شخصیاتشعر و شاعریعورتگوشۂ ادبمتفرق

انٹرویو: فرخندہ شمیم صاحبہ

(تحریر و ملاقات: عیشا صائمہ)

آج میں جس شخصیت سے آپ کی ملاقات کروانے جا رہی ہوں ان کی تعریف میں کچھ بھی کہنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ جنہوں نے نہ صرف بطور ادیبہ، افسانہ نگار، ٹی وی جرنلسٹ خود کو منوایا اور جس جس شعبے میں کام کیا اتنی محنت، لگن اور پر خلوص ہو کر کیا کہ اس شعبے کو اپنی فکر انگیزی، جدت پسندی اور محبت سے چار چاند لگا دئیے وہ پر اثر شخصیت محترمہ فرخندہ شمیم صاحبہ کی ہے ان کے تعارف کے بعد ان سے کی گئی گفتگو کو لاہور انٹرنیشنل لندن میگزین کے نمائندے کی حیثیت سے اپنے پیارے قارئین کی نذر کروں گی یقیناً ان کی شخصیت کے دیگر پہلووں کے بارے میں آپ کو جان کر بہت اچھا لگے گا۔

7 1
محترمہ فرخندہ شمیم صاحبہ

صحافت اور اردو ادب میں ماسٹرز ڈگری حاصل کی اور ملازمت کے لئے قومی میڈیا پاکستان ٹیلی ویژن کا انتخاب کیا۔۔۔۔بحیثیت پروڈیوسر/ رپورٹر اور کنڑولر ادارے کے لیے بہترین صلاحیتوں کے ساتھ کام کیا۔۔رپورٹنگ کے شعبے میں خصوصی انفرادیت حاصل کی اور دستاویزی پروگراموں کی پروڈکشن کے طور پر قومی اور عالمی مقابلوں میں متعدد اعزازات حاصل کیے۔۔۔۔۔جن میں ایشیا براڈکاسٹنگ یونین سمیت کئی اہم ادارے شامل ہیں۔۔۔۔۔پی ٹی وی کے دستاویزی سلسلے ’’The soft image of pakistan‘‘ کے تحت درج ذیل سیکٹر ز میں کام کیا۔

  • تحریک پاکستان
  • پاکستان کے سیاحتی مقامات
  • پاکستانی خواتین
  • اردو زبان کی عالمی حیثیت اور شناخت

پی ٹی وی میڈیا کے خبرنامے میں سب سے پہلے باقاعدہ نظمیہ رپورٹنگ کا آغاز کیا،جس نے بے پناہ مقبولیت کو چھوا۔۔۔

ریڈیو پاکستان راولپنڈی اور ریڈیو پاکستان اسلام آباد سے ،”بچوں کے لۓ ادب کی اہمیت اور ضرورت ” کے موضوع پر ان گنت پروگراموں کی تحریر وتحقیق اور میزبانی کی۔

ادبی خدمات

  • بنیادی میدان۔۔۔۔افسانہ نگاری
  • دوسری ترجیح۔۔۔۔نظم اور ہایکو نگاری

تصانیف

  • مٹی اور پاؤں۔۔۔۔۔افسانے
  • ماں۔۔۔۔۔نظمیہ مجموعہ
  • تلاش جمال میں گمشدہ عورت۔۔۔۔افسانے
  • ’’میں‘‘ ۔۔۔۔سوانح

ادبی کاوشوں کا آغاز اہم قومی اخبارات کے ادبی ایڈیشنز سے کیا۔۔۔۔فنون،نقوش،ماہ نو،ادب لطیف،اوراق ،چہار سو،بیاض،الحمراء،الفاظ،خیابان اور اردو آنگن ممبئی میں اشاعت پذیر باقاعدہ۔۔۔۔

انشا یہ نگاری اور کالم نگاری کےلئے روزنام نواۓ وقت،جنگ جناح اساس اور نکھار

افسانوں کے تیسرے مجموعے ”تلاش جمال میں گمشدہ عورت کا انتخاب عین شمس یونیورسٹی قاہرہ کے اردو شعبے کےلئے کیا گیاہے۔

معلمہ کی حیثیت میں مختلف کالجز اور جامعات میں میڈیا اور اردو ادب کی تعلیم دی،جن میں فاونڈیشن یونیورسٹی راولپنڈی کیمپس،علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد اور فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی راولپنڈی شامل ہیں۔

میڈیا اور اردو ادب کے شعبوں میں حاصل اعزازات کی تعداد 100 سے زائد رہی۔جن میں پی ٹی وی ایوارڈ،بولان ایکسیلنس ایوارڈز،ادب سرائے انٹرنیشنل گولڈ میڈل، سوچ حسن کارکردگی ایوارڈ،نظریہ پاکستان علامہ اقبال گولڈ میڈل،فاطمہ جناح گولڈ میڈل، ریشم ڈایجسٹ ادبی ایوارڈ

عالمی ایوارڈز

دی ویمن آف دی ائیر گولڈ میڈل 2005۔۔۔دی امیریکن بائیو گرافیکل انسٹی ٹیوٹ 2005

قطر ایوارڈ

فر خندہ شمیم کی علمی،ادبی اور صحافتی خدمات کے موضوع پر ایم فل سطح کا مقالہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی جانب سے کیا گیا۔

عنوان۔۔۔۔۔فرخندہ شمیم کی علمی و ادبی خدمات”

دوسرا مقالہ۔۔۔پوٹھوہار کی افسانہ نگار خواتین۔۔۔۔وفاقی اردو یونیورسٹی اسلام آباد

فرخندہ شمیم کے افسانے۔۔۔فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی راولپنڈی

ریڈیو براڈ کاسٹر کی حیثیت سے ریڈیو پاکستان اسلام آباد اور راولپنڈی اسٹیشنز سے متعدد پروگراموں میں شرکت کے علاوہ میزبانی بھی کی جن میں خواتین کا پروگرام ’’ہماری دنیا‘‘ اور بچوں کے ادب پر مسلسل پروگرام کیے۔

السلام علیکم

آپ کا پورا نام کیا ہے؟ گھر میں پیار سے سب کیا کہتے ہیں؟

فرخندہ شمیم – میرا پورا نام فرخندہ شمیم ہی ہے – پیار سے مجھے بے – بی کے نام سے پکارا جاتا ہے ۔

بچپن میں عام لڑکیوں کی طرح کیا آپ کو بھی گڑیا سے کھیلنا پسند تھا؟

فرخندہ شمیم – جی مجھے بھی بچپن میں گڑیا سے کھیلنا پسند تھا میں نہ صرف خود گڑیا سے کھیلتی تھی بلکہ آس پاس کی لڑکیوں کو بھی کہتی تھی کہ آؤ گڑیا سے کھیلتے ہیں – پھر گڑیا گڈے کی شادی، ان کی مہندی مختلف تقریبات کرنا، ان کے کپڑے بنانا، چھوٹے چھوٹے برتنوں میں کھانا بنانا یہ سب بچپن کی حسین یادیں ہیں – اس کے علاوہ میں نے بھائیوں کے ساتھ ہاکی بھی کھیلی چونکہ میری کوئی بہن نہیں تھی تو جب بھی وہ کھیل کے میدان میں ہاکی کھیلنے جاتے یاگھر میں ہاکی کھیلتےتو میں بھی ان کے ساتھ ہاکی کھیلتی – اس کے علاوہ مشہور کھیل “پٹھو گرم”محلے کے لڑکیوں اور لڑکوں کے ساتھ کھیلتی تھی – ایسے کھیلتے کھیلتے اسکول پہنچ گئے بلکہ اسکول پڑھنے تک بھی یہ کھیل کھیلا کرتے تھے ۔

بہن بھائیوں اور والدین کے ساتھ رشتہ کیسا رہا؟

فرخندہ شمیم – گھر والوں کے ساتھ رشتہ بہت عمدہ رہا کیونکہ میں بھائیوں کی اکلوتی بہن تھی تو بہت پیار ملا اور والدین کی بھی بہت لاڈلی رہی لیکن والدین نے ڈسپلن کو برقرار رکھا گھر میں ایسا ماحول دیا کہ پڑھائی کے وقت پڑھائی، دینی تعلیم کے وقت دینی تعلیم اور کھیل کے وقت کھیل – اور میرے والد صاحب کو کتابیں پڑھنے کا شوق تھا انہوں نے یہ شوق ہمارے اندر بھی ڈالا وہ لائبریری سے مختلف کتابیں اشو کرا کے لاتے اور ہمیں پڑھنے کے لیے دیتے تھے والدہ کو تو وہ خود پڑھ کے سناتے تھے کیونکہ ان کی نظر کا مسئلہ تھا مجھے خاص طور لائبریری لے کے بھی جاتے مختلف لائبریریوں کی ممبر شپ بھی لی یعنی گھر کا ماحول بہت علمی و ادبی تھا ۔

بہن بھائیوں کے ساتھ رشتہ بہت پیار بھرا تھاایکدوسرے کی عزت کرنا، پیار، کا اظہار کرنا – یہ سب والدین کی وجہ سے تھا کہ ہم خیالی تھی والدین نے تربیت بہت عمدہ انداز میں کی جس کی وجہ سے ہم سب بہن بھائیوں میں اتفاق و اتحاد تھا – اس کے علاوہ اللّٰہ تعالی کی طرف سے ایک مشترکہ خوبی بھی تھی کہ ایکدوسرے کا دفاع کرنا، جب کوئی کسی بہن بھائی کے خلاف شر پہ اتر آئے تو اس کے خلاف ڈٹ جاتے یعنی میرے تین بھائی اورچوتھی میں ہم سب میں ہمیشہ اتفاق رہا – والدین بہت ہی شفیق اور مہربان تھے ایک آنکھ نرم، ایک آنکھ گرم – یعنی محبت وشفقت کے ساتھ ڈسپلن پہ کوئی کمپرومائز نہیں تھا – اسی وجہ سے ہم سب بہن بھائیوں نے بہت اچھا پڑھا میرے بھائی ہائی کوالیفائیڈ ہیں -انہیں پتہ تھا کہ بہن کا ساتھ دینا ہے تو انہوں نے میرے ساتھ ہر ہر حوالے سے بہت تعاون کیا – کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ان کی بہن بہت محنتی اور لائق ہے ہر سال اسکالرشپ لیتی ہے ہمیں اس کی صلاحیت کو نہ صرف ماننا ہے بلکہ سنبھالنا ہے – کسی بھی مرحلے پہ دل شکنی یا حوصلہ شکنی نہیں کرنی کہ جس کی وجہ سے ہماری بہن کے ذہن میں کسی بڑے کا امیج خراب ہو- یوں سمجھ لیجیے ہاتھ کا چھالہ بنا کر رکھا گیا کہ اسے ہماری طرف سے کبھی کسی قسم کی تکلیف نہ ہو ۔

کیا آپ کا تعلق ادبی گھرانے سے تھا یا آپ پہلی خاتون تھیں جنہوں نے اس طرف آنے کا سوچا؟

فرخندہ شمیم۔  گھر کا ماحول تعلیمی، ادبی اور دینی تھا یہ کہا جا سکتا ہے کہ ادبی ماحول میں میری پرورش ہوئی۔

اور تخلیقی صلاحیتوں کے لحاظ سے ہم دو تھے ایک میں اور ایک میرے والد صاحب – میرے والد محترم بہت عمدہ شاعر تھے نظمیں بہت عمدہ کہتے تھے لیکن ان کے کام کی نوعیت ایسی تھی جس کی وجہ سے وہ تخلیقی کام کو وقت نہیں دے پاتے تھے – وہ پاکستان ریلوے میں ڈویژنل آفیسر تھے اور ان کا سارا وقت آفس میں ہی گزر جاتا تھا – شام میں وہ کتابیں پڑھتے تھے اورکچھ نظمیں لکھتے تھے وہ نظمیں بچوں کے لئے ہوتی تھیں جنہیں میں ریڈیو پاکستان راولپنڈی کے پروگراموں میں پڑھا کرتی تھی اسی وجہ سے گھر کا ماحول ادبی بن گیا – دو بھائی میرے مکمل طور پر ٹیکنیکل کے شعبے میں تھے بڑے بھائی جو آرمی میں تھے انہیں کتب بینی کا بہت زیادہ شوق تھا اور اسی وجہ سے انہوں نے میرا پورا کئریر لائن اپ کیا اور میری ہر مرحلے میں رہنمائی کرتے ہوئے مجھے ادبی حلقوں میں لایا – میں سائنس کی بہت اچھی طالبہ تھی اور میڈیکل کے شعبے میں جانا چاہتی تھی لیکن صحت کے کچھ ایسے مسائل ہوئے جس کی وجہ سے والدہ نے میڈیکل میں جانے سے روک دیا – پھر میں ادب کی طرف آئی کیونکہ میری تخلیقی صلاحیت کو میرے بھائی ’’شاید احمد‘‘ نے پہچان لیا انہوں نے مجھ سے کہا کہ مختلف اخبارات میں لکھنا شروع کرو جبکہ میں سمجھتی تھی میں لکھ نہیں سکتی لیکن ان کی ہمت افزائی نے مجھے لکھنے کی طرف مائل کیا اور میں نے بچپن میں ہی کالم لکھنا شروع کئے گھر میں مختلف اخبارات آتے تھے جن میں طلباء کا صحفہ، اور بچوں کا صحفہ ہوتا تھا جس پہ میں نے کہانیاں لکھنا شروع کیں پھر آگے چل کر خواتین کے لئے کہانیاں لکھیں وہ مجھے کہتے تھے کہ تم افسانہ نگار ہو، نظم گو ہو، تم میں یہ صلاحیت موجود ہے تم اپنے آپ کو دریافت کرو- میں سمجھتی ہوں کہ گھر کے افراد کا ایکدوسرے کو دریافت کرنا بہت بڑی رحمت ہے – بہت سے گھرانوں میں بہن بھائی رشتوں میں تو ہوتے ہیں لیکن ایکدوسرے کی صلاحیتوں کو کھوج نہیں پاتے یہ نہیں ہونا چاہیے بہن بھائیوں کو ایکدوسرے کا دوست ہونا چاییے – اگر میرے ساتھ یہ سب نہ ہوتا یا مجھے ایسا ماحول نہ ملتا تو میں آگے نہ بڑھ سکتی کیونکہ اگر لکھاری کو مناسب ماحول نہ ملے تو وہ ڈرا سہما رہتا ہے اور وہ لکھ نہیں سکتا اس کی تخلیقی صلاحیتیں دب جاتی ہیں وہ سوچتا رہتا ہے کہ وہ اپنے لکھے کو چھاپے کہ نہیں اکثر لڑکیوں کو ان مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے – ہم اسوقت طالب علم تھے اور اسوقت یہ دقت درپیش ہوتی تھی لیکن ایسی نہیں تھی جو ہم سے پہلی والی خواتین کو دیکھنا پڑی یعنی ان کے لئے پردہ داری میں رہ کر لکھنا بھی مشکل تھا آجکل تو کافی حد تک ماحول بدل گیا ہے-مجھے میرے سب بھائیوں نے بہت سپورٹ کیا والد تو تھے ہی ساتھ اس کے ساتھ والدہ نے میری بہت حوصلہ افزائی کی، بہت ہمت بڑھائی – حالانکہ مائیں بیٹیوں کو ایک خاص نہج پر رکھتی ہیں لیکن میری والدہ نے گھریلو معاملات کے ساتھ میری تخلیقی صلاحیتوں کو پہچانا اور کبھی کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ڈالی کیونکہ وہ خود بھی کتابیں سننے کی شوقین تھیں اور خبریں سنتی تھیں اسی وجہ سے میں نے اپنی صلاحیت کو پہچانا نہ صرف پہچانا بلکہ اس صلاحیت کو منوایا بھی – تخلیقی صلاحیتوں کو اگر مناسب ماحول تعاون بھرا ماحول ملے تو وہ بہترین انداز میں نکھر کر سامنے آتی ہیں ورنہ یہ صلاحیتیں کہیں دب سی جاتی ہیں اور زیادہ تلخی آجاتی ہے – زندگی میں ہم سب کو بہت سی تلخیوں کا سامنا رہتا ہے لیکن اس کے ساتھ اللّٰہ تعالیٰ نے ہمارے لیے بہت سی رحمتیں بھی رکھی ہوتی ہیں کوئی نہ کوئی تو آسودگی رکھی ہوتی ہے جس کے لئے ہمیں اس، رب کا شکر گزار ہونا چاہیے کیونکہ اکثر لوگ ناشکری کی وجہ سے بھی بے چین رہتے ہیں ہمارے گھرانے میں اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ آسودگی بھی تھی اور شکر کرنے کی عادت بھی رہی – دین کا جو سبق ہم دوسروں کو دیتے ہیں اس کے لئے پہلے بڑوں کا عمل کرنا بہت ضروری ہوتا ہے اسی سے بچے سیکھتے ہیں ۔

آپ نے لکھنے کا آغاز اپنے اصل نام سے کیا یا قلمی نام سے؟

فرخندہ شمیم -جی – میں نے لکھنے کا آغاز اپنے اصل نام سے ہی کیا کیونکہ قلمی نام کی ضرورت ہی پیش نہ آئی کیونکہ اسکول کالج میں بہت لائق طالبہ رہی لکھتی بھی تھی تو اصل نام سے ہی سب پہچانتے تھے ۔

پہلے صحافت کو چنا یا پہلے اپنے اندر موجود لکھنے کی صلاحیت کو پہچانا آپ نے؟

فرخندہ شمیم – نہیں صحافت کوبھی میرے بھائی نے میرے لئے منتخب کیا میرا اپنا ارادہ آرٹس میں آنے کے بعد یہ تھا کہ میں اچھی براڈ کاسٹر بنوں ایک سوشل سوسائٹی میگزین نکالوں جس میں، میں اپنی سوچ یعنی اپنے مضامین، کالمز اور کہانیاں شائع کروں یعنی میں مدیرہ بننا چاہتی تھی لیکن وہ سب خبروں کے حوالے سے تھا لیکن جب میں نے صحافت کا مضمون پڑھا تو مجھے خبریت اور ادب کے فرق کا پتہ چلا کہ صحافت لکھنے کا طریقہ اور ہے اور ادب لکھنے کا اس سے مختلف – اسوقت مجھے مختلف اخبارات جن میں جھنگ اور نوائے وقت سے بہت سی آفرز آنا شروع ہوئیں اس کے ساتھ ریڈیو پاکستان سے کیونکہ سب کو پتہ تھا کہ میں ایک بہترین ڈیبیٹر ہوں اس کی وجہ طالب علمی کے زمانے میں تقریری مقابلوں میں حصہ لینا اور ریڈیو پاکستان میں اس کی ریکارڈنگ ہوتی تھیں سب میرے انداز و بیاں سے واقف تھے جیسے ہی میری صحافت کی ڈگری مکمل ہوئی تو ان اداروں نے ایک آرٹسٹ کے طور پہ مجھے جوائن کرنے کا کہا لیکن مجھے آرٹسٹ سے پہلے اپنا پروفیشن مضبوط کرنا تھا اسلئے میں پاکستان ٹیلی ویژن میں پروڈیوسر اور رپورٹر بن گئ اس، میں بھی میں اوپن میرٹ پہ سیلیکٹ ہوئی پھر کنٹرولر کے طور پر بھی کام کرتی رہی – وی آئی پی رپورٹنگ کرتی تھی چیف رپورٹر بھی رہی یوں یہ سلسلہ کامیابی سے جاری رہا – جہاں تک لکھنے کی بات ہے تو لکھنے کا آغاز زمانہ طالب علمی سے ہوا – جھنگ اور نوائے وقت میں کالم لکھنے سے یہ سفر شروع ہوا – الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ منسلک ہونے کے بعد بھی پرنٹ میڈیا سے میرا تعلق جڑا رہا، مختلف اخبارات، جن میں جناح، ایکسپریس، ایشین ٹائمز، روزنامہ پاکستان، ان اخبارات نے مجھ سے کالمز لکھوائے – پرنٹ میڈیا کو نہیں چھوڑا اس سے تعلق قائم ہے – پرنٹ میڈیا کی اپنی ایک خاص اہمیت ہے – الیکٹرانک اور سوشل میڈیا سے بھی انکار ممکن نہیں کیونکہ آجکل ان میڈیم کی وجہ سے کام آسان ہو گیا ہے – پہلے کام زیادہ مشکل تھا کیونکہ کسی ایک چیز کو ڈھونڈنے کے لیے کتب خانوں میں جانا اور کتابیں پڑھنا اس کی بدولت بہت کچھ پڑھنے اور سیکھنے کو مل جاتا تھا – اب سوشل میڈیا کی بدولت کسی بھی چیز کے بارے میں جاننا زیادہ آسان ہو گیا ہے – میں کبھی یہ نہیں کہوں گی کہ تحقیق کرنے والوں کو محض انٹرنیٹ تک محدود نہیں رہنا چاہیے کیونکہ اس سے انہیں ادھوری معلومات ملتی ہیں اگر کسی کے بارے میں جاننا ہو یا معلومات حاصل کرنی ہوں تو انہیں ہارڈ کاپی کے ساتھ ساتھ سافٹ کاپی کو بھی دیکھنا چاییے – تو اس سے تحقیقی کام زیادہ بہتر طریقے سے ہو سکتا ہے ۔

کون کون سے شعراء یا ادیبوں کو پڑھا آپ نے؟ جو آپ کے پسندیدہ بھی رہے؟

فرخندہ شمیم – تقریباً سبھی کو پڑھا جب میں نے ایم – اے اردو سرگودھا یونیورسٹی سے کیا تو ان شعراء کو جنہیں ہم کبھی کبھی پڑھتے تھے ان سے لے کر یعنی اساتذہ سے لے کر ارکان خمسہ، ارکان خمسہ سے لے کر بیسویں صدی کے تخلیق کار، پھر پاکستان بننے کے بعد کے تخلیق کاروں کو پڑھنے کا موقع ملا – اب اکیسویں صدی کے لوگوں کو بھی پڑھنے کا موقع ملا کیونکہ ایم – اردو میں نے 2017ء میں کیا اور اس میں اسوقت کے تخلیق کاروں سے لے کر اب تک سبھی کو پڑھا-’’میرے سخن‘‘ اور’’میر تقی میر‘‘ سے لے کر اب تک کے سبھی نئے آنے والےتمام شعراء اس میں شامل ہیں – مجھے زیادہ افسانہ نگاروں کو پڑھنا اچھا لگتا ہے اس کے ساتھ جن لوگوں نے سوانح عمری لکھی وہ پڑھ کر لطف آتا ہے کیونکہ ان لوگوں نے زندگی کو محسوس کیا پھر جو دیکھا اسے اپنی تحریروں میں لا کرہم تک پہنچایا – آج سے تیس پینتیس سال پہلے اتنا زرخیز لٹریچر آ رہا تھا کہ سب چیزیں پڑھنا ممکن نہیں تھا جو کمیاں رہ گئی ہیں آج تک پڑھ رہے ہیں کیونکہ مطالعے کے لئے وقت نکالنا پڑتا ہے – میرے پسندیدہ ادیب یا شعراء جو تھے ان میں عصمت چغتائی کے افسانے، کرشن چندر، نثر نگاروں اور سفرناموں میں مستنصر حسین تارڑ کو، اس کے علاوہ اشفاق احمد، ممتاز مفتی، مختار مسعود کو کافی پڑھا – اس کے ساتھ جنہوں نے میرے افسانوں کے بارے میں لکھا بھی تبصرے بھی کیے ان میں منشاء یاد،ڈاکٹر رشید امجد، ڈاکٹر خورشید، مرزا حامد، پروفیسر احسان اکبر، ان کو پڑھتی بھی رہی اور ان کی گفتگو سنتی بھی رہی اور اساتذہ میں شوکت صدیقی کو پڑھا مزاح نگاروں میں مشتاق احمد یوسفی کو پڑھا ابن انشاء، فرحت اللہ بیگ کو بھی پڑھا دور جدید میں نظمیں بھی پڑھتی ہوں کیونکہ یہ میرا بھی شعبہ ہے – مجھے رفیق سندھیلوی، اور شہزاد اظہر کی نظم پسند ہے خواتین شعراء میں پروین شاکر میری پسندیدہ رہیں اس کے ساتھ سارہ کو بھی پڑھا۔ خواتین افسانہ نگاروں چاہے وہ پرانی ہوں یانئ پڑھتی ہوں خواتین میں “مرتم پریتم” مجھے بے حد پسند ہیں اس کے ساتھ وہ لوگ جو مجھے اپنے مقالوں میں یاد رکھتے ہیں ہندوستان کی سرزمین سے ان کا تعلق ہے جو ریسرچ ورک کر رہے ہیں میرے بارے میں پڑھتے بھی ہیں اور لکھتے بھی ہیں ان میں ایک نام ” ڈاکٹر اسلم جمشید پوری” کا ہے – ہندوستان میں آنگن میں میری چیزیں چھپتی رہی ہیں اور چھپ رہی ہیں اس کے ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کے مختلف رسائل اور نیوزپیپرز میں میرے کالم اور افسانے چھپ رہے ہیں کشمیر سے نکلنے والا نیوز پیپر میں میرا انٹرویو بھی لگایا گیا۔

برطانیہ میں اسکے علاوہ آذر بائیجان میں آن لائن پڑھاتی بھی ہوں اور جابھی چکی ہوں وہاں اردو ادب پڑھایا اور میڈیا بھی کیا اور ایوارڈز کے بعد بھی پاکستان جب آئی تو بہت پزیرائی ملی

پاکستان کے علاوہ برطانیہ، امریکہ، آذربائیجان، قطر سے بھی میرے کام کو سراہا گیا اور ایوارڈز دییے گئےابھی “حلقہ ارباب ذوق” اور میڈیا کی طرف سے ’’لائف ٹائم اچیومنٹ‘‘ ایوارڈز ملے ۔

زندگی کے تلخ یا خوشگوار لمحات کو بھی آپ نے اپنی شاعری کا موضوع بنایا؟

فرخندہ شمیم – جی بالکل زندگی کے تلخ اور خوشگوار تجربات کو پہلے اپنے افسانوں میں لکھا اس کے بعد شاعری میں بھی یہ تجربات بیان کئے کیونکہ زندگی ہے ہی ان لمحات کا مجموعہ – میری کتاب ’’مٹی اور پاؤں‘‘ ’’تلاش جمال میں گمشدہ عورت‘‘سماج کے ساتھ ساتھ میرے اپنے تجربات بھی شامل ہیں ان میں جنہیں میں نے تحریری شکل میں لوگوں کے سامنےلایا – کیونکہ اگر انسان خود کو غیر جانبدار ہوکر دیکھے تو اسے بہت سی کہانیاں اپنے اندر ہی مل جاتی ہیں شرط یہ ہے کہ وہ خود کو بھی عام انسان کی طرح رکھے کہ جس سے خطائیں ہوتی بھی ہیں اور جس سے خطائیں نہیں بھی ہوتیں اس کے علاوہ ایک نظم ’’بہارو جھوٹ مت بولو‘‘ اس میں بھی زندگی کے تجربات کو بیان کیا ہے اس کے علاوہ ’’وبا کے دنوں میں‘‘ پوری ایک سیریز تھی نظموں کی جو وبا کے دنوں کے حوالے سے لکھی گئی – رومانوی نظمیں بھی بہت لکھیں جس میں ’’برکھا کا شکریہ‘‘،’’اندر کی لڑکی‘‘، ’’اندر کالڑکا‘‘،’’دست شناس‘‘،’’دسمبر بے وفا نکلا‘‘ اور کچھ غزلیں بھی جو خواتین کے مسائل کے حوالے سے تھیں –

ادبی دنیا کی طرف آنے میں آپ کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟ تنقید زیادہ ہوئی یا پذیرائی ملی؟

فرخندہ شمیم – ادبی دنیا میں جب ہم نے قدم رکھاتب آزادی کا مفہوم صحیح معنوں میں جاننے کی کوشش کی گئ تو اسوقت آزادی رائے، آزادی تقریر کو ڈیفائن کیا جا رہا تھا اسوقت موضوعات تعینات ہوتے تھے ان کی تشریح اور مفہوم بھی، اب تو ہر چیز کے مختلف شیڈز آگئے ہیں جیسے ایک لفظ، ایک نظریہ اس کے طرح طرح کے شیڈز بن گئے – اسوقت تحریر و تقریر کے معنی بالکل صحیح تھے اس لئے کسی کو مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا تھا-مجھے چونکہ خاندان والوں کا تعاون حاصل رہاانہوں نے بہت حوصلہ افزائی کی پھر اساتذہ اور احباب کی طرف سے بہت پذیرائی ملی تو مجھے کسی قسم کی مشکل پیش نہیں آئی ۔

پذیرائی بہت زیادہ ملی لیکن تنقید کے پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتی جب حلقہ ارباب ذوق میں بڑے ادیب تعریف کے ساتھ جب افسانوں پہ تنقید کرتے ان کی گفتگو کو میں غور سے سنتی اور ان غلطیوں کو اگلے افسانوں میں دور کرتی ۔

خواتین کے حوالے سے آپ کیا سمجھتی ہیں ابھی بھی انہیں آزاد زندگی جو حدود کے اندر رہ کے گزاری جائے گزارنے کی اجازت دی جاتی ہے؟ یا ابھی بھی کہیں آپ خاندانی روایات یا اقدار کے بھینٹ چڑھتا دیکھتی ہیں خواتین کو؟

فرخندہ شمیم – آجکل تو خواتین کو اپنے حقوق سے آگاہی ہے ان کے لئے اپنے حقوق کا حصول بھی آسان ہو گیا ہے میں سمجھتی ہوں اس میں ذرائع ابلاغ نے اہم کردار ادا کیا ہے جب سوشل میڈیا مثبت کردار ادا کرتا ہے تو اچھی تبدیلی رونما ہوتی ہے لیکن اگر میڈیا منفی چیزوں کو سامنے لاتا ہے یا مخصوص گروہ کے لئے کام کرتا ہے اور غلط چیزوں کو پروموٹ کرتا ہے تو حالات بگڑ جاتے ہیں کیونکہ پھر حق بغیر فرض کے ادھورا ہی نہیں گمراہ کن ہوتا ہے اب خواتین کو اپنے حقوق کا شعور ہے اور ریموٹ ائریا کی خواتین بھی اپنے حق کے لئے آواز اٹھاتی ہیں پہلے وہ مشکلات سے ڈر جاتی تھیں اب بہت سی مشکلات کا سامنا کرنے کے بعد ان میں ہمت آگئ ہے یہ فرق ضرور آیا ہے کہ اب وہ اپنی شکایت اپنا شکوہ بیان کرنے لگی ہیں ایسے ہی وہ بڑے جو فرسودہ روایات کے پابند تھے ان میں بھی میڈیا کی وجہ سے شعور آگیا ہے اس میں اچھے پروگرامز، فیچرز، انٹرویوز ان کامیاب خواتین کے جو دور دراز پسماندہ علاقوں میں رہ کر اپنے آپ کو منوا رہی ہیں – یہ ایک مثبت تبدیلی ہے – جس میں میڈیا نے موثر کردار ادا کیا ہے – جو نہ صرف انفرادی طور پر اچھی تبدیلی لاتا ہے بلکہ پورے معاشرے پر اس کا اچھا اثر پڑتا ہے ۔

کیا خواتین کو خواب دیکھنے چاہیں اور ان خوابوں کی تعبیر کے لیے کوشش کرنی چاہیے؟

فرخندہ شمیم-کوئی زندہ آنکھ یا زندہ دماغ کیسے خواب دیکھنے سے بچ سکتا ہے یہ خواب آپ رات سوتے میں نہیں دیکھتے بلکہ یہ وہ خواب ہیں جو آپ جاگتے میں کھلی آنکھوں سے دیکھتے ہیں ان خوابوں کا تعلق منصوبہ سازی سے ہوتا ہے خود کو زندگی کو اس راہ پر گامزن کرنا کہ اپنے ساتھ ساتھ معاشرے کو بھی فائدہ ہو۔ یہ خواب ہوتے ہیں انسانوں کی زندگیاں بدلنے کے لئے، اپنے پاس موجود وسائل کو بنی نوع انسان کی خدمت کے لئے وقف کرنے کے لئے، ان کی زندگیوں کے چھوٹے بڑے مسائل حل کرنے کے لئے، یہ وہ خواب ہیں جو سب سے اہم ہوتے ہیں خواب ہی سے پاکستان بنا تھا اور انبیاء کرام نے خوابوں کو بہت اہمیت دی خواب وجدان ہوتا ہے اور انسان بہتر مستقبل دیکھ لیتا ہے اگر اس کا ارادہ نیک ہو نیت خالص ہو تو اسے بہترین راستہ نظر آنے لگتا ہے جو اس کے لئے بھی مفید ثابت ہوتا ہے اور دوسروں کے لئے بھی ۔

پی ٹی وی میں شمولیت کا خیال کیسے آیا؟

فرخندہ شمیم – پی ٹی وی میں آنا اس لئے بنتا تھا کہ میں پنجاب یونیورسٹی سے صحافت پڑھ رہی تھی اور صحافت کے لئے جو عملی پلیٹ فارم ہوتے ہیں ان میں ٹیلی ویژن ہے، اخبار ہے ریڈیو ہے – اخبارات کے ساتھ بالواسطہ طور پر منسلک تھی ہی کہ رائٹر تھی اور نوائے وقت کے ایڈیشنز کی انچارج تھی تو دل چاہتا تھا کہ الیکٹرانک میڈیا میں جاؤں الیکٹرانک میڈیا میں زیادہ مواقع ہیں اپنی صلاحیتوں کو منوانے کے، اخبار میں صرف قلم ہے، ریڈیو میں آواز ہے جبکہ ٹیلی ویژن میں عکسی طور پر اپنے خیالات و نظریات دکھا سکتے ہیں اور اس کی ویڈیو بہت کام کرتی ہے میسج کو پہنچانے اور موثر بنانے میں، سمجھانے اور سکھانے میں یہ چیز اہم کردار ادا کرتی ہے ۔

کتنے عرصے سے اس ادارے کے ساتھ منسلک ہیں؟ آپ نے بہت سے ادبی پروگرام بھی ترتیب دییے جن کا تعلق تحریکِ پاکستان سے تھا جو آپ کی وجہ شہرت بنے کیسا لگتا ہے جب ماضی میں جھانک کر دیکھتی ہیں؟

فرخندہ شمیم – ادارے کو بہت وقت دیا، رپورٹر رہی، کنٹرولر رہی، نیوز رپورٹر رہی، پروڈکشن کرتی رہی لائیو شوز کئے حالات حاضرہ اور نیوز دونوں کے ساتھ تعلق تھا، شعبہ خواتین، حالات حاضرہ اور ڈیکومنٹری بنانے کا موقع ملا – عالمی سطح پر ڈیکومنٹری کی اور میرے جو مخصوص موضوعات تھے تحریک پاکستان، سافٹ امیج آف پاکستان، پاکستان کی قومی زبان، پاکستان وومن ان پاور منٹ، پاکستان کے رسوم و رواج، اور پاکستان میں مذہبی اعتدال پسندی وغیرہ ان چیزوں کو میں نے زیادہ پروموٹ کیا – اس لئے ان موضوعات میں تنوع تھا – اس کے ساتھ میں نے اپنی ادبی صلاحیت کو بھی استعمال کیا اور اپنی اسکرپٹ رائٹنگ کو منفرد بنایا اور بہت سی ایسی رپورٹس بنائیں جو نظمیہ انداز میں تھیں اکابرین ملت کے حوالے سے یا خاص طور پر یا انٹرنیشنلی قومی دن جو ہوتے تھے، بچوں کے، خواتین کے، یا مزدوروں اور معذروں کے ان کو نظمیہ انداز میں پیش کیا پہلے نظم لکھتی تھی پھر ویڈیوز بناتی تھی اور یہ بہت مقبول سلسلہ بن گیا تھا پی ٹی وی کے خبرنامے کا – اسوقت بھی بہت اچھا لگتا تھا اور ابھی بھی بہت اچھا لگتا ہے۔

اپنے شاگردوں اور نئے آنے والوں کو ہم یہ ڈیکومنٹری دکھاتے ہیں جو ہمارے پاس ابھی بھی محفوظ ہیں تاکہ وہ ان سے سیکھ کر جب پروفیشنل لائف میں جائیں تو ان کے سامنے کچھ خطوط، کچھ لائنز موجود ہوں جن کو سمجھ کر پھر وہ اپنے طور پہ نئ ورائٹی لائیں نئ ٹیکنالوجی کی مدد سے اور کامیاب ہوں ۔

آپ کو آپ کی پچاس سالہ ادبی خدمات پر ایوارڈ سے نوازا گیا کیسا لگا کہ آپ کی خدمات کا اعتراف کیا گیا اسوقت کیا آپ کو وہ ایوارڈ یاد آیا جو آپ کو آپ کی پذیرائی کے لیے پہلی بار ملا تھا؟

فرخندہ شمیم – جی جب حلقہء ارباب ذوق کے جب پچاس سال ہوئے تو یوم تحصیس تھا اسلام آباد میں اس حلقے پر مجھے ایوارڈ دیا گیا لیکن میری اپنی ادبی یا تخلیقی خدمات پچاس سال پر محیط نہیں ہیں کیونکہ میں ابھی اس عمر تک پہنچی نہیں ہوں لیکن انہوں نے زمانہ طالب علمی سے لے کر افسانہ لکھنے، افسانوں کے تراجم، افسانوں پر تھیسز،افسانوں پر گفتگو، نظموں پر اور میرے ساتھ جو کامیابیاں رہیں ان پر ایوارڈ دیا پھر میں مختلف حلقوں کی سیکرٹری بھی رہی انتظامی امور سنبھالی رہی ان ساری خدمات کے اعتراف میں دیا گیا جہاں تک پہلے ایوارڈ کی بات ہے تو وہ کبھی نہیں بھولتا – پہلا ایوارڈ والدصاحب کی طرف سے تھا جب انہوں نے تھپکی دے کر کہا تھا “میرا بیٹا اچھا لکھتا ہے – اس کے بعد بہت سے عالمی ایوارڈز بھی ملتے رہے لیکن اس جملے، اس ایوارڈ کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکا – اس کے علاوہ طالب علمی کے زمانے میں چونکہ بہت اچھی طالبہ رہی اور ہر سال پوزیشن لیتی تھی وہ اک چھوٹا سا کپ یا ٹرافی بھی بہت معنی رکھتے تھے ۔

شعور کی زندگی کی پہلی بارش ہو، جذبات کی زندگی کا پہلا رومان ہو یا پہلا اعتراف فن، یا پہلی چاہت ہو یعنی کچھ بھی ہو پہلا،” پہلا” کبھی نہیں بھولتا ۔

ادبی دنیا یا پی ٹی وی جیسے ادارے سے منسلک ہونے کے بعد کیسے لوگوں سے واسطہ پڑا؟

فرخندہ شمیم – اصل میں واسطہ کوئی طے شدہ چیز نہیں ہوتا انسان سارے انسان ہیں خوبیوں اور خامیوں کے ساتھ ہی زندہ رہتے ہیں اور اخیر تک پہنچ جاتے ہیں۔  پی ٹی وی میں جب میں تھی تو وہ بڑا زرخیز دور تھا کہ وہاں صحافت کو بھی، تخلیق کو بھی، اسکرپٹ رائٹنگ کوبھی، پروڈکشن کو بھی، ان سب کو بہت سنجیدگی سے لیا جاتا تھا – اکیڈمیز میں ہماری ٹریننگ ہوتی تھی تو وہاں اچھے ٹیچرز سے واسطہ پڑا لیکن اس کے باوجود یہ بات صحیح ہے کہ ہمیشہ سبز رنگ کا مخمل نہیں ملتا زندگی میں، آپ کی پروفیشنل لائف اور ازدواجی زندگی بالخصوص ابتدائی سال بڑے کٹھن ہوتے ہیں اور وہیں پہ آپ کی صلاحیت کا پتہ چلتا ہے تو اسی زمانے میں تعین ہو جاتا ہے دودھ کا دودھ، پانی کا پانی، کہ آپ کتنا آگے چل سکیں گے ان حالات کے ساتھ ۔

میں سمجھتی ہوں کہ انسان کے جو ابتدائی دن ہوتے ہیں ان میں بہت سمجھ سے کام لینا چاہیے بہت تحمل سے اور بہت محنت سے کام کرنا چاہیے – بہت مشکل وقت بھی زندگی میں آتے ہیں کہ آپ کو نہیں ٹکنے دینا چاہتے تو محنت، آپ کا حسن اخلاق، اور آپ کا صبر یہ تین چیزیں بہت بڑے بڑے ہتھیار ہیں۔  اگر آپ کے پیچھے کوئی بیک نہیں بھی ہے، کوئی بولنے والا نہیں بھی ہے حمایتی، کوئی کشن نہیں بھی ہے یا آپ کسی گروپ کا حصہ نہیں بھی ہیں کسی کیمپ کا حصہ نہیں ہیں تو یہ ہی چیزیں آپ کو بہت آگے لے جاتی ہیں اس میں تکلیف بھی رہتی ہے دکھ بھی ہوتے ہیں مایوسی بھی آجاتی ہے اعصاب جواب دے جاتے ہیں لیکن اس کے باوجود یہ ہی سچائی ہے کہ اختتام پر فاتح یہ ہی چیزیں بناتی ہیں ۔

زندگی کا کوئی تلخ تجربہ یا واقعہ جو آپ سب لوگوں سے شئر کرنا چاہیں؟

فرخندہ شمیم-خوشگوار ناخوش گوار سبھی واقعات زندگی میں آتے رہتے ہیں میرا چونکہ بچپن کا اور طالب علمی کا زمانہ پھولوں میں ہی گزرا خوش قسمتی سے میرے ساتھ ایسا کوئی معاملہ نہیں ہوا – پروفیشنل لائف میں بعض اوقات سخت رویوں کا سامنا ہوتا تھا لیکن اس کے بعد کی زندگی میں الحمد للہ کبھی کوئی تلخی نہیں آئی اور جو تلخیاں آئیں بھی تو میں نے ان تلخیوں پر قابو پا لیا تھا – اور جب آپ قابو پا لیتے ہیں کسی بھی تلخی پر تو وہ داخل دفتر ہو جاتی ہے اس لئے اس معاملے کو اٹھانے یا اہمیت دینے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔

معاشرتی رویے جنہیں آپ نے اپنے افسانوں کو موضوع بھی بنایا ہے آپ کس حد تک متاثر ہوتی ہیں یا اردگرد موجود لوگوں کے رویے کس حد تک آپ پر اثر انداز ہوتے ہیں؟

فرخندہ شمیم – جی لکھنے والا اپنے معاشرے سے ہی کہانیاں لیتا ہے، مشاہدے سے، اردگرد کے ماحول سے، اپنی ذات سے لیتا ہے میں سمجھتی ہوں مشاہدہ اور تخیل، قوت متخلیہ بہت زیادہ حصہ لیتی ہے تخلیقی سطح پر – فرض کریں ہم نے قرون وسطی اور قرونِ اولی کی کہانیاں پڑھی ہوئی ہیں – ہم اسوقت میں موجود نہیں ہیں لیکن اپنی قوت متخیلہ سے ایسی فضا قائم کر سکتے ہیں کہ یوں ہوا ہوتا ہو گا ایسی زندگی ہوتی ہو گی یوں کہانیاں ہوتی ہونگی یوں فسانے ہوتے ہونگے ادیب انسانوں کو بنیاد بنا کر ویسی فضا تخلیق کرنے پر دسترس رکھ سکتا ہے کیونکہ قوت متخیلہ بہت اہم ہوتی ہے قوت متخیلہ ہی ہمیں اللّٰہ تعالی کے قریب کرتی ہے ہم نے وہ سنہری ادوار نہیں دیکھے جو ہماری اسلامی تاریخ کے ہوں، سیاسی ہوں یا ریاستی ہم نے وہ ادوار دیکھے نہیں لیکن ہم انہیں قوت متخیلہ سے زندہ کر لیتے ہیں

تو معاشرے میں موجود چیزوں کو دیکھ کر گزر نہیں جانا چائیے بلکہ ان پر نگاہ رکھنی چاہیے اسی سے ہمیں کہانی کے مرکزی کردار ملتے ہیں اور کرداروں سے ملتے رہنا چاہئے میرا تجربہ یہ ہے کہ جب آپ ہر طرح کی کلاس سے ملتے ہیں، بات کرتے ہیں ایک تو آپ کو فرق کا پتہ چل جاتا ہے اور ہر کلاس کا سوچ کا انداز پتہ چل جاتا ہے اور ردعمل مختلف ہوتا ہے ہر کلاس کا – اسی لئے معاشرتی روئیے موضوع بنتے ہیں زاتی زندگی بھی موضوع بنتی ہے دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ ہم اپنے افسانے یا کہانی کو انجام دیتے ہوئے کس نہج پر ہیں ہم سوسائٹی کو انتقامی بنا رہے ہیں یا پڑھنے والوں کو سختی پہ لا رہے ہیں گو کہ افسانہ لکھنے والے کا یہ مقصد نہیں ہوتا کہ وہ اصلاح کر رہا ہے بلکہ غیر محسوس طریقے سے سوسائٹی کی اصلاح بھی کرنی چاہیے مشکل ترین زندگی کو پیش کرتے ہوئے بھی مثبت پہلو کو مدنظر رکھناچاہیے۔

آپ ایک بہترین شخصیت کے ساتھ ساتھ بہت عمدہ شاعرہ اور افسانہ نگار بھی ہیں آپ بتا سکتی ہیں کہ آپ نے مطالعے کو کتنا وقت دیا؟

فرخندہ شمیم – جی بالکل – لکھنے کے لئے ہی نہیں شعور کے لئے بھی پڑھنا بہت ضروری ہے آپ کچھ بھی پڑھے بغیر لفظوں کو جانے بغیر آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ آپ بہت اچھے لکھاری ہیں اگر آپ میں مطالعے کا رجحان نہیں آپ نے کوئی لفظ یا متن کبھی پڑھا ہی نہیں تو کیسے اسے اپنے الفاظ میں لکھ سکتے ہیں مطالعے کے حوالے سے یہ کہوں گی کہ کتاب کا روز ایک صحفہ پڑھ لینا سو تخلیقات پر بھاری ہے مطالعہ ہر طرح کا ہر نوعیت کا کرتے رہنا چاہیے اس سے ورائٹی آتی ہے اور چونکہ صحافی کو ہر چیز پڑھنا پڑتی ہے دیکھنا پڑتی ہے چاہے شعبہ معاشیات ہو، سیاسیات ہو، سماجیات ہو بھلے اس کا رجحان کسی خاص پہلو پہ ہو لیکن اسے پڑھنا چائیے صحافی ہونے کے علاوہ جنرل نالج کے لئے بھی مطالعہ ضروری ہے – ہمارے ہاں مطالعے کے رجحان بہت کم ہیں نئ نسل میں کتاب کو چھونا جیسے ممنوع ہو گیا ہے- کتاب سے گریز کرتے ہیں اس لئے خطر ہ ہے کہ لائبریریاں ختم نہ ہو جائیں کیونکہ ہم ٹیکنالوجی کی مدد سے چیزیں محفوظ تو کر سکتے ہیں ٹیکنالوجی کی اپنی اہمیت ہے لیکن کتاب اور لائبریری اپنی جگہ اہم ہے کیونکہ کتاب اور لائبریری میں وائرس نہیں آتا اور ٹیکنالوجی میں کسی وقت وائرس بھی آجاتا ہے اور سب کچھ غلط کر سکتا ہے ۔

ایک ادیب کو کیسا ہونا چاہیے؟

فرخندہ شمیم – ادیب کو غیر منافق شخص ہونا چاہیے آپ قلم کے ساتھ منافقت نہیں کر سکتے عام زندگی میں آپ کا تعلق صرف آپ سے اور آپ کے کسی دشمن دار سے ہے تو وہاں آپ چالاکی بھی کر سکتے ہیں اور چکمہ بھی دے سکتے ہیں لیکن اگر آپ بطور ادیب پوری سوسائٹی سے مخاطب ہیں تو وہاں پر ہر گز کوئی چکمہ بازی نہیں کی جا سکتی، منافقت نہیں کی جا سکتی، اور منافقت کی ایک شکل یہ بھی ہوتی ہے کہ لکھنے والے تبلیغ تو بہت اچھی کرتے ہیں لیکن ان کی اپنی زندگی میں بہت سے ایسے خطرناک معاملات اور موڑ ہوتے ہیں کہ اگر ان کی بائیوگرافی دیکھی جائے تو بڑی مایوسی ہوتی ہے تو کوشش کرنی چاہیے کہ انسانی خامیوں کو جو قدرتی طور پر بھی انسان میں ہوتی ہیں ان کو ہوا نہ دی جائے اپنی شخصیت کے اندر سے انہیں نکالنے کی کوشش کی جائے – کم ازکم ایک مبلغ کو، ایک معلم کو اور ایک ادیب کو یہ زمہ داریاں زیادہ اٹھانی چاہیں بہ نسبت عام آدمی کے ۔

نئ نسل میں اپنے بڑوں کے پاس بیٹھنے تک کا وقت نہیں ہوتا اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ کیا کرنا چاہیے کہ وہ ایکدوسرے کے قریب آسکیں؟

فرخندہ شمیم – اس میں بچوں کو موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا کہ وہ بڑوں کے پاس نہیں بیٹھتے انسان کی بنیادی ضرورت ہے ابلاغ یعنی کمیونیکیشن – ایکدوسرے سے بات کرنا – آجکل عموماً دیکھا گیا ہے بڑے خود ہی ملازمت کے بہانے یا دیگر مصروفیات کی وجہ سے بچوں کو وقت نہیں دیتے ایسے میں بچے نیٹ پہ مصروف نظر آتے ہیں پہلے یہ ہوتا تھا کہ دوستوں سے ملاقات کر لی ان کو گھر بلا لیا یا ان کے گھر چلے گئے اب اس کے لئے بھی واٹس ایپ موجود ہے جو نزدیک یا دور بیٹھے تمام لوگوں کے لئے رابطے کا اہم ذریعہ بن گیا ہے دوسری اہم وجہ انٹرنیٹ پہ ہر اچھی اور بری چیز موجود ہے بچے پھر اپنے لیے ایسی سرگرمیاں یہیں ڈھونڈ لیتے ہیں – بچوں کے لئے ضروری چیز یہ ہے کہ گھر سے ہی ان کے لئے ابلاغ کو یقینی بنایا جائے وہ شام کو مل کر بیٹھنا، دن بھر کی اپنی سرگرمیوں کے احوال ایکدوسرے کو سنانا، مل کر کھانا کھانا، یہ سب چیزیں اب ناپید ہو گئ ہیں ان چیزوں کو بڑے اپنی زندگیوں میں نہیں لا رہے تو میں سمجھتی ہوں کہ یہ بڑوں کا قصور ہے وہ بچوں کو اپنے پاس بیٹھنے کی ترغیب ہی نہیں دیتے نہ ہی بچوں کے لئے وقت نکالتے ہیں نہ بچوں سے ان کے سارے دن کی روٹین پوچھتے ہیں جب بڑے ان کی بنیادی ضرورت کا خیال رکھتے ہوئے بچوں کو وقت دیں گے ان کے لئے وقت نکالیں گے انھیں اپنے پاس بٹھا کر بات کریں گے تو یقیناً ایک مثبت تبدیلی رونما ہو گی والدین اگر چھٹی کا دن ہی مخصوص کر لیں بچوں کے ساتھ وقت گزاریں، مل کر کھانا کھائیں، مختلف سرگرمیوں میں ان کے ساتھ حصہ لیں، بحث و مباحثہ کریں، اس میں کتب کے حوالے سے بات ہو سکتی ہے پھر نظریات پہ بات کریں، اس کے علاوہ دین کے بارے میں انھیں بتایا جائے دین یا مذہب کے حوالے سے آجکل بہت کم لوگ بات کرتے ہیں جو کرتے ہیں ان کا رویہ انتہا پر ہے اور کچھ بالکل دین کے بارے میں بات نہیں کرتے کہ بچوں کو اپنے مزہب کا پتہ ہو کہ انھوں نے اپنی زندگیاں کیسے گزارنی ہیں – اس میں کالج جانے والے بچوں کو زیادہ توجہ کی ضرورت ہوتی ہے ان سے بات کرنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ گھر میں ابلاغ بہترین ہو تو وہ باہر اپنی نفسیاتی ضرورت کو پورا نہ کریں ۔

اردو کے فروغ کے لیے بھی آپ نے بہت کام کیا آجکل اس کے فروغ کے لیے بہت سے لوگ کوشاں ہیں کیا آپ مطمئن ہیں کہ اردو کو اتنی اہمیت دی جاتی ہے جتنی دینا ضروری ہے؟

فرخندہ شمیم – اردو کے فروغ کے لئے بہت سے نجی اور سرکاری ادارے کام کر رہے ہیں لیکن یہاں بھی بدنیتی ہے کیونکہ جو لوگ سرکاری سطح پر اردو کے فروغ کے لئے کام کر رہے ہیں اور ہائی کوالیفائیڈ ہیں انہوں نے بھی اپنے بچوں کو ان اداروں میں تعلیم دلوائی ہے جن میں غیر ملکی زبان رائج ہے اور انہیں اسی زبان میں حکومت کروانا چاہتے ہیں جو سیاست دانوں کے بچے ہیں کوئی بھی پاکستانی تعلیمی اداروں میں نہیں پڑھا وہ تو اردو زبان سے نابلد ہیں وہ تو اس نظرئیے کے تحت سیکھتے ہیں کہ انہیں اردو آنی چاہیے کہ انہوں نے پاکستان کے عوام سے خطاب کرنا ہے ورنہ تو وہ دل سے اردوزبان کی خدمت نہیں کر رہے ہیں کیونکہ انہیں پتہ ہی نہیں ہے کہ اردو زبان ہے کیا؟ تو ایسے میں نصاب ترتیب دینے والے اگر انگریزی زہن کے ہوں تو وہ اردو زبان کو اہمیت نہیں دیں گے اور ایسا ہو رہا ہے ہمارے ملک میں، اردو زبان کو سپریم کورٹ نے بھی سرکاری زبان قرار دے دیا لیکن اس کا بھی مذاق اڑایا گیا اب جو نیا نصاب آرہا ہے اس نے مزید حد کر دی ہے کہ باہر سے اک خاص فیڈ ہے جو کی جا رہی ہے ایسے مضامین پڑھائے جائیں جن کی تاریخ اور ثقافت کا تعلق یورپ سے ہے وہاں کی کشش پیدا کی جائے تو اردو کے ساتھ تو بڑی زیادتیاں ہو رہی ہیں – اردو کی جو تحریکیں چل رہی ہیں وہ تو بڑی محنت سے کام کر رہی ہیں لیکن ان کو بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے عدالت نے ایک فیصلہ دے کر اس پر عمل درآمد نہیں کرایا ۔

بطور معلمہ آپ کا تجربہ کیسا رہا بہت سی نسلوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنا بہت بڑی زمہ داری ہے یقیناً آپ نے اس زمہ داری کو بھی بخوبی نبھایا ہو گا؟

فرخندہ شمیم – بطور معلمہ تجربہ بہت اچھا رہتا ہے کیونکہ آپ کو ان نوجوانوں سے بات کرنے اور ان کی تربیت کا موقع ملتا ہے جو کچھ سیکھنا چاہتے ہیں – اور ان میں وہ نوجوان جو سنجیدہ طبعیت کے مالک ہوتے ہیں جن کا کوئی وژن ہے ان سے بات کر کے ہمیں تازگی ملتی ہےاور دوسری اہم بات کہ ہم اپنا مشاہدہ، اپنا تجربہ ان میں منتقل کرتے ہیں تو وہ اس کو سمجھ رہے ہوتے ہیں مجموعی طور پر ہم پوری کلاس کو پڑھاتے ہیں لیکن زیادہ سمجھنے والے زہن ہر ایک نہیں ہوتا اور جو سمجھنے والے ہوتے ہیں انہیں سمجھنا ان کی حوصلہ افزائی کرنا بہت ضروری ہوتا ہے اور جو اس درجے پہ نہیں ہوتے انہیں موٹیویٹ کرنا، ان کی تربیت بہتر انداز میں کرنا، انہیں کام کی طرف مائل کرناایک معلم کا کام ہے اور اگر وہ بچے چھوٹی کلاسز میں ہیں تو ان کے والدین کو بھی ان کی ہر طرح کی کارکردگی سے آگاہ کرنا، تاکہ معلم اور والدین مل کر ان کی بہترین انداز میں تربیت کر سکیں ۔

بطور صحافی یا ادیب کے آپ کیا محسوس کرتی ہیں کہ سچ بولنے کی آزادی ہے؟

فرخندہ شمیم – بطور صحافی یا ادیب انقلاب تو لایا جا سکتا ہے لیکن اس کے لئے سمت درست ہو معاشی استحصال ہو یا ادب کے حوالے سے جو تحریکیں چلیں انقلاب آئے ایران میں تحریک چلی اور کامیاب ہوئی اپنی جگہ جو تحریک چلتی ہے وہ اثر رکھتی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ پوری سوسائٹی کو ابتری کا شکار کر دیا جائے تحریک چلتی ہے ذہنوں کو بدلنے کے لیے، روز مرہ زندگیاں خراب کرنے کے لئے نہیں معمول کی زندگیوں کو ڈسٹرب کرنے کے لئے نہیں، ادیب اور صحافی بکنا چھوڑ دے ریٹنگ کے چکر سے نکل کر کام کرے کہ فلاں کے حق میں بولو اور فلاں کے خلاف بات کرو اور کچھ خاص لوگوں کے لئے کام کرے یہ جانے بغیر کہ جو چیز پوری انسانیت کے لئے ضروری ہے اسے کرنا چائیے لیکن اپنے مفادات کے لئے اگر وہ انسانیت کو بھول جاتا ہے تو معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے بلکہ صحافی اور ادیب کی بہت بڑی زمہ داری ہے کہ وہ اپنے مقصد حیات کو سمجھتے ہوئے انسانیت کے لئے کام کرے بجائے اس کے کہ وہ خاص حلقوں، خاص لوگوں کو خوش کرنے کی تگ و دو میں لگا رہے – درست سمت کا تعین کر کے ہی ایک ادیب یا صحافی سچ کی راہ پہ چل سکتا ہے اگر سمت درست ہو گی تو سچ بولنے کی طاقت خود ہی آجائے گی کیونکہ سچ بولنے والے کو یہ خوف نہیں ہوتا کہ میں سچ نہیں بولوں گا تو میرا یہ نقصان ہو گا میری مراعات کٹ جائیں گی ۔

’’کوئی اہم پیغام جو اپنے قارئین کو دینا چاہیں؟‘‘

فرخندہ شمیم – اہم پیغام وہی ہے جو مستند ہے کہ آپ جہاں کہیں ہیں سخت محنت اور ایمانداری آپ کو کامیابی کی منزل تک پہنچا سکتے ہیں – یہ آج بھی لانگ ٹرم ہے اس میں کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے اور دیر پا ہے ۔

اسی پیغام کے ساتھ ہم نے محترمہ فرخندہ شمیم سے اجازت چاہی ان کے لئے دعا ہے ان کا قلم کبھی نہ رکے اور تربیت کا جو سلسلہ انہوں نے بطور ادیب اور بطور معلم بھی شروع کیا ہے وہ یوں ہی جاری و ساری رہے ۔

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *