سچائي کا سورج
امة الباري ناصر
سچائي کا سورج نکلا ہے آنکھيں کھوليں ‘ديکھيں تو
اک چشمہء صافي پھوٹا ہے پي ليں ذرا سا چکھيں تو
ہم لوگوں کي خوش بختي ہے وقتِ مسيحا پايا ہے
اب قرب کا ميداں خالي ہے اس کي جانب جائيں تو
دنيا سے لينا دينا کيا خوداس کا دامن خالي ہے
جو داتا سب کا رازق ہے ہم ناتا اس سے جوڑيں تو
شر پھيل گيا ہے دنيا ميں ہر خير ہے پيارے مولا ميں
ظلمت سےنور ميں لاتا ہے ہم اس کا دامن تھاميں تو
جو اس کے طالب ہوتے ہيں وہ اس کو پا ہي ليتے ہيں
وہ دل ميں گھر کر ليتا ہے ہم دل سے اس کو چاہيں تو
ما لک بڑا دل والا ہے کرتا ہے شفقت بندوں پر
بخشش کي اس کو عادت ہے ہم اس سے بخشش مانگيں تو
اچھا ہے محبت سے رہنا کيا دل ميں رنجش رکھني ہے
يوں روٹھے روٹھے رہنے سے کيا ہوگا حاصل سوچيں تو


