نئے سال میں نئے خواب ہوں
فرحت ضیاء راٹھور
نئے سال میں نئے خواب ہوں
نئے موسموں کے گلاب ہوں
رہے روشنی کا گذر سدا
تیری رحمتیں بے حساب ہوں
یہ وبا جو پچھلے برس پڑی
مولا ختم اس کے عذاب ہوں
ملیں خوشیوں سے گلے ہر گھڑی
نہ ہی فاصلے نہ نقاب ہوں
ہوں رفاقتیں ہی رفاقتیں
نہ بچھڑنے کے کوئی باب ہوں
ہوں خلوص چاہتیں دم بدم
اور لہجے سارے گلاب ہوں
میرے دوستوں پہ کرم رہے
میرےپیارے سارے شاداب ہوں
تیری کائنات حسین ہے
ماند اس کے نہ ماہتاب ہوں
تیرے کن ہوں سبھی منتظر
تجھے پانے کو ہی بے تاب ہوں
رہے مجھ سے راضی میرا خدا
نہ کبھی حساب وکتاب ہوں
میرا سائیں ہر دم جئے سدا
اونچے اس کے سب آفتاب ہوں

