راہ چاہ شکستہ اور زخم آبلہ پائي
(سعديہ تسنيم سحر)
راہ چاہ شکستہ اور زخم آبلہ پائي
کونسے نگر اتريں چاند کے تمنائي
راکھ آرزووں کي شہر دل ميں اڑتي ہے
’’اور کيا دکھائے گي يہ طويل تنہائي‘‘
عکس تيرے چہرے کا ميرے رخ سے جھلکے ہے
نقش خود بتاتے ہيں کس سے ہے شناسائي
دوستي ہے پتھر سے آشنا ہيں کانٹوں سے
زخم سے ہي بڑھتي ہے عاشقوں کي زيبائي
عشق نے مقدر سے دہري مات کھائي ہے
ہجر ميں ہے تنہائي وصل ميں ہے رسوائي
کون ہم سے پوچھے گا کون ہم کو لکھے گا
قصہ اس محبت کا جو کبھي نہ مل پائي
ہم نہ ہار مانيں گے، ہم نہ تھک کہ ٹھہريں گے
راستوں کو کھوجيں گے منزلوں کے شيدائي

