غزل
بشریٰ انجم
ہم جی رہے ہیں حال میں مصنوعی زندگی
دلکش و دلفریب ہے جادوئی زندگی
گردش سے روزگار کی چکرا کے گِر پڑی
کس حال کو پہنچ گئی ادھ مُوئی زندگی
یہ موت تو ہے اصل میں تبدیلئ مکان
مرنے کے بعد پیش ہو گی دُوئی زندگی
جینے کا لطف کیا ہو بھلا انتشار میں
ہے دیکھیے جو اصل میں یکسوئی زندگی
بادِ نسیم ہو کے چلو اے ہواؤ تم
دیکھو بکھر نہ جائے چھوئی موئی زندگی

