حالاتِ حاضرہ
طاہرہ مسعود – کینیڈااک نئی صبح آنے والی ہے
تیرگی اب کے چھٹنے والی ہے
ابھی تو پو پھٹی ہے صبر کرو
روشنی اور بڑھنے والی ہے
میری دھرتی اے میرے پاک وطن
تیری قسمت بدلنے والی ہے
رہنما قوم کے ہوئے بیدار
ظلم کی جڑ اکھڑنے والی ہے
حکمراں ساد گی شعار بنیں
رِیت اچھی یہ پڑنے والی ہے
تلملاتے ہیں ہارنے والے
ان کی حالت بگڑنے والی ہے
جو کرپشن کے چیمپئن تھے وہ
نیند اب ان کی اڑنے والی ہے
سب ذرائع حرام آمد کے
بند ہوئے، موت ہونے والی ہے
اے مرے دیس کے چنیدہ شخص
قوم تجھ کو پرکھنے والی ہے
کھیل سمجھے تھے زندگی، اُن سے
زندگی کھیل کرنے والی ہے
زندگی انتظار کرتی نہیں
چھوڑ کے آگے بڑھنے والی ہے
تم کرو دلجمعی سے کام اپنا
دنیا جلتی ہے، جلنے والی ہے
نیک اور بد کا فرق ختم ہوا
اب قیامت ہی آنے والی ہے
اب نصائح اثر پذیر نہیں
نوعِ انساں سدھرنے والی ہے؟
جانتی ہوں سوال پر ظالم
تیری پُتلی سکڑنے والی ہے
دیکھنا محنتوں سے اب تیری
ہاتھ ریکھا بدلنے والی ہے
جو سمجھتا تھا خود کو طاقتور
اس کو قدرت پکڑنے والی ہے

