غزل
خدا کی رحمت سےکبھی تم مایوس مت ہونا
اس کا در چھوڑ کر تم کہیں نہ جانا
جو بھی مانگنا ہے تم مانگو اس سے
لیکن اس کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھرانا
چھوڑ دو تم اپنے سارے کام خدا پر
غلطی سے بھی کس کے آگے ہاتھ مت پھیلانا
ٹل جائیں گئیں ساری بلائیں
بس تم اس پہ بھروسا رکھنا
صبر کا دامن کبھی مت چھوڑنا
ہمیشہ اس کئ رضا میں راضی رہنا
ہار جائیں گے سبھی دشمن تمہارے
بس اسی کے آ گے تم جھکنا
آرزوئیں تمہاری کر دے گا وہ پوریں
ہمیشہ تم اس کی عبادت کرنا
مضبوط کرلو اپنا تعلق تم اس سے
ہمیشہ اس کی پسندیدہ راہ پہ چلنا

