//اداریہ ماہ جون ۲۰۲۰
editorial

اداریہ ماہ جون ۲۰۲۰

۔ مدثرہ عباسی

کچھ خواتین کے اصرار پر یہ اداریہ لکھ رہی ہوں وہ چاہتی ہیں کہ اس سے متعلق آگاہ کروں۔ ہمارا رسالہ آبگینے کے نام اور اس لفظ سے متعلق کچھ تاریخ کی روشنی میں اس کے مفہوم کوسمجھانے کی کوشش ہے۔ اس لفظ میں بڑی وسعت ہے لیکن اختصار کے ساتھ عرض خدمت ہے۔ اس سے قبل رسالہ کے آغاز پر کچھ لکھ چکی ہوں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کو ’’القواریر‘‘ یعنی آبگینے کہہ کر پکارا ہے۔آبگینہ لفظ کے معنی فیروز اللغات اردو ڈکشنری میں شیشہ ، کانچ، بلور آئینہ کے ہیں۔ اصل میں یہ لفظ فارسی سے منتقل ہو کر اُردو میں استعمال ہوا ہے۔ انگریزی میں یہ لفظ ڈائمنڈ (ہیرے)کے مضمون میں استعمال ہوا ہے۔عربی میں قواریر کی منفرد ’’قاروة‘‘ کے معنی صراحی نما برتن جس میں پانی رکھا جاتا ہے۔ ان تمام الفاظ کےمعنی کا بغور جائزہ لینے سے اس کا تو ہر لفظ حسین خوبصورت انداز میں دکھائی دے گا۔

ایک معنی کے پیش نظر اگر عورت کو بیوی کے روپ میں دیکھیں تو مرد کے لئے تسکین اطمینان کا باعث ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں مرد اور عورت کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا ہے۔ جس طرح لباس کے سَتر کا کام ہے اسی طرح مرد اور عورت کو ایک دوسرے کے لئے سَتر یعنی کمزوریوں کو چھپانے کا حکم ہے۔ اسلام سے قبل اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت تک عورت حسب روایت عرب سوسائٹی میں بھیانک مظالم کا شکار رہی اور اس کو تحقیر کے پیش نظر درگور کر دیا جاتا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وجود کو اعلیٰ مقام عطا فرمایا جس کا ذکر قرآن کریم و احادیث میں جنت میں حوروں کے الفاظ سے ملتا ہے۔ اور اس دنیا میں ماں کے قدموں تلے جنت کے الفاظ میں مضمر ہے۔

اس مضمون کے پیش نظر اگر عورت کو بیوی کے روپ میں دیکھیں تو وہ مرد کے لئے سکون کا باعث بنتی ہے۔ علاوہ ازین اپنی نیند اور غذا کی قربانی کر کے اپنے خاوند کی اولاد کو خون پسینہ ایک کر کے پالتی ہے۔راتوں کو اُٹھ کر اولاد کی خاطر اپنی نیند قربان کرتی اور سُکھ دینے کے خاطر بچے کو سُلا کر خود گیلی جگہ پر لیٹ کر قربانی دیتی ہے۔ پھر صبح سویرے اُٹھ کر خاوند اور بچوں کو ناشتہ کروا کر دفتر اور اسکول کالج بھجواتی ہے۔ عورت کو بحیثیت ماں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام دیا اور فرمایا کہ ماں کے قدموں تلے جنت ہے بلکہ اپنے عملی نمونہ سے اسے ثابت بھی کیا اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقی والدہ تو آپ کے بچپن میں ہی وفات پا گئی تھیں۔

لیکن آپ اپنی رضاعی والدہ کا بھی بہت احترام فرماتے ایک دفعہ حلیمہ سعدیہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کے احترام میں کھڑے ہو گئے اور اپنی چادر بھی ان کے لئے بچھائی۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تمام ازواج کے لئے بہترین شوہر تھے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے اہل خانہ کے لئے بہترین ہے۔ اور یاد رکھو میں تم میں سے اپنے اہل کے ساتھ سُلوک میں سب سے بہتر ہوں۔ ایک مرتبہ کسی سفر میں جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کی زوجہ بھی تھیں اونٹ کو ٹھوکر لگی تو صحابی ؓ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لپکے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پہلے عورت کا خیال کرو۔یہ ایک واقعہ ہے کہ زیادہ عورت کی نزاکت اور اس کا خیال رکھنے کی مثال دنیا کے کسی اور مذہب میں نظر نہیں آتی۔

ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سفر پر تھے کچھ ازواج مطہرات بھی شریک سفر تھیں جو اونٹ پر سوار تھیں۔ انجثہ غلام جو اونٹوں کو ہانک رہا تھا اور ساتھ ساتھ اونٹوں کی رفتار تیز کرنے کے لئے ھدی یا نغمےبھی الاپ رہا تھا۔ جس سے اونٹوں کے رفتار میں تیزی آ گئی ۔ جب آنحضرتؐ نے یہ دیکھا تو انجثہ کو مخاطب کر کے فرمایا:

رُوَیدَكَ یا أَنْجَشَةُ لَا تَكْسِرِ الْقَوَارِیرَ ( مسلم کتاب الفضائل)

کہ دیکھنا ان اونٹوں پر شیشے اور آبگینے سوار ہیں کہیں ٹوٹ نہ جائیں۔

’’آبگینہ ‘‘ لفظ میں ہماری بہنوں کے لئے ایک پیغام ہے کہ وہ اپنے خاوند کے لئے اپنے آپ کو شیشے کی طرح صاف شفاف اور ستھرا رکھیں ۔تا آپ کے اندر خاوند کا صاف ستھرا چہرہ نظر آئے تاکہ وہ اپنی بیوی کو دیکھ کر خوش ہو اور آپ ان کو ہر وقت آبگینہ دکھائی دیں۔