//اللہ سے یاری

اللہ سے یاری

مولانا جلال الدین رومی اپنی مشہور کتاب مثنوی مولوی معنوی میں ایک اسرائیلی روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کسی مقام سے گزر رہے تھے کہ ان کی نظر ایک چرواہے پر پڑی، وہ کہہ رہا تھا کہ یا اللہ اگر تو میرے پاس ہوتا تو میں تیرے بالوں میں کنگھی کرتا، تیری جوئیں نکالتا،  تیری خدمت کرتا، تجھے کھانے پینے کے لیے کچھ پیش کرتا، تو بیمار ہوتا تو تیری تیمار داری کرتا وغیرہ وغیرہ۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس چرواہے کو سختی سے ٹوکتے ہوئے کہا کہ اللہ ایسی خدمت سے بے نیاز ہے. چرواہا یہ سن کر پریشان ہوگیا اور اپنے کپڑے پھاڑ کر جنگل کی طرف نکل گیا،  اسی وقت حضرت موسیٰ علیہ السلام پر وحی نازل ہوئی اور اللہ نے ناراض ہوکر ان سے کہا کہ تجھے دنیا میں اس لیے بھیجا گیا ہے کہ تم ہمارے بندوں کو ہمارے ساتھ ملاؤ، لیکن تم نے ہمارے بندوں کو ہم سے جدا کردیا، حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ کو ناراض دیکھ کر فوراً چرواہے کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے، کافی مشکل سے اسے ڈھونڈ کر اسے کہا کہ تمہیں اجازت ہے تم جس طرح چاہو اللہ سے مخاطب ہو اور جس طرح چاہو اسے یاد کرو۔

میں بچپن سے یہ واقعہ سنتا آیا ہوں لیکن اس واقعہ کی صحیح سمجھ غیرمسلموں کے ملک سویڈن آ کر آئی۔ سویڈن آنے سے پہلے پاکستان میں زندگی کے انتیس سال گزار لئے تھے، وہاں نماز روزہ بھی کرتا تھا، صدقہ خیرات بھی دیتا تھا، لیکن خدا کی ذات کو ٹھیک طرح سے سمجھنے سے عاری رہا، خدا کے وجود سے انکاری نہیں تھا لیکن اس سے ایک واجبی سا تعلق تھا، دوستی نہیں تھی۔ سویڈن میں  میرا کوئی جاننے والا نہیں تھا، جس شہر میں آیا اس شہر اور اسکی یونیورسٹی میں مجھے کوئی پاکستانی نظر نہ آیا، سوائے ایک دوست کے جو میرے ساتھ ہی آیا تھا، اور وہ خود مشکلات میں گھرا ہوا تھا، اس زمانے میں بٹنوں والے فون ہوتے تھے، سوشل میڈیا صرف یاہو چیٹنگ کی شکل میں ہوتا تھا، زندگی میں پڑھائی کے علاوہ کچھ کرنے کو نہیں تھا، فارغ وقت زیادہ ہوتا تھا، تنہائی کی وجہ سے بات بات پر رونا آتا تھا، جب پریشانیاں بڑھیں تو صرف اللہ کی ذات ہی نظر آئی، جس سے اپنے دُکھ شیئر کرنے شروع کردیئے۔  اس زمانے میں جی بھر کر اللہ سے باتیں کیں، اللہ کو یہ باور کروایا کہ میرا تیرے علاوہ اور کوئی نہیں ہے، مجھے تیری ہی مدد چاہئے اور تو ہی مجھے مشکلات سے نکالے گا، شروع میں بات کرنے کیلئے صرف شکایات ہی تھیں، گلے شکوے تھے، بعض اوقات پہاڑی میں طعنے تک دے دیتا تھا، لیکن میرا اللہ مجھ سے ناراض نہیں ہوتا تھا، میں تنہائی میں اسکے سامنے رو بھی لیتا تھا، اپنی بے بسی ظاہر کرنے پر اللہ مجھے سکون بھی دے دیتا تھا، مجھے وقتی طور پر مشکلات سے نکال بھی لیتا تھا، وقت گزرتا رہا، میری مشکلات آسان ہوتی رہیں، ساتھ ساتھ اللہ سے  اپنی زبان  میں رازونیاز کی باتیں بھی چلتی رہیں، ہزاروں لاکھوں دفعہ آیت الکرسی پڑھ پڑھ کر نجانے کب اللہ سے تعلق اتنا مضبوط ہوا کہ میری زندگی کا لازمی حصہ بن گیا، اللہ نے بھی سچی یاری نبھاتے ہوئے مجھے تمام مشکلات سے نکال کر ایک اچھی اور خوشحال زندگی عطا فرما دی، میں جو چاہتا تھا ایسے ہی ہوگیا، میں نے موسیٰ علیہ اسلام کے چرواہے کی طرح اپنے اللہ سے سچی یاری لگائی، اور اللہ نے وہی یاری نبھائی، اگر میں پاکستان میں رہتا تو شاید اللہ کو اتنا نزدیک سے نہ جان پاتا جتنا سویڈن آ کر اسے جان پایا ہوں، میری کامیابی کا راز میرے اللہ کی مدد ہے، اگر آپ کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو آپ بھی اللہ سے سچی یاری لگا سکتے ہیں، اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہم سب کو حقوق اللہ اور حقوق العباد پورے کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔(از منقول)