موجودہ کرونائى حالات پر نظم
حمیرا نگہتؔ
گھروں مىں بھوک اور باہر وباہے
ىہ کىسا اک عذاب اترا ہوا ہے
پڑى ہے ٹوٹ کر آفت ىہ کىسى
زمانہ خوف سے سہما ہوا ہے
کہىں پر آکسىجن کى کمى ہے
ہوا کا کال جىسے پڑ گىا ہے
مرىضوں کے لئے بستر بھى کم ہىں
نہ ہى تدفىن کى کوئى جگہ ہے
ترا مىرا نہىں ىہ دکھ ہے سانجھا
ىہ تو اقوامِ کل کا مسئلہ ہے
بڑھا کر حوصلہ اک دوسرے کا
ہمىں ىہ وقت مشکل کاٹنا ہے
اٹھا کر ہاتھ سب مانگو دعائىں
دعا ہى اب تو بس ردِّبلا ہے
منالىں آؤ مل کے اپنے ربّ کو
جو شاىد ہم سے اب روٹھا ہوا ہے

