شعر و شاعری

غزل

Spread the love

حمیراناصر

تری قربت کا کوئی جب حسیں موسم بناتی ہوں

میں دھڑکن تیز اور سانسوں کو کچھ مدھم بناتی ہوں

وہ اپنے تلخ لہجے سے ہمیشہ زخم دیتا ہے

میں لفظوں کے توقف چن کے پھر مرہم بناتی ہوں

عجب سا اک تعلق ہے ان اشکوں کا مرے دل سے

میں آنکھیں جب بناتی ہوں انہیں پرنم بناتی ہوں

میں شک کا فائدہ دے کر وفا کے ایک مجرم کو

وکیل اس عشق کو کر کے اسے ملزم بناتی ہوں

پکڑ لیتا ہے دل یہ ضد کہ اب یہ بول بھی اٹھے

تری تصویر اب اس واسطے کم کم بناتی ہوں

تصور میں مرے اپنوں کے چہرے جگمگاتے ہیں

تو لمحے جوڑ کر یادوں کا اک البم بناتی ہوں

خیال و فکر کے میرے ، پرندے روز مرتے ہیں

میں ان ٹوٹے پروں سے فکرِ تازہ دم بناتی ہوں

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *