شعر و شاعری

یتیم لڑکا

Spread the love

وہ بیٹھا ہے لڑکا جھکائے جو سر

اٹھاتا نہیں ہے کبھی جو نظر

ٹپکتا ہے چہرے سے جس کے ملال

سبھی جانتے ہیں کہ ہے خوش خصال

خزاں بن کے آئی جو بادِ نسیم

تو بچپن میں ہی ہوگیا وہ یتیم

اچانک ہی اجڑا امنگوں کا باغ

بجھا اس کی خوشیوں کا روشن چراغ

جو رکھتے تھے سر پر محبت سے ہاتھ

چھڑایا ہے تقدیر نے ان کا ساتھ

امیدوں کا شعلہ لہکتا نہیں

چہکنے کے دن ہیں چہکتا نہیں

بہت غمزدہ ہے بہت ہے اداس

چلو چل کے بیٹھیں ذرا اس کے پاس

اسے خوش کریں اپنی باتوں سے ہم

کہ وہ بھول جائے ہر اک درد و غم

وہ لڑکا اگر مسکرانے لگے

تو اپنی محبت ٹھکانے لگے

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *