شعر و شاعری

تم وہی ہو لو تمہیں آج بتا دیتے ہیں

Spread the love

امتہ الرشید بدر

میں نے خود کو کبھی جب تنہا اکیلا پایا

کون ہے جس کو کہ نزدِ رگِ جاں ہی پایا

جس نے ہر درد میں ہر دکھ میں میرا ساتھ دیا

کون ہے آہ کو سُن کر وہ جو دوڑا آیا

تم وہی ہو لو تمہیں آج بتا دیتے ہیں

نور جس یاد سے تھا دل پہ اُترتا پایا

جس کے انفاس سے عالم کو مہکتا پایا

جس کی تخلیق پہ جب حسن پہ جب غور کیا

خوبروئیوں میں تھا اُس حُسن کا چرچا پایا

تم وہی ہو لو تمہیں آج بتا دیتے ہیں

گُلِ نوخیز نے جس سے تھا نکھرنا سیکھا

کون ہے جس سے کہ غنچوں نے چٹکنا سیکھا

جس کی خوشبووٴں سے مہکی ہیں فضائیں ہر سُو

جس کے ایماء سے ہی کلیوں نے مہکنا سیکھا

تم وہی ہو لو تمہیں آج بتا دیتے ہیں

چاند نے جس سے اُفق سے تھا ابھرنا سیکھا

نُور سے شب کو منّور بھی تھا کرنا سیکھا

حسن سے اپنے ہر آنکھ کو تسکین دے کر

عکس عالم میں اجاگر تیرا کرنا سیکھا

تم وہی ہو لو تمہیں آج بتا دیتے ہیں

جس سے خورشید کی کرنوں نے بکھرنا سیکھا

اپنی حدت سے نمو ہستی کی کرنا سیکھا

اور قوت بھرے نوروں کی بدولت پل پل

ہر گزرگاہِ جہاں فیض سے بھرنا سیکھا

تم وہی ہو لو تمہیں آج بتا دیتے ہیں

جس سے افلاک نے طاعت ہی تھا کرنا سیکھا

چاند تاروں کی قبا اوڑھ سنورنا سیکھا

جس کے اسرار عیاں کر کے جہاں والوں پر

عالم اسرار سے انوار سے بھرنا سیکھا

تم وہی ہو لو تمہیں آج بتا دیتےہیں

جس سے تھا ابر نے باراں نے برسنا سیکھا

اور سیراب جہاں فیض سے تھا کرنا سیکھا

یوں زمیں مردہ نے جی اُٹھنے کی انگڑائی لی

پھر خزاں نے تھا بہاروں میں بدلنا سیکھا

تم وہی ہو لو تمہیں آج بتا دیتے ہیں

حسن پر جس کے تھا ہر دل نے مچلنا سیکھا

ان حسیں جذبوں نے اُلفت میں تھا ڈھلنا سیکھا

عام الفت بھرے جذبات ہوئے دنیا میں

جس کی اُلفت سے ہی اُلفت نے پنپنا سیکھا

تم وہی ہو لو تمہیں آج بتا دیتے ہیں

کون جو سوچوں خیالوں پہ دل و روح پہ چھایا

جو میری جان میرا مان میرا دھن میری مایا

جب کبھی درد و غم ہم نے تھا بے تاب کیا

اُس کی شفقت کا ہی محسوس کیا سر پہ سایا

تم وہی ہو لو تمہیں آج بتا دیتے ہیں

جس کی حکمت کے بحر جاری ہیں دو عالم میں

نام ہے نامہٴ فطرت کے ہر اک کالم میں

جس کی طاعت کا ہی دم بھرتے ہیں سب کروّ بیاں

جو حسیں جذبوں کی صورت ہے دلِ عالم میں

تم وہی ہو لو تمہیں آج بتا دیتے ہیں

ہم نے ہر درد کی جس کو تھا دوا کرنا سیکھا

جس کی جانب غمِ ہستی سے تھا چلنا سیکھا

گالیاں کھائیں پٹے خوب ہی رسوا بھی ہوئے

تب اُسی در کو پناہ گاہ تھا کرنا سیکھا

تم وہی ہو لو تمہیں آج بتا دیتے ہیں

جس کا بندے کی حفاظت بھی تھا کرنا دیکھا

آہ مظلوم پر بے تاب اُترنا دیکھا

جب پریشان کیا حد سے عدو نے تو پھر

اُس کو پیشانی سے تھا جسکا پکڑنا دیکھا

تم وہی ہو لو تمہیں آج بتا دیتے ہیں

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *