غزل
جس کو بھی دیکھئے چہرے پہ خوشی چھائی ہے
کتنی خوشیاں لئے پھر عید چلی آ ئی ہے
کتنے رنگوں سے مہکتی ہوئی عید آ ئی ہے
ہاتھ مہندی سے سجے ہیں، کہیں گجروں کی بہار
کتنی خوش رنگ ہے ہر سمت یہ لمحوں کی پھوار
مل کے بیٹھے ہیں تو دُکھ درد کہاں باقی رہے؟
اے خدا ایسے ہی خوشیوں کا سماں باقی رہے
ہم جو سنورے ہیں،سجے بیٹھے ہیں اس عیدکے دن
اپنی ہی دُھن میں بھلے بیٹھے ہیں اس عید کے دن
ہم نے مسکان کو ہونٹوں پہ سجا رکھا ہے
خود کو ہر غم کی گزرگہ سے بچا رکھا ہے
اب کے مل بیٹھے ہیں، ایسے کہ جدا نہ ہوں گے
ایک دوجے سے ہم اک پل بھی خفا نہ ہوں گے
ہر طرف گہری محبت کا گھنا سایا ہے
ہم نے اس عید کو ملبوس یہ پہنایا ہے
ہر کلی پیار کے احساس میں مسکائی ہے
جس کو بھی دیکھئے چہرے پہ خوشی چھائی ہے


