خلافت
آنسہ فہیم
خدا کا ہے وعدہ کے صالح ہیں جو
خلافت کی خلعت انھیں دے گا وہ
وہ ہو نوردین یا کے محمود وہ
ہو ناصر یا طاہر یا مسرور وہ
سروں پر ہمارے امامت رہے
خدایا ہمیشہ خلافت رہے
خلافت غریبوں کے سر پر ردا
خلافت ہمارے دلوں کی غذا
امن بخش دے خوف کردے جدا
دل و جان اولاد اس پر فدا
میسر ہمیں یہ سعادت رہے
خدایا ہمیشہ خلافت رہے
جماعتیں منظم خلافت سے ہی
مجالس کی دوڑیں خلافت سےہیں
نمائش یہ ریلی یہ سرگرمیاں
چمن کی بہاریں خلافت سے ہیں
نہ دل میں کبھی بھی عداوت رہے
خدایا ہمیشہ خلافت رہے
زمیں کے کناروں تلک جا بجا
سنو! دین حق کا ہے ڈنکا بجا
تراجم ہیں قرآن کے بھی ہوئے
مساجد سے سارا جہاں ہے سجا
ترقی کا رستہ سلامت رہے
خدایا! ہمیشہ خلافت رہے

