حضرت حفصہ ؓنے رسول کریم ؐ کے بعض اور معمولات یہ بیان کئے کہ آنحضرت ﷺ نے چار چیزوں کو کبھی نہیں چھوڑا،جن کا آپؐ خاص اہتمام فرمایا کرتے تھے ایک عاشورہ یعنی دسویں محرم کا روزہ،دوسرے عشرہ ذوالحجہ کے روزے،تیسرے ہرمہینے میں تین روزے بالعموم سوموار، جمعرات اور بدھ کو اور نماز فجر سے پہلے دو رکعتیں۔

آنحضرت ﷺ کی پاکیزہ صحبت میں رہتے ہوئے حضرت حفصہ ؓ نے آپ ؐ کی عبادات کا طرز عمل بھی خوب اپنایایہاں تک کہ رسول اللہﷺ کو خدائے عالم الغیب کی طرف سے ان کی زندگی میں ان کےعبادت گزار ہونے کی سند عطا ہوئی۔آخری عمر میں بھی آپؓ کثرت سے روزے رکھتی رہیں اور وفات تک مسلسل اس کی توفیق ملی۔

حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ نبی کریمﷺ رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرماتے تھے۔ میں حضورﷺ کا خیمہ تیار کرتی تھی۔ایک دفعہ حضرت حفصہ نے بھی مجھ سے پوچھ کر اپنا خیمہ لگالیا۔ان کی دیکھا دیکھی حضرت زینب بنت جحش نے بھی اپنا خیمہ لگوالیا۔ صبح رسول اللہﷺ نے مسجد میں کئی خیمے لگےدیکھے تو پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ جس پر ان ازواج کے بارہ میں بتایا گیا (جن کے خیمےتھے)توآپ ؐ نے فرمایا کہ انہیں کس چیز نے اس بات پر آمادہ کیا۔کیا نیکی نے؟ان خیموں کو اٹھا دو۔ اوریہ مجھے نظر نہ آئیں۔پھر اس سال آپؐ نے رمضان میں اعتکاف نہیں فرمایابلکہ شوال کے دس دن اعتکاف میں گزارے۔

آپ ؓ بیان کرتی ہیں کہ آنحضرت ﷺ کو میں نے ہمیشہ کھڑے ہو کر رات کی عبادت کرتے دیکھا ہے۔البتہ وفات سے ایک سال پہلے بُڑھاپے میں بدن کے بھاری ہو جانے کی وجہ سے بیٹھ کر تہجد کی نماز پڑھنے لگے اس میں آپ ؐ لمبی تلاوت کرتے تھے۔ آپ ؐ کی قرأت بہت خوبصورت ہوتی تھی؟کسی نے پوچھا کہ حضورﷺکی وہ قراأت کیسی ہوتی تھی۔ حضرت حفصہ ؓ نے فرمایا کہ تم لوگ اس کی طاقت نہیں رکھتے، قرآن کو دلآویزی سے ٹھہر ٹھہرکر اس طرح پڑھو جیسے آنحضرت ﷺ پڑھا کرتے تھے اور پھر سورہ فاتحہ کی آیات خوش الحانی سے پڑھ کر سنائیں اور ہر آیت کے بعد وقف کرتے ہوئے آپ ؓ نے بتلایا کہ اس طرح آنحضرت ﷺ کی خوبصورت تلاوت ہوتی تھی۔ :

آخری عمر میں تہجّد کی نماز بیٹھ کر ادا کرنے کے بارہ میں حضرت عائشہ ؓ کی روایت میں مزید وضاحت ہے کہ بڑھاپے کی عمر میں رسول اللہ ﷺ بیٹھ کرقرأت کرنے لگے مگر بعض دفعہ جب سورت کی تیس یا چالیس آیات باقی رہ جاتیں تو آپؐ کھڑے ہوکر تلاوت کرتے اور پھر رکوع میں جاتے۔ ;

امام بخاری نےبعض دیگر روایات سے تطبیق کرتے ہوئے اس روایت کو قیام رمضان کے باب میں لاکر یہ اشارہ کیا ہے کہ ایسا صرف آخری عمر میں رمضان میں ہوتا تھا۔

آنحضورؐعبادت الہٰی کی خاطر آرام طلبی ہر گز پسند نہ کرتےتھے۔اسکے باوجود حضرت حفصہ ؓ آنحضرتؐ کے آرام اور راحت کا بہت خیال رکھتی تھیں۔ ایک رات حضرت حفصہؓ نے آنحضرتؐ کے بستر کو نرم کرنے کیلئے اس کی چارتہیں کردیں۔ صبح آپ ؐنے فرمایا “رات تم نے بستر میں جو تبدیلی کی تھی۔ اسے اکہرا کردو اس نے مجھے نماز سے روک دیا ہے۔”< جیسا کہ الفاظ سے ظاہر ہے کہ اس رات حضرت حفصہؓ نے رسول اللہﷺکےبستر کی (جو پشم کا تھا) مزید دوتہیں کردیں۔معلوم ہوتا ہے اس پر کھڑے ہوکر نماز پڑھتے ہوئے توازن برقرار رکھنے میں دشواری ہوئی ہوگی۔جس پر آپؐ نے اسے پہلی حالت میں لوٹا دینے کیلئے فرمایا۔

علمی شوق اورذوق ِتدبّر قرآن

حضرت حفصہ ؓکے علمی ذوق کا جہاں تک تعلق ہے۔اس کا اندازہ اس واقعہ سے ہوتا ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت ؐ نے اپنے بدری صحابہ اور حدیبیہ میں شریک ہونے والے صحابہ کی تعریف کی۔بدر کے تین سو تیرہ اصحاب کے متعلق فرمایا کہ اِعْمَلُوا مَا شِئتُم فَقَد غَفَرتُ لَكُم کہ اب جو چاہو کرو میں نے تمہیں بخش دیا۔ رسول اللہؐ نے ایک موقع پر فرمایا کہ” ان باتوں کی وجہ سے میں امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ بدریوں اور اہل حدیبیہ میں سے کسی کو دوزخ کی آگ میں نہیں ڈالےگا۔ اگر اللہ چاہے تو مجھے امیدہے کہ ایسا ہی ہوگا”۔حضرت حفصہؓ نے اس بارہ میں ایک موقع پر سوال کیا”یا رسول اللہؐ! پھر قرآن شریف کی اس آیت کا کیا مطلب ہے وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا كَانَ عَلَى رَبِّكَ حَتْمًا مَقْضِیا(مریم:72) کہ تم میں سے ہر ایک فرد کےلئے جہنم کو جھیلنا اور بھگتنا ضرور ہے اس کا کیا مطلب ہے؟”آنحضرتؐ  نے کیا خوبصورت جواب دیا فرمایا “اےحفصہؓ !کیا تم نے اس سے اگلی آیت میں یہ نہیں پڑھا۔ ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِینَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِینَ فِیهَا جِثِیا۔ (مریم :73) کہ جو تقویٰ اختیار کرنیوالے ہیں ان کو ہم نجات دے دیں گے۔اور جو ظالم ہیں جہنم میں پڑے رہ جائیں گے”حضرت مسیح موعودؑ نے اس آیت کی یہ لطیف تفسیر بھی بیان کی کہ”اس بیان سے مراد یہ ہے کہ متقی اس دنیا میں جو دارالابتلاء ہے انواع اقسام کے پیرایہ میں بڑی مردانگی سے اس نار میں اپنے تئیں ڈالتے ہیں اور خدا تعالیٰ کیلئے اپنی جانوں کو ایک بھڑکتی ہوئی آگ میں گراتے ہیں اور طرح طرح کے آسمانی قضاء وقدر بھی نار کی شکل میں ان پروارد ہوتے ہیں وہ ستائے جاتے اوردُکھ دئیے جاتےہیں اور اس قدر بڑے بڑے زلزلے ان پرآتے ہیں کہ ان کے ماسوا کوئی ان زلازل کی برداشت نہیں کرسکتا۔ بہرحال حضرت حفصہ ؓ جوقرآن شریف کی حافظہ تھیں وہ کس غور اور تدبر سے اس کا مطالعہ کرتی تھیں اس کا اندازہ اس سوال سے خوب ہوجاتا ہے۔

بعض دوسری روایات میں بھی اس علمی نکتہ کی مزید تفصیل مذکورہے کہ اللہ تعالیٰ کے مومن بندوں کو اس دنیا میں جو بخار وغیرہ آجاتا ہے اور بعض اوقات شدید گرمی کی تپش برداشت کرنی پڑتی ہے اس کے متعلق آنحضرتﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ یہ بخار کی حدّت بھی تو جہنم کی ایک جھلس اور لپٹ ہے۔

دنیا میں پہنچنے والے دکھوں اور تکلیفوں کے ذریعے اللہ تعالیٰ مومنوں کے گناہوں کا ازالہ کرتا رہتا ہے اور ان مصیبتوں کو کوتاہیوں کےکفارہ کا ذریعہ بنا دیتا ہے۔اور مومن کے بہت سے امتحانی مراحل اسی دنیا میں بآسانی طے ہو جاتےہیں۔ چنانچہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ بخار بھی جہنم کی ایک لپٹ ہی ہے۔

 حضرت حفصہؓ کا علمی شغف اس واقعہ سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔کہ ایک دفعہ آنحضرتؐ کے پاس شفانامی ایک خاتون بیٹھی ہوئیں تھیں۔ انکے بارہ میں مشہور تھا کہ وہ زہریلے کیڑے کے کاٹنے کا دم وغیرہ کرتی ہیں جووہ آنحضرتؐ کو بتا رہی تھیں۔ حضورﷺ نے فرمایا یہ آپ حفصہؓ کو بھی سکھا دو چنانچہ حضرت حفصہؓ نے وہ دم ان سے سیکھا۔

دیگر اعزاز وخدمات

حضرت حفصہؓ کو حضور ﷺ کے ساتھ حجة الوداع میں بھی شرکت کی توفیق ملی۔اس کے بعض حالات بھی آپ ؓ نے بیان کئے ہیں کہ کس طرح اس سفر میں آنحضرت ؐ نے تمام مناسک حج ادا فرمائے۔

قرآن شریف کے لغت قریش میں جاری و قائم کرنے کے سلسلہ میں بھی حضرت عثمانؓ کے ارشاد کی تعمیل میں حضرت حفصہؓ کا تعاون اور خدمات شامل ہیں۔حضرت ابوبکرؓ کے زمانہ میں قرآن شریف کے جمع وتدوین کا کام تو حضرت زیدؓ بن ثابت اور صحابہ ؓ کی ایک کمیٹی کے ذریعہ مکمل ہوا۔جس کے صحیفے حضرت ابوبکرؓ کے پاس رہے۔حضرت ابوبکرؓ کی وفات کے بعد حضرت عمرؓ کے پاس یہ صحیفہ آیا اور ان کی وفات کے بعد حضرت حفصہؓ کے پاس موجود تھا۔

حضرت عثمان ؓ کے زمانہ میں شام وعراق میں جنگوں کے دوران بہت سارے حفاظ بھی شہید ہوگئے اور شام و عراق کے لہجہ میں فرق کے باعث حضرت حذیفہ ؓنے حضرت عثمان ؓ کو قریش کی زبان میں قرآن جمع کرنے کی طرف توجہ دلائی تا کہیں یہود ونصاریٰ کی طرح امت محمدیہؐ بھی اختلاف کا شکار نہ ہوجائے۔ حضرت حفصہ ؓ کے پاس قرآن کے تحریری صحیفے موجود تھے۔حضرت عثمان ؓ نے انہیں کہلا بھیجا کہ آپؓ وہ صحیفے میرے پاس بھیج دیں ہم ان صحیفوں کو (قریش کی لغت کے مطابق) نقل کرا کر پھر آپؓ کو واپس کردیں گے۔حضرت حفصہ ؓ نے یہ صحیفے حضرت عثمان ؓکو بھیج دیئے انہوں نے قریشی صحابہؓ سے نقل کروانےکے بعد وہ صحیفے حضرت حفصہؓ کو واپس بھجوا دیئے اور نقل شدہ مصاحف میں سے ایک ایک تمام علاقوں میں بھیج دیئے اور حکم دیا کہ اس کے سوا جو قرآنی صحیفہ ہے اسےجلا دیا جائے۔حضرت حفصہؓ کی وفات کے معاً بعد مروان بن الحکم امیر مدینہ نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ کےذریعہ حضرت حفصہؓ والے صحیفے منگوا کر ازراہِ احتیاط ضائع کردئے تاکہ لوگ مصحف عثمانی کے بارہ میں کسی شبہ میں مبتلا نہ ہوں۔حضرت حفصہ ؓ نے وفات سے پہلے اپنےاموال کی وصیت اپنے حقیقی بھائی حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے حق میں کی۔ غابہ(مدینہ کے قریب ایک مقام) کی کچھ زمین حضرت عمر ؓ آپ کی تحویل میں دے گئے تھے وہ باقی بچ رہی تھی اسے بھی آپ ؓ نے صدقہ کر دیا۔

حضرت حفصہؓ کو یہ سعادت بھی حاصل ہے کہ غزوہ بدر میں آپ کے عزیزوں میں آنحضورﷺ کے علاوہ چھ اصحاب رسول بھی شامل ہوئے جو آپ کے قریب ترین عزیز تھے۔ان اصحاب ؓ میں آپؓ کے والد حضرت عمرؓ، آپ کے چچا حضرت زیدؓ، آپ کے تین ماموں حضرت عثمان ؓ،حضرت عبداللہؓ،حضرت قدامہؓ اورایک ماموں زاد بھائی حضرت سائب ؓ شامل ہیں۔

ایک اعتراض کا جواب

پادری وھیری نے اس آیت پر بعض بے بنیاد او رکمزور تفسیری روایات کو بنیاد بنا کر اس جگہ سیل (Sale) کے حوالہ سے یہ اعتراض کیا ہے کہ دراصل محمد(ﷺ) نے اپنی لونڈی ماریہ ؓ کے ساتھ حضرت عائشہ ؓ یا حفصہ ؓ کی باری والے دن صحبت کی۔ حضرت حفصہ ؓ نے اس کا بہت برا منایا تو انہیں منانے کیلئے آپؐ نے اس لونڈی کے پاس کبھی نہ جانے کا عہد کر لیا۔ اورسورة تحریم آپ ؐ کو اس معاہدہ سے آزاد کرنے کیلئے اتار لی گئی۔پھر خود ہی پادری وہیری نے اس سورة کے شان نزول کی وہ مشہور اور مستند دوسری روایت جو شہد کا شربت پینے کے بارہ میں ہےنقل کی ہے جس کا ذکر ہوچکا ہے اور جس سے خودبخودپہلی روایت کا ر د ہو جاتا ہے۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ حضرت ماریہ ؓ والی روایت کے راویوں میں سے کسی نے بھی یہ واقعہ خود حضرت حفصہ ؓ یا آنحضور ﷺ کی کسی اور زوجہ مطہرہ سے بیا ن نہیں کیا جو اس کی عینی شاہد تھیں۔

ازواج کی تربیت

جہاں تک مسٹر کینن کے ازواج کے باہمی رقابت کے اعتراض کا تعلق ہے تو جہاں ایک سے زائد ازواج ہوں وہاں رقابت کی کیفیت ایک طبعی اور قدرتی بات ہے بلکہ اس نسوانی فطرتی جذبہ کا فقدان باعث تعجب ہوتا۔مسٹر کینن اگر تعصّب کے بغیر غور کرتے تو ازواج مطہرات میں باہم حسن ِ سلوک اور اس رقابت کا ایک دائرہ اخلاق کے اندر رہنا قابل تحسین فعل بھی ہے۔ اور اس سے آنحضرت ؐ کے اخلاق فاضلہ، وسعت ِ حوصلہ اور ازواج کے انداز تربیت کا بھی پتہ چلتا ہےکہ آپؐ ہر جائز اور ممکنہ حد تک اپنی بیویوں کے جذبات کا خیال رکھ کر ان کو خوش رکھنا چاہتے تھے۔لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آپ ازواج کی ناجائز بات بھی مان لیاکرتے تھے۔ بلکہ روایات سے پتاچلتاہے کہ دینی مصالح کے خلاف کسی کا کوئی بھی مشورہ ہوتا تو آنحضرت ؐاسے ہرگز قبول نہ فرماتے۔بلکہ سختی سےاس سے منع فرما دیتے۔ ترک ِشہد کا معاملہ چونکہ آنحضورؐ کی ذاتی قربانی اور ایثار سے تعلق رکھتاتھا اس لئے آپؐ ازواج کی خوشی کی خاطر اپنی ذات کی قربانی کے لئے آمادہ ہو گئے۔تب اللہ تعالیٰ کو اپنے محبوب کی غیرت آئی اورارشاد ہوا کہ آپؐ کیوں بیویوں کی رضا کی خاطر اس چیز کو حرام کرتے ہیں جو اللہ نے آپؐ پر حلال کی ہے آپؐ بیویوں کی باتیں جس حد تک سنتے اور برداشت فرماتے تھے۔ اس پر ازواج مطہرات کے عزیز و اقارب کو بھی تعجب ہوتا تھا جیسا کہ عمرؓ کوہوا۔مگر آنحضرتؐ نے کبھی اس کا برُا نہیں منایا اور اپنے اخلاق فاضلہ اور نرم خوئی میں کبھی کوئی کمی یا درشتی نہیں آنے دی۔حضرت ابو بکرؓ کی امامت نمازکا واقعہ ازواج کی تربیت کی لطیف مثال ہے جوحضور ؐ کی آخری بیماری میں پیش آیا۔ جب رسول اللہ ؐ نے فرمایا کہ ابوبکر ؓ سےکہو کہ وہ نماز کی امامت کروائیں حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میرے دل میں یہ بات آئی کہ آنحضرت ؐ کی یہ بیماری اگر آخری ثابت ہوئی او رحضرت ابو بکرؓ نے حضور ؐ کی قائمقامی اور نیابت میں امامت کروائی تولوگ باتیں کریں گےکہ ابو بکرؓ مصلّے پرکیاآئےکہ اس کے بعد پھر رسول اللہ ؐ  دوبارہ نماز ہی نہ پڑھاسکے اور آپ کی وفات ہی ہوگئی۔ اس لئے حضرت عائشہ ؓ کو اپنے ذوق کی حد تک رسول اللہؐ کی آخری بیماری میں اپنے والد کی امامت ناگوارتھی۔ اس بارہ میں انہوں نے پہلے حضرت حفصہؓ سے مشورہ کیا پھر دونوں ازواج نے حضور ؐ کی خدمت میں عرض کیا یارسول اللہؐ ! ابو بکرؓ کی آواز دھیمی اور رقت آمیز ہے،جس کی وجہ سے وہ لوگوں تک اپنی آواز نہ پہنچاسکیں گے۔ حضرت عمرؓ بلند آواز والے ہیں امامت نمازکے لئے انہیں کہنا چاہئے۔آنحضرت ؐ نے دوبارہ فرمایا”ابو بکرؓ ہی امامت کروائیں” اس میں یہ اشارہ اور پیغام بھی تھا کہ آنحضرت ؐ کے بعد امامت اور خلافت کا مقام حضرت ابوبکرؓ کو عطا ہوگا۔یہی وجہ ہے کہ جب دوبارہ حضرت حفصہؓ اور حضرت عائشہؓ نے اپنی اس درخواست پر اصرار کیا تو حضور ﷺنے انہیں فرمایا إِنَّكُنَّ لأَنْتُنَّ صَوَاحِبُ یوسُفَ کہ تم یوسفؑ والی عورتوں کی طرح ہو۔ چنانچہ امامتِ ابوبکر ؓ کے بارہ میں آنحضرت ؐ کا فیصلہ قائم رہا۔

وفات

ابن سعد اور عبد البر کے مطابق حضرت حفصہ ؓ کی وفات سال 45ھ میں بعمرساٹھ60سال حضرت امیرمعاویہؓ کے دور حکومت میں ہوئی۔آپ ؓ کی وفات کے بارہ میں جو اختلاف رائے پایا جاتا ہے اسکی وجہ یہ ہےکہ علامہ طبرانی اور علامہ ھیثمی کے مطابق آپ ؓ کی وفات افریقہ کے فتح ہونے کے سال ہوئی۔چونکہ فتح افریقہ کا پہلا واقعہ حضرت عثمان ؓ کے زمانہ میں 27ھ میں ہوا اس وجہ سے اس سال میں آپ ؓ کی وفات کا خیال محض ایک غلط فہمی ہے۔ کیونکہ آپ ؓ کی عمر ساٹھ ہوئی جبکہ 27ھ میں وفات کی صورت میں عمر محض42 سال بنتی ہے جو درست نہیں۔الغرض امّ المومنین حضرت حفصہؓ حضور ؐ کی وفات کے بعد بھی امّت میں ایک لمبے عرصہ تک تربیت کی ذمہ داریاں ادا کرتی رہیں اور بالآخر اپنے مولیٰ کے حضور حاضر ہو گئیں۔آپؓ کاجنازہ مدینہ کے امیر مروان بن حکم نے پڑھایا،حضرت ابو ہریرہؓ نے میت قبر میں رکھی۔ آپؓ کے بھائی حضرت عبداللہؓ بن عمر اور حضرت عاصم ؓ بن عمر قبر کے اندراترے۔یوں ہماری ماں امّت کی ماں ہم سے جدا ہوکر اپنے آقا حضرت محمد مصطفےٰ ؐکے قدموں میں حاضر ہوگئیں۔اور جنّت البقیع میں مدفون ہوئیں۔

اَللّٰھمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَعَلیٰ اٰلِ مُحَمَّدٍ وَّبَارِک وَسَلِّم اِنَّک حَمِیدٌ مَجِیدٌ

(حوالہ اہل بیت رسول ﷺاز حافظ مظفر احمد صاحب)