شعر و شاعری

تیز آندھی میں چراغوں کو جلا دیتا ہے

Spread the love

بشریٰ سعید عاطف

اچھے اچھوں کی یہ اوقات دکھا دیتا ہے

جھوٹ انسان کو نظروں سے گرا دیتا ہے

بن خطا کے مجھے ہر بار سزا دیتا ہے

کتنا کم ظرف ہے احسان جتا دیتا ہے

میری پلکوں پہ ستارے وہ سجا دیتا ہے

قربتوں میں بھی جو دیوار اٹھا دیتا ہے

میرے آنگن میں اندھیرا نہیں ہونے دیتا

رات سے پہلے دیا اک وہ جلا دیتا ہے

وقت ظالم ہے نئے کھیل دکھاتا ہے ہمیں

 منظر آنکھوں سے مسرت کے ہٹا دیتا ہے

عشق کی طاقتِ تخلیق کا کہنا کیا ہے

عشق صحراؤں میں گلزار کھلا دیتا ہے

عشق کر لیتا ہے طوفان کو بس میں بشریٰ

تیز آندھی میں چراغوں کو جلا دیتا ہے

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *