پردہ محافظِ ایماں
امۃ الرشید بدر
یہ پردہ جو ہے
ہے فقط حکمِ یزداں
نہیں قید زنداں
یہ آزادیٴ روح
یہ آزادیٴ جاں
یہ ہے دین و ایمان
زمانہ قیامت نشاں بن گیا ہے
فحاشی کی پھیلی کچھ ایسی وبا ہے
ہوائے نفس میں ہر اک مبتلا ہے
نہ تقویٰ ہے کچھ اور نہ خوفِ خدا ہے
یہ پردہ جو ہے
یہ تو ہے حکمِ یزداں
یہ ہے رحمِ رحماں
نہیں ہے یہ زنداں
یہ عورت کی عزت
عورت کی عصمت کی اس میں بقا ہے
وہ جانِ جہاں جو مہ دلبراں ہے
وہی رازداں ہے کہ جو بندیوں کی
بناوٹ نزاکت سبھی جانتا ہے
وہ اندر کے حالوں سے واقف بڑا ہے
کہ ماں باپ سے بڑھ کے وہ خیر خواہ ہے
وہ بد بیں کی بدنظریوں پہ ہے
گہری نظر رکھنے والا
وہ رکھوالا ہے اور محافظ ہمارا
سراسر ہماری بھلائی کی خاطر
سراسر ہماری حفاظت کی خاطر
دیا حکم پردہ ہماری ہی خاطر
جو ہو دل کا پردہ نگاہوں کا پردہ
جبھی زیب دیتا ہے ظاہر کا پردہ

