//معاندین انبیاء کا عبرتناک انجام
Rehmat

معاندین انبیاء کا عبرتناک انجام

تحریر امۃ الرحمٰن عصمت پراچہ بھلوال

خدا تعالیٰ کا اٹل قانون

یہ خدا تعالیٰ کا اٹل قانون ہے کہ جب لو گ اخلاق اور روحانیت سےعاری ہو جاتے ہیں،دنیا میں ضلالت اور گمراہی پھیل جاتی ہے اور ہر طرف روحانی طور پر قحط کی سی صورت پیدا ہو جاتی ہے تو پرورد گار عالم جو بڑا رحیم و کریم ہے اپنے بندوں کی ہدایت اور راہنمائی کے لئے انہیں میں سے بہترین شخص کو مقرر فرماتا ہے۔ اس قابل تعظیم ہستی کو اسلام نبی، پیغمبر ، رسول ، ہادی اور مصلح وغیرہ کے مختلف اسماء سے پکارتا ہے۔وہ بنی نوع انسان کو راہ راست پر لانے کی ہر ممکن سعی کرتا ہے اوران کی حالت کی اصلاح میں ہمہ تن مصروف ہو جاتا ہے۔

مگر چونکہ وہ قوم کے غلط عقائد اور برائیوں کی مذمت کرتا ہے اور انہیں اُن برائیوں سے بچنے کی تلقین کرتا ہے۔ اس لئے قوم کی اکثریت خصوصاً سراران قوم اور وہ لوگ جو اپنے آپ کو مذہب کا اجارہ دار سمجھتے ہیں اس کی مخالفت پر کمربستہ ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس کی مقبولیت اور عروج ان کے اقتدار اور اجارہ داری کے خاتمہ کا باعث ہو گا۔ اس لئے وہ اس کی ذلت اور رسوائی کی حد سے زیادہ خواہشمند ہوتے ہیں۔ اور اسے بدنام کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتے مگر ’’چاہ کن را چاہ درپیش‘‘ کے مصداق بن کر خود ذلت و رسوائی اٹھاتے ہیں۔

ایک اہم اصول

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام  نے اس صورتحال کو کس لطیف انداز میں بیان فرمایا ہے۔آپؑ فرماتے ہیں ۔    ؎

طعنہ برپا کاں نہ برپا کاں بود

خود کنی ثابت کہ ہستی فاجرے

یعنی جو شخص پاکباز لوگوں کو بدنام کرتا ہے وہ بذات خود اپنی ہستی کے فاجر ہونے کا اقرار کرتا ہے۔ کیونکہ دوسروں کے متعلق انسان کی آراء سے اس کے اپنے ظرف کا اندازہ لگایا جا تا ہے۔

اسی اصول کو آپؑ نے دوسری جگہ یوں بیان فرمایا ہے۔

ہر کہ تُف افگند بہ مہر منیر

ہم برویش فتد تف تحقیر

تا قیامت تُف است بر ردیش

قدسیاں دُور ترزبد بویش

یعنی جو شخص روشن سورج پر تھوکنے کی کوشش کرتا ہے وہ حقارت کا تُھوک خود اس کے مُنہ پر گرتا ہے۔ یہ ذلّت و رسوائی قیامت تک اس کے حصہ میں ہے۔

یعنی اس شخص سے کون ظالم ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھے یا اس کی آیات کو جھٹلائے۔ پس خدا تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کرنے والا بڑا ظالم ہے اور اس ظلم کی سزا جلد یا بدیر اسے مل کر رہے گی۔

اس سے ثابت ہوا کہ جو لوگ انبیاء علہیم السلام ( جو آسمان روحانیت کے آفتاب ہوتے ہیں) کی ذلت و رسوائی میں کوشاں ہوتے ہیں۔ وہ ان نادر الوجود ہستیوں کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتے۔ ہاں اپنے لئے دنیا و آخرت میں تباہی مول لے لیتے ہیں اور آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے سامان عبرت بن جاتے ہیں۔

تاریخ کی شہادت

چنانچہ جب ہم اس اصول کی صداقت کو پرکھنے کے لئے تاریخ کی ورق گردانی کرتے ہیں تو ہم یہ دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں کہ تاریخ ہمیں ہر زمانہ میں اس اصول کی سچائی کے متعلق معتبر شہادت دیتی ہے۔ چونکہ میرا یہ مختصر مضمون ان واقعات کی تفصیل کا متحمل نہیں ہو سکتا اس لئے  میں چیدہ چیدہ واقعات کا مختصراً تذکرہ کروں گی۔

یہ دیکھئے ! نمرود نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جلانے کے لئے آگ کا ایک زبرست الائو روشن کر رکھا ہے اور اپنی طرف سے ان کو نیست و نابود کرنے کا آخری حربہ استعمال کر رہا ہے۔ مگر مشیت ایزدی نے خود آپؐ کی حفاظت فرمائی۔ اور نمرود خائب و خاسر رہا اور ذلّت و نامرادی سے مر گیا۔

نگاہ دوڑائیے بنی اسرائیل کے خروج مصر کے واقعہ پر ! اور غور کیجئے کہ فرعون جو بنی اسرائیل کے خون کا پیاساتھا ۔ وہ کیسی ناکامی اور بے بسی کی موت مرا۔ اور خدائے قدوس نے اس ظالم کے آزار سے بنی اسرائیل کو کس طرح بچا لیا۔

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام کے واقعہ صلیب کو ذہن میں لائیے! کہ پروردگار عالم نے انہیں یہودیوں سے ظلم وستم سے کیسے نجات دی۔ پھر سرور کونین فخر موجودات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو کیسے بحفاظت مدینہ پہنچایا۔ قریش مکہ ، یہودی اور منافق اپنے ناپاک ارادوں  میں خائب و خاسر رہے۔

غرضیکہ ہر زمانہ میں انبیاء کے مخالفین نے خدا تعالیٰ کے فرستادگان کی ذات والا صفات پر اتہام لگانے میں سارا جوش صرف کر دیا۔ تمسخر و استہزاء میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہ کیا۔ دشنام دہی اور دل آزار ی میں کوئی کسر نہ چھوڑی ۔ مگر ہوا کیا؟ انبیاء علہیم السلام کے اسمائے گرامی آج بھی تعظیم و تکریم سے لئے جا تےہیں۔ اور ایک مسلمان کا دل ان کے مبارک اسماء کو سن کر عقیدت سے بھر جاتا ہے اور وہ بغیر ’’علیہ السلام ‘‘ کہنے کے تسکین ہی نہیں پاتا۔

مگر اس کے برعکس ذرا مخالفین کی طرف بھی نظر اُٹھائیے آج کون ہے؟ جو ابوجہل، فرعون، ہامان، نمرود اور ابولہب وغیرہ( جو اپنے وقت کے بادشاہ ، رئیس اور سردار تھے) کا نام عزت سے لینا تو کجا سننا بھی پسند کرے۔ کوئی ہے جو ان کی طرف منسوب ہونے میں فخر محسوس کرے؟ یقیناً کوئی نہیں۔

عبرت ناک انجام کا باعث

اس عبرتناک انجام کا باعث کیا ہے؟ اس کا جواب شاعر نے کس خوبی سے دیا ہے۔۔

خلاف پیمبر کسے راہ گزید

کہ ہرگز بمنزل نخواہد رسید

یعنی جس شخص نے پیغمبر کی مخالفت کا رستہ اختیار کیا وہ کبھی کامیاب و کامران نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ نبی کی آواز انسانی آواز نہیں ہوتی کہ اُسے دبایا جا سکے۔ وہ خدائی قرنا ہوتا ہے، وہ خدا کا شیر ہوتا ہے اور خدا کے شیر پر ہاتھ ڈالنے والا کسی صورت میں بھی اس کے عذاب سے بچ نہیں سکتا۔ خدا تعالیٰ کلام پاک میں فرماتا ہے۔وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوْ کَذَّبَ ۔یعنی اس شخص سے کون زیادہ ظالم ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھے یا اس کی آیات کو جھٹلائے ۔ پس خدا تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کرنے والا بڑا ظالم ہے اور اس ظلم کی سزاجلد یا بدیر سے مل کر رہے گی۔

ایک اہم حقیقت

اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ انبیاء علیہم السلام کے مصدق و صفا، ان کی طہارت و پاکیزگی اوراوصاف حسنہ کا ظہور معاندین کے خبث کی وجہ سے زیادہ شان سے ہوا۔ جس طرح برائی کے بغیر اچھائی کا اندازہ نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح پاکبازوں کی طہارت کا اندازہ بُرے اشخاص کی بُرائی سے تقابل کے بغیر نہیں لگایا جا سکتا۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔  ؎

گر ہووے در مقابل روئے مکروہ و ریاہ

کس چہ دا نستے جمال شاہدِ گلفام را

گر نیفتا دے مجسمے کار در جنگ و نبرد

کے شدی جو ہر عیاں شمشیرِ خوں آشام را

روشنی  را قدر از تاریکی است و تیرگی

وز جہالت ہاست غرو وقر عقلِ تام را

حجت صادق ز نقض قُدح روشن ترشود

عذرنا معقول ثابت میکند الزام را

یعنی اگر گلفام چہرے کے حسن وجمال کے مقابلہ میں مکروہ اور سیاہ چہرہ نہ ہوتا تو حسین کے حسن کو کوئی نہ پہچانتا۔ اور اگر دشمن کے ساتھ لڑائی اور مقابلہ نہ ہوتا تو خون آشام تلوارکے جوہر کس طرح عیاں ہوتے۔ حقیقت میں روشنی کی قدر و قیمت تاریکی سے ہے اور عقل تام کی عزت و عظمت جہالت سے ہے۔ صحیح دلیل نقص اور اغلاط سے  زیادہ روشن ہوتی ہے اور عذر نامعقول الزام کو ثابت کرتا ہے۔

غرضیکہ ہر چیز کی خوبی اور عمدگی اس کے متضاد امر سے زیادہ شان کے ساتھ ظاہر ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے مخالفین کی مخالفت اور بغض و عناد انبیاء کے لئے کھاد کا کام دیتا ہے۔ اور وہ دن دگنی رات چوگنی ترقی کرتے جاتے ہیں۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مخالفین اور ان کا انجام

جب ہم اس اصول کی روشنی میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی زندگی کے حالات پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ جونہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مسیح موعود اور مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ہر طرف سے آپ ؑ پر تکفیر بازی کا بازار گرم ہوا ۔ اور وہی لوگ جو پہلے آپؑ کی تعریف میں رطب اللسان تھے اب مخالفت میں سب سے سبقت لے گئے۔ ان میں مولوی محمد حسین بٹالوی جنہوں نے براہین احمدیہ کا دیباچہ لکھا تھا سب سے پیش پیش تھے۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ ’’میں نے ہی مرزا صاحب کو اونچا کیا میں ہی ان کو گرائوں گا‘‘ اور اپنے اس قول کی تصدیق  کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ مگر جسے خدا ونچا کرتا ہے اسے کون گرا سکتا ہے۔ نعم  ماقال سیدنا  المسیح الموعود علیہ السلام ۔و من ذا الذی یخزی عزیز جنابہ ۔الارض لا تفنی شموس سمائہ

یعنی کون ہے جو مقبول بارگاہ ایزدی کو ذلیل کر سکے۔ زمین میں یہ طاقت نہیں کہ آسمان کے ستاروں کو بجھا سکے۔

اس لئے وہ مولوی محمد حسین جو غرور و تکبر سے مقابل پر آیا تھا۔ نہایت ناکامی ، ذلت اور رسوائی سے اس دنیا سےر خصت ہوا۔

مولوی محمد حسین کے بعد مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری نے مخالفت کا چارج سنبھال لیا۔ دن رات سلسلہ احمدیہ کے خلاف زہر پھیلانے کو ہی پیشہ بنا لیا۔ خدا تعالیٰ نے اپنی قدرت نمائی کے عمر بھی کافی دے دی تا انہیں مخالفت نہ کر سکنے کا ارمان نہ رہ جائے۔ مگر ان کی آرزوئوں اور تمنائوں کے خلاف جماعت احمدیہ شب و روز ترقی کرتی گئی اور مخالفین خدا تعالیٰ کے شیر کا بال بھی بیکا نہ کر سکے۔

نیز آتھم اور لیکھرام کے عبرت انگیز انجام سے تقریباً ہر احمدی واقف ہے۔ ان کی ڈیوٹی دشنام دہی اور دل آزاری تھی۔ مگر آخرکار ایسی حسرت کی موت مرے کہ اس کے تصور سے بھی جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ غرض کتنے ہی ایسے مخالفین تھے جنہوں نے اس نور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھانا چاہا۔ مگر تقدیر کے آگے ان کی کچھ پیش نہ چل سکی۔ میرا مضمون ان تفصیلات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ا س لئے اسی پر اکتفا کرتی ہوں۔ پھر حضرت مسیح موعوعود علیہ السلام کو ستانے والے بھی عذاب کے مورد نہ ہوئے۔بلکہ وہ لوگ بھی جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کرنے والوں پر ظلم وستم کئے عذاب الٰہی سے بچ نہ سکے ۔ چنانچہ حضرت مولوی عبداللطیف صاحب شہید ، حضرت مولوی نعمت اللہ صاحب شہید اور دوسرے احمدی جو کابل میں شہید کئے گئے۔ان کی شہادت اس امر کا بین ثبوت ہے کہ ان کے قاتل خدا تعالیٰ کے عذاب سے نہ بچ سکے۔ بلکہ ظلم کی پاداش میں ختم ہو گئے یہ سلسلہ ختم نہیں ہوا۔ بلکہ اب بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اتباع پر ظلم کرنے والا خدائے عز وجل کے غضب کا نشانہ بنتا ہے۔ اور ہم روزانہ تائید ایزدی کو اپنے شامل حال دیکھتے اور خدا تعالیٰ کے نشانات کابچشم خود معائنہ کرتے ہیں۔الحمد للہ علیٰ ذالک

مندرجہ بالا حقائق سے بانی احمدیت کا صدق و سداد اور احمدیت کی حقانیت کا اظہر من الشمس ہو گئی اور یہ ثابت ہو گیا کہ احمدیت خدا تعالیٰ کا لگایا ہوا پودا ہے۔ اور جس نے اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کی وہ ذلت و رسوائی اٹھا کر ناکامی کی موت مرے گا۔ ہمیں خدا تعالیٰ کا بے حد شکر بجالانا چاہئے کہ اس نے اپنے خاص فضل سے ہمیں منعمین کے گروہ میں شامل کیا۔اپنے خاص کرم سے ہمیں خلافت جیسی نعمت غیر مترقبہ سے نوازا (الحمد للہ۔ ثم الحمد للہ)

اور ہمیں خدا تعالیٰ کے حضور دست بدعا رہنا چاہئے کہ وہ یہ نعمت ہم میں تا ابد بخشے۔ تاہم اس کی نصرت وامداد کے نشانات کا مشاہدہ کرتے رہیں۔ ( آمین ثم آمین ) وذالک علی اللہ بعزیز ۔