غزل
نورالصباح
زندگی میں خلا نہیں ہو تا
گر وہ ہم سے جدا نہیں ہو تا
ہم نہیں تیرے در سے اٹھیں گے
جب تلک فیصلہ نہیں ہوتا
رت خزاں کی ہے چار سو پھیلی
کوئی پتہ ہرا نہیں ہوتا
ازن مشکل کشا نہ ہو جب تک
کوئی عقدہ کشا نہیں ہوتا
ہم ہدایت کبھی نہ پا سکتے
وہ اگر پیشوا نہیں ہوتا
مجھ کو حاجت نہیں ہے کہنے کی
تجھ سے کچھ بھی چھپا نہیں ہوتا
آپ گر زندگی میں آجاتے
غم کا یہ سلسلہ نہیں ہوتا
در بدر اور بے اماں ہوتے
گر ترا آسرا نہیں ہوتا
رنج میں، کرب میں، اذیت میں
کوئی تیرے سوا نہیں ہوتا
آپ جیسی وفا نہیں اس میں
’’صنم آخر خدا نہیں ہوتا ،،

