حمد
مرسلہ : شاہینہ خان
نہ میرا عمل ، نہ ریاضتیں ،نہ ہی کی ہیں کوئی عبادتیں
مگر اک نگاہ ادھر بھی ہو، میرے دل کی ہیں جو اطاعتیں
تیرے عکس کی وہ تجلیاں، میری دید میں ہوئی منعکس
تیری روشنی میری آگہی ، تیرا نور میری بصارتیں
در توبہ کی جو وہ کیفیت، ہے وہی تو حاصل بندگی
وہ میری تڑپ، وہ میری بقاء ،تیری مغفرت کی وہ ساعتیں
کبھی ہست و نیست کے مرحلے،یہ فناء بقاء کے جو سلسلے
اسی بے خودی میں ہی پالیا ،تیرا قرب ، تیری قرابتیں
یا کبھی مجھے تو سمیٹ لے،اسی قرب میں، اسی عشق میں
یا اتر تو میرے وجود میں،مجھے وجد کی ہوں جسارتیں
مجھے ربط دے، مجھے ثبت دے ،مجھے لےلے اپنے حصار میں
تیری عافیت میرا بھرم ہے، میرا فخر تیری عنائتیں
میں حقیر ہوں ،مجھے یاد رکھ ،ذرا دیکھ میرے کف طلب
ہیں سجود میں جو ندامتیں ،میرے عجز کی ہیں وضاحتیں
کبھی شینا! گر یوں قبول ہو،میں تو صرف اتنا ہی مانگ لوں
تیرا کرم مجھ کو نصیب ہو، تیرا پیار میری بشارتیں

