غزل
حمیراناصر
تری قربت کا کوئی جب حسیں موسم بناتی ہوں
میں دھڑکن تیز اور سانسوں کو کچھ مدھم بناتی ہوں
وہ اپنے تلخ لہجے سے ہمیشہ زخم دیتا ہے
میں لفظوں کے توقف چن کے پھر مرہم بناتی ہوں
عجب سا اک تعلق ہے ان اشکوں کا مرے دل سے
میں آنکھیں جب بناتی ہوں انہیں پرنم بناتی ہوں
میں شک کا فائدہ دے کر وفا کے ایک مجرم کو
وکیل اس عشق کو کر کے اسے ملزم بناتی ہوں
پکڑ لیتا ہے دل یہ ضد کہ اب یہ بول بھی اٹھے
تری تصویر اب اس واسطے کم کم بناتی ہوں
تصور میں مرے اپنوں کے چہرے جگمگاتے ہیں
تو لمحے جوڑ کر یادوں کا اک البم بناتی ہوں
خیال و فکر کے میرے ، پرندے روز مرتے ہیں
میں ان ٹوٹے پروں سے فکرِ تازہ دم بناتی ہوں

