استاد کى چھڑى
(بچے کى نظر مىں)
ىہ کىا ہے مرى جاں کا آزار ہے
مرى زندگى اس سے دشوار ہے
سراسر مرے حق مىں ىہ زہر ہے
بلا ہے مصىبت ہے ىا قہر ہے
کرے کھىلنے کا مزا کِرکِرا
ڈرے جو نہ اس سے وہ ہے سرپھرا
پڑے پىٹھ پر گر ذرا چُوک ہو
کلىجے مىں اس سے نہ کىوں ہُوک ہو
مجھے خواب مىں بھى ڈراتى ہے ىہ
مرى نىنداکثر چراتى ہے ىہ
خىالوں مىں آکر ستاىا کرے
سدا خوں کے آنسو رلاىا کرے
کبھى مجھ کو مرغا بناتى ہے ىہ
کبھى دن مىں تارے دکھاتى ہے ىہ
حرام اس کے دَم سے ہوئى زندگى
کہاں تک اٹھاؤں مىں شرمندگى
بڑوں کا تو کہنا ہے رحمت ہے ىہ
مگر مىرے حق مىں تو زحمت ہے ىہ
سمجھتا ہوں دل سے اسے واہىات
خداىا مجھے دے تو اس سے نجات
کئى خوبىاں اس مىں جلّاد کى
چھڑى کہتے ہىں جس کو استاد کى


