غزل
کنیز بتول نجمہ
میرے ربوہ کے اے مولا سلامت بام در رکھنا
ہر اک گھر کے باغیچے کو ہمیشہ باثمر رکھنا
سنا ہے یاں کی مٹی نے قدم چومے خلیفہ کے
سدا اس خاک میں اس فیض کا شامل اثر رکھنا
میرے ربوہ کا سورج ہے جو لندن میں چمکتا ہے
تو اپنے نور کو اس کا ہمیشہ ہمسفر رکھنا
خدا ندا بچا لینا شہر میرا اندھیروں سے
سدا اس شہر میں توحید کی روشن سحر رکھنا
یہاں کے باسیوں کا بن ترے کو ئی نہیں مولا
ہمارے حال پر ہر دم کرم کی ہی نظر رکھنا
کو ئی بھی احمدی تیری ذمین پر ہو کہیں رہتا
تو اپنے فضل سے مولا دلو ں کو جوڑ کر رکھنا
لئے امید کا کاسہ تیری نجمہ سوالی ہے
سدا پھل سے بھرا میری امیدوں کاشجر رکھنا

