غزل
دیا جیم
آنکھیں جما کے سوچ کی ہر اک رکاب کے
قصے سنا رہے ہیں ہمیں وہ سراب کے
بس ایک ہی تمنا تھی بس ایک ہی خیال
لمحے گزر رہے تھے مرے اضطراب کے
خوشبو کوئی بھی لفظ محبت نہ کر سکی
ہجے بھی کر کے دیکھے تھے ہم نے گلاب کے
آشفتگی نے خواب سہانے کئے سبھی
کاغذ بکھر رہے ہیں پرانی کتاب کے
اک عمر دل کے در پہ ہی رکھی رہی نظر
ہم منتظر رہے تھے تمھارے جواب کے
کس نے اڑائی تتلیاں خوابوں کی آپ کے
بکھرے ہوئے ہیں حوصلے سارے جناب کے
جو آندھیوں کے بیچ میں رکھتے ہیں اک چراغ
رستے وہ دیکھتے ہیں دیا انقلاب کے

