کہتے ہیں وہ بھی آج کہ جنت ملی مجھے
دیا جیم
اس وقت بیقراری و وحشت ملی مجھے
جس وقت انتظار کی نعمت ملی مجھے
اس کی ادائیں ہی تو مجھے بوڑھا کر گئیں
اک عمر چھوڑ کر جو محبت ملی مجھے
آنکھوں میں دکھ چھپا لئے تاروں کے خوف سے
اک شام زرد شام قیامت ملی مجھے
جب آرزو نے اپنی مسافت تمام کی
ٹوٹا بدن شکستہ عمارت ملی مجھے
اک نام لے کے دل میں یہ سانسیں رواں ہوئیں
جب پھول چنتے چنتے فراغت ملی مجھے
جن کو خدا کے قہر نے جنت بدر کیا
کہتے ہیں وہ بھی آج کہ جنت ملی مجھے
وہ بھی تکلفات میں برباد ہو گئی
محفل میں خواہ مخواہ کی جو عزت مجھے ملی
دھڑکن نے ساز چھیڑا اور یہ دل بنا دیا
تو نے نظر اٹھائی تو صورت ملی مجھے

