//اچھے اخلاق سے بہتر کوئی عمل نہیں
muhammad_saw

اچھے اخلاق سے بہتر کوئی عمل نہیں

.

عَنْ أَبِی الدَّرْدَاءِ رَضِی اللّٰهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِی صَلَّى اللّٰهُ عَلَیهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ شَیءٍ فِى الْمِیزَانِ أَثْقَلُ مِنْ حُسْنِ الْخُلُقِ (ابوداؤد)

ابو درداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ خدا کے تول میں کوئی چیز اچھے اخلاق سے زیادہ وزن نہیں رکھتی۔

تشریح: اعلیٰ اخلاق دین کا آدھا حصہ ہوتا ہے۔ اور اسلام نے اخلاق پر انتہائی زور دیا ہے۔حتیٰ کہ اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ کہ اخلاق سے بڑھ کر خدا کے ترازو میں کسی چیز کا وزن نہیں۔ اور ایک دوسری حدیث میں فرماتے ہیں کہ جو شخص بندوں کا شکرگزار نہیں بنتا۔وہ خدا کا بھی شکر گزار نہیں بن سکتا۔ دراصل اعلیٰ اخلاق ہر نیکی کی بنیاد ہیں۔ حتٰی کہ روحانیت بھی درحقیقت اخلاق ہی کا ایک ترقی یافتہ مقام ہے۔ اسی لئے ہمارے آقا نے اخلاق کی درستگی پر بہت زور دیا ہے۔ اور اس بارے میں اتنی حدیثیں بیان ہوئی ہیں کہ شمار سے باہر ہیں۔

اس کے علاوہ اسلام نے اعلی ٰاخلاق کے اظہار کیلئے کسی حق دار کے حق کو نظر انداز نہیں کیا۔خدا سے لے کر بندوں تک اور پھر بندوں میں بادشاہ سے لے کر ادنیٰ خادم تک ہر ایک کے بارے میں حسن خلق کی تاکید فرمائی ہے۔ افسر ما تحت۔ باپ بیٹے، خاوند بیوی، بہن بھائی، ہمسایہ، اجنبی،دوست، دشمن انسان، حیوان ہر ایک کے حقوق مقرر فرمائے ہیں۔ اور پھر ان حقوق کو بہتر ین صورت میں ادا کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اور کسی چھوٹی سے چھوٹی نیکی کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔حتٰی کہ آنحضرت ؐ فرماتے ہیں کہ اگر تم اپنے ملنے والوں کو مسکراتے ہوئے چہرہ سے مل کر ان کے دل کو خوش کرو تو یہ بھی تمہارا ایک نیک خلق ہو گا اور تمہیں خدا کے حضور ثواب کا مستحق بنائے گا۔ اور دوسری جگہ آپؐ فرماتے ہیں کہ رستہ چلتے ہوئے اگر کوئی کانٹے دار چیز یا پاؤں کو پھسلانے والا چھلکا یا ٹھوکر لگانے والا پتھر یا بدبو پیدا کرنے والی گندی چیز وغیرہ نظر آئے توا سے رستے سے ہٹادو۔ تا کہ تمہارا کوئی بھائی اس کی وجہ سے تکلیف میں مبتلا نہ ہو۔

خود آپؐ کے اپنے اخلاق فاضلہ کا یہ حال تھا کہ کبھی کسی سوالی کو رد نہیں کیا۔ کبھی کسی کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر اسے چھوڑنے میں پہل نہیں کی۔ یتیموں کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھا۔بیواؤں کی دستگیری فرمائی۔ ہمسایوں کو اپنے حسن سلوک سے گرویدہ کیا۔ چھوٹے سے چھوٹے صحابی کی بیماری کا سنا تو اس کی عیادت کو تشریف لے گئے اور اس سے شفقت اور محبت کا کلام کر کے اس کی ہمت بڑھائی۔ مدینہ میں ایک غریب بوڑھی عورت رہتی تھی۔ جوثواب کی خاطر مسجد نبوی میں جھاڑو دیا کرتی تھی۔ وہ چند دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نظر نہیں آئی تو آپؐ نے صحابہ سے دریافت فرمایا کہ فلاں عورت خیریت سے توہے؟ صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ وہ بیچاری تو مختصر سی بیماری کے بعد فوت ہو گئی۔ اور ہم نے آپؐ کی تکلیف کے خیال سے آپؐ کو اس کے جنازہ کی اطلاع نہیں دی۔ آپؐ خفا ہوئے کہ مجھے کیوں بے خبر رکھا۔ اور پھر اس کی قبر پر جا کر دعا کی۔

 ایک دفعہ غالباً پردہ کے احکام سے پہلے جب کہ آپؐ اپنی زوجہ محترمہ حضرت عائشہؓ تشریف رکھتے تھے۔ ایک شخص آپ سے ملنے کیلئے آیا آپؐ نے اس کی اطلاع پا کر حضرت عائشہؓ سے فرمایا: یہ آدمی اچھا نہیں ہے مگر جب یہ شخص آپؐ کے پاس آیا تو آپؐ نے بڑی دلداری اور شفقت کے ساتھ اس سے گفتگو فرمائی جب وہ چلا گیا تو حضرت عائشہ نے آپؐ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ آپؐ اس شخص کو برا کہتے تھے۔ مگر جب وہ آپؐ سے ملا۔ تو آپؐ نے بڑی دلداری اور شفقت کے ساتھ اس سے باتیں کیں؟ آپؐ نے فرمایا۔

عائشہ : کیا میرا یہ فرض نہیں کہ لوگوں کے ساتھ اخلاق سے پیش آؤں؟

ابوسفیان اسلام لانے سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا بدترین دشمن تھا۔ مگر جب قیصر رُوما نے اس سے پوچھا کہ محمد (صلی اللہ علیہ و سلم) لوگوں کو کیا تعلیم دیتا ہےاور کیا اس نے کبھی تمہارے ساتھ کوئی بد عہدی یا غداری کی ہے؟ تو ابوسفیان کی زبان سے اس کے سواکوئی الفاظ نہ نکل سکے۔ کہ وہ بت پرستی سے روکتا ہے اور حسن اخلاق کی تعلیم دیتا ہے اور اس نے آج تک ہمارے ساتھ کوئی بد عہدی نہیں کی۔

آپؐ کے یہ اخلاق فاضلہ صرف انسانوں تک ہی محدود نہیں تھے بلکہ آپؐ نے بے زبان جانوروں تک کو بھی اپنی شفقت میں شامل فرمایا۔ چنانچہ آپؐ اپنے صحابہ کو ہمیشہ تاکید فرماتے تھے کہ فی کل کبد رطبة اجر’’یعنی یاد رکھو کہ ہر جاندار چیز پر رحم کرنا ثواب کا موجب ہے“ایک موقع پر ایک اونٹ جس پر زیادہ بوجھ لاد دیا گیا تھا۔ تکلیف سے کراہ رہا تھا۔ آپؐ اسے دیکھ کر بے قرار ہوگئے اور اس کے قریب جا کر اس کے سر پر محبت کے ساتھ ہاتھ پھیرا اور اس کے مالک سے کہا کہ یہ بے زبان جانور تمہارے ظلم کی شکایت کر رہا ہے۔ اس پر رحم کرو۔ تا تم پر بھی آسان پر رحم کیا جائے۔

یہ و ہ اخلاق ہیں۔ جو ہمارے آقاؐ نے ہمیں سکھائے۔ مگر افسوس ہے کہ آج کل بہت سے مسلمان ان اخلاق کو فراموش کر چکے ہیں۔

 (چالیس جوا ہر پارے صفحہ96)