شکست
(آصفہ بلال پاکستان )
انا کی بازی نہ کھیلنا تم
یہ کھیل بھی کیا عجب ہے لوگو
کہ جیت جس کو سمجھ رہے ہو
وہ در حقیقت شکست ہو گی
کہ داو پہ سب لگا کے اپنا
ہر ایک رشتہ گنوا کے اپنا
وہ چاہتوں کے نصاب سارے
وفا سے سینچے گلاب سارے
وہ لوریوں کے حساب سارے
کہ دوستی کے وہ باب سارے
یقیں کے رستوں پہ
چلتے چلتے
جو مل کے دیکھے
وہ خواب سارے
بس ایک لمحے میں
روند ڈالے
انا کی بھٹی میں
جھونک ڈالے
اور
اس خود پرستی کی زد میں آ کر
ہر ایک رشتہ
جھلس گیا ہے
ہر ایک منظر
بدل گیا ہے
اور ایسے منظر میں
صرف تم ہو
انا کی مستی میں
آج گم ہو
پر ایک دن جب کھلی حقیقت
نگاہ اس دن یہ
پست ہوگی
کہو گے تم بھی
ہر اک بشر سے
انا کی بازی نہ کھیلنا تم
کہ جیت جس کو سمجھ رہے ہو
وہ در حقیقت
شکست ہوگی
وہ درحقیقت
شکست ہو گی

