//پر اُن کی اس سجن کی طرف کچھ نظر نہیں

پر اُن کی اس سجن کی طرف کچھ نظر نہیں

. تحریر طاہرہ زرتشت نازؔ-ناروے

اس ترقی یافتہ دور میں جب ہم اپنے وطنِ عزیز پاکستان کے حالات دیکھتے، سنتے اور پڑھتے ہیں تو تڑپ اٹھتےہیں ۔اور دل سخت رنج و ملال میں گرفتار ہوجاتا ہے ۔ کہ آخر کیوں مسلمان جو کسی زمانے میں اسلامی اور مذہبی غیرت کےلئے اپنی جان و مال کی پرواہ نہ کرتے تھے خدا تعالیٰ کی محبت میں فنا تھے اور اللہ تعالیٰ کی توحیداور واحدانیت کی خاطر اپنا سب کچھ

قربان اور نثار کرنے کے لئےہمہ وقت تیار رہتے تھےاور شرک سے اپنا دامن بچانے کو اپنا فرضِ اولین سمجھتے تھے۔ آج شرک کے گناہ کبیرہ میں بری طرح گرفتار ہیں ۔

اوراپنی اس حالت کو بدلنے کی انہیں قطعًا کوئی فکر نہیں ۔ اور نہ ہی کسی لیڈر کو انہیں گمراہی کے اس گڑھےسے نکالنے کی فکرہے۔ یہ راہیں بلا شبہ ہلاکت کی راہیں ہیں ۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نےخدا تعالیٰ کی توحید اور واحدانیت کے قیام کے لئے کیا کچھ نہیں کیا ۔ آپ نے اپنے ہاتھوں سے تمام جھوٹے خداؤں کے بتوں کو پاش پاش کردیا۔ آپ صلی اللہ و علیہ وسلم کو جو عظیم الشان مقام اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا وہ توحید کے قیام کی برکت سے ہی تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف صحابہ کرام کی ایک موّحد اور اللہ تعالیٰ پر جاں نثار کرنے والی جماعت قائم کی بلکہ ساری دنیا میں توحید کا پیغام پھیلایا اور شرک کی بیخ کنی کی ۔

اسی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء افضل الانبیاء فخر الانبیاء کےعظیم الشان رتبہ پر فائیز ہوئے اور اس کے محبوب کا لقب آپ کو عطا ہوا۔ فرشتوں ، اور ساری انسانیت کو قیامت تک آپ پر درود و سلام بھیجنے کا حکم صادر ہوا۔

تمام انبیاء علیہھم السلام کے آنے کا مقصد ہی …توحید کا قیام اور شرک سے پاک معاشرہ قائم کرنا تھا۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراھیم کے موّحد ہونےسے متعلق قرآنِ کریم میں اس طرح ذکر فرمایا:اِنَّ اِبراھیمَ کانَ اُمّةً قَانِةًّ لِلَّهِ حَنیفًا ط وَ لَم یَكُ مِن المشرِ کینَ

( سورة النحل: آیت 121 )

(ترجمہ): یقینًا ابراھیم ہر ایک خیر کا جامع ، اللہ کے لئے تذلّل اختیار کرنے والا اور ہمیشہ خدا تعالیٰ کی کامل فرمانبرداری کرنے والا تھا۔ اور وہ مشرکوں میں نہیں تھا۔

حضرت ابراھیم علیہ السلام کی اسی خوبی کی وجہ سے آپ کو اللہ تعالیٰ نےخلیل اللہ کا خطاب دیا۔ یعنی اللہ کا دوست ۔

کلمہ طیبہ کے معنٰی پر ہی غور کیجیئے!

 کلمہ طیبہ کے معنٰی اور مفہوم کے لحاظ سےایک مسلمان کی تعریف یہ ہوگی کہ وہ اللہ تعالیٰ کو ایک ( واحد) مانتا ہو ۔ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرتا ہو۔ اللہ تعالیٰ کی واحدانیت میں کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراتا ہو ۔ اور اللہ تعالیٰ کی توحید اور واحدانیت پر مکمل یقین رکھتاہو یعنی ہر قسم کی نعمتیں دینے اور … واپس لینے والی … بس اسی کی ذات ہے اس کے علاوہ …اور کوئی نہیں ۔ سادہ الفاظ میں یہی معنٰی ہیں کہ کل کائنات کو پیدا کرنے والا ، ہر قسم کا رزق دینے والا ، ہر قسم کی ضروریات پوری کر نے والا اس کے سوا کوئی اور نہیں ہے ۔ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ۔

اور یہ کہ جب بھی ضرورت ہو اللہ سے ہی مانگناہے اور اسی کا در کھٹکٹھانا ہے۔

اور نماز اور عبادات نفس کے پاک رکھنے کا ذریعہ ہیں ۔

 کسی اور کو رب کی صفات میں شریک نہیں کرنا ۔ اور نہ ہی اس کے سوا کسی سے مانگنا ہے۔ خداتعالیٰ کے سوا کسی اور سے مانگنا اور اسے چھوڑ کر کسی دوسرے کے در پر جانا ہی شرک کہلاتا ہے ۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل سے اسلام لانے والوں کی تربیت اس رنگ میں کی کہ وہ شرک سے مجتنب رہیں۔ بلکہ شرک کی باریک راہوں سے بھی بچنے کا حکم دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےخود قرآن کریم کے ایک ایک حکم پر عمل کر کے دکھایا۔ اسی لئے تو آپ کےباخلاق اور با کردار ہونے کے بارے میں جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سےپوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ کانَ خُلقُهُ القرآن ۔ آپ کے اخلاق قرآنی تعلیم کے عین مطابق تھے۔

آج مسلمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے دعوے تو کرتے ہیں اور آپ کی خاطر مارنے مرنے پر تو تیار رہتے ہیں کیا کبھی انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ حیات پر بھی غور کیا ہے ۔ جن کی زندگی کا مقصد شرک سے پاک معاشرے کا قیام تھا آج ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو ماننے والےاکثر مسلمان طرح طرح کے شرک میں مبتلاء ہیں ۔ مزاروں پر، درگاہوں پر، قبروں پر ، ہر جگہ مردہ و زندہ انسانوں کی پرستش کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ آپ کو دنیا میں کسی اور جگہ شائد اسقدر شرک کے اڈے دکھائی نہ دیں جس کثرت سےاسلامی جمہوریہ پاکستان میں نظر آتے ہیں ۔ جن پر چڑھاوے چڑھائے جاتے ہیں اور مُردوں ی قبروں سے مرادیں مانگی جاتی ہیں دن رات مانگنے والوں کا ہجوم رہتا ہے۔ اور کتنی نمازیں ہیں جو وہاں کھڑے کھڑے قضا ہوتی ہیں اور کسی کو اس بات کا غم نہیں کہ اپنے اصل خالق و مالک کو چھوڑ کر ہم کس کے در پر سجدہ ریز ہیں اور شرک …… جو کہ گناہِ کبیرہ میں شمار ہوتا ہے ۔ اس کے مرتکب ہو رہے ہیں ۔ اور کوئی نہیں جو ان کو جھنجھوڑے اور بیدار کرے کہ نبیوں کے سردار خاتم النبین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا دعوٰی کرنے والے ، آپ کے نام کے ساتھ منسوب ہونے والے آپ کی امّت کہلانے والے …… آج آپ کے اسوۂ حسنہ کو ترک کر کے جھوٹے خداؤں کی پوجا پاٹ کرنے میں دن رات مصروف ہیں ۔ اور اپنے واحد ویگانہ کے حضور جھکنے کی بجائے بت کدوں کو آباد کرنے میں مگن ہیں ۔ جن بتوں کو پاش پاش کرنے کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا تھا۔

 آج کسی میں اتنی ایمانی و دینی غیرت نہیں کہ قوم کو بیدار کرے اورشرک کے ان اڈوں کو بند کرنے کا حکم جاری کرے اور قوم کو بتائے کہ تمہیں تو بت خانوں کو مسمار کرنے اور توحید پر قائم ہونے کی تلقین کی گئی تھی ۔ مسجدوں کو آباد کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

کیا آج ! کسی مسلمان کے اندر دینی غیرت نہیں جو قوم کو بیدار کرے اور اسے شرک سے آزاد کر کے خدائے تعالیٰ کے قدموں میں لا کر ڈال دے۔ اگر دینی غیرت اور خدا تعالیٰ کی سچی محبت دلوں میں جاں گزیں ہو تو کوئی کام ناممکن نہیں رہتا ۔

 یاد رکھیں کہ یہ کام … تعلیم و تربیت سے ہوگا تلوار سے نہیں ہوگا ۔ لوگوں میں شعور بیدار کرنے سے ہوگا کہ ہم کون ہیں اور کیوں مسلمان کہلاتے ہیں ۔ یاد رکھئے یہ ملک تو بنا ہی خدائے واحد و یگانہ کے نام پر ہے۔ ہمارے بزرگ تو اس دنیا میں موجود نہیں مگر ان کے نعروں کی گونج ہمارے کانوں میں آج بھی سنائی دیتی ہے۔ ان کے ایمانی جوش اور ولولہ کو کون فراموش کرسکتا ہے۔

آیئے ! اپنے قیمتی ورثے کو غفلت اور نفرت کے دفینوں سے نکالیں ۔ اس زندہ و تابندہ تعلیم کے زیور سے اپنی نئی نسلوں کو آراستہ کریں اور ان کے سینوں میں اسلام کی تعلیم بغیر کسی ردّ و بدل کے منتقل کریں ۔

ان کو اس قابل بنائیں کہ وہ قرآن کےمتن کے مطالب خود سمجھیں ۔ اور اس پر عمل کریں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا مقصد کیا تھا ؟ اور آپ نے اپنی امت کی کس طرح تربیت کی ۔ ہماری زندگیوں کا مقصد کافر بنانا نہیں ۔ ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو ساری دنیا کو اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار یعنی مومن بنانے آئے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محبت کے ساتھ دلوں کو فتح کیا ۔ لا ریب زمین و آسمان اس پر گواہ ہیں ۔ اس عظیم الشان نبی کی تعلیم کا نفرت سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ۔ پھر ہم کو کس نے اختیار دیا ہے کہ تفرقہ پیدا کریں اور دوسروں کے ایمان کا فیصلہ اپنے ہاتھ میں لے کر زمین میں فتنہ و فساد پیدا کریں ۔

یہی وقت توحید کے قیام کے لئے خرچ کریں ۔ اللہ تعالیٰ کی محبت دلوں میں پیدا کریں ۔ بت پرستی ختم کریں ۔ بظاہر یہ سب ناممکن دکھائی دیتا ہے مشکل دکھائی دیتا ہے اگر ارادہ پختہ ہو تو کوئی مشکل راستے میں حائل نہیں ہوسکتی۔ اللہ ہمیں اس کی توفیق دے ۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی کتاب کشتی نوح میں فرماتے ہیں :-

’’کیا ہی بد بخت وہ انسان ہے جس کو اب تک یہ نہیں پتہ کہ اس کا ایک خدا ہے جو ہرایک چیز پر قادر ہے ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے۔ہماری اعلٰی لذات ہمارے خدا میں ہیں ۔

 کیونکہ ہم نے اس کو دیکھا اور ہر ایک خوبصورتی اس میں پائی ۔یہ دولت لینے کے لائق ہے اگرچہ جان دینے سے ملے۔ اور یہ لعل خریدنے کے لائق ہے اگرچہ تمام وجود کھونے سے حاصل ہو اے محرومو !! اس چشمہ کی طرف دوڑو کہ وہ تمہیں سیرآب کرے گا۔ یہ زندگی کا چشمہ ہےجو تمہیں بچائے گا۔ میں کیا کروں اور کس طرح اس خوشخبری کو دلوں میں بٹھادوں ۔ کس دف سے میں بازاروں میں منادی کروں کہ تمہارا یہ خدا ہے ۔ تا لوگ سُن لیں ۔اور کس دوا سے میں علاج کروں تا سننے کے لئے لوگوں کے کان کھلیں “ (

کشتی نوح روحانی خزائن جلد 19صفحہ 22 , 21