غزل
منصورہ فضل منؔ
یوں تو گھر میں مرے سویرا تھا
دل کو پر تیرگی نے گھیرا تھا
کیوں جہاں بھر میں اِسکا چرچہ ہے
درد یہ صرف تیرا میرا تھا
دل کے خالی مکان میں جاناں
صرف ویرانیوں کا ڈیرا تھا
مجھکو بخیہ گری سے کیا مطلب
زخم خود میں نے ہی اُدھیڑا تھا
ہجر کے ناگ مجھ سے لپٹے تھے
وصل کی شب میں گُم سپیرا تھا
جیسے آزاد، پَر کٹی چڑیا
“اس طرح بے بسی نے گھیرا تھا”
منؔ کا آیئنہ توڑ کر اسنے
کرچیوں میں اسے بکھیرا تھا

