غزل ۔ ۔ ۔ پروین شاکر
شاعرہ: پروین شاکر
شب وہی لیکن ستارہ اور ہے
اب سفر کا استعارہ اور ہے
ایک مٹھی ریت میں کیسے تھمے
اس سمندر کا کنارہ اور ہے
جنگ کا ہتھیار طے کچھ اور تھا
تیر سینے میں اتارا اور ہے
متن میں تو جُرم ثابت ہے مگر
حاشیہ سارے کا سارا اور ہے
ساتھ تو میرا زمیں دیتی مگر
آسماں کا ہی اشارہ اور ہے
دھوپ میں دیوار ہی کام آئے گی
تیز بارش کا سہارا اور ہے
ہارنے میں اِک اَنا کی بات تھی
جیت جانے میں خسارہ اور ہے
حد چراغوں کی یہاں پر ختم ہے
آج سے رستہ ہمارا اور ہے


