درس القرآن

درس قرآن کریم

Spread the love

 

يٰنِسَآءَ النَّبِيِّ مَنْ يَّاْتِ مِنْكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ يُّضٰعَفْ لَهَا الْعَذَابُ ضِعْفَيْنِ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَی اللّٰهِ يَسِيْرًا ۔ وَمَنْ يَّقْنُتْ مِنْكُنَّ لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تَعْمَلْ صَالِحًا نُّؤْتِهَاۤ اَجْرَهَا مَرَّتَيْنِ١ۙ وَاَعْتَدْنَا لَهَا رِزْقًا كَرِيْمًا۔ يٰنِسَآءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِيْ فِيْ قَلْبِهٖ مَرَضٌ وَّ قُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا۔ وَقَرْنَ فِيْ بُيُوْتِكُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْاُوْلٰی وَ اَقِمْنَ الصَّلٰوةَ وَاٰتِيْنَ الزَّكٰوةَ وَ اَطِعْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَ يُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْرًا(سورة الاحزاب آیت 31 تا 34)

ترجمہ:

اے نبی کی بیویو! جو بھی تم میں سے کھلی کھلی فاحشہ کا ارتکاب کرے گی اس کے لئے عذاب کو دوگنا بڑھا دیا جائے گا اور یہ بات اللہ پر آسان ہے۔ اور تم میں سے جو اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے گی اور نیک اعمال بجا لائے گی ہم اسے اس کا اجر دو مرتبہ دیں گے اور اس کے لئے ہم نے بہت عزت والا رزق تیار کیا ہے۔ اے نبی کی بیویو! تم ہر گز عام عورتوں جیسی نہیں ہو بشرطیکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔ پس بات لجا کر نہ کیا کرو ورنہ وہ شخص جس کے دل میں مرض ہے طمع کرنے لگے گا۔ اور اچھی بات کہا کرو۔ اور اپنے گھروں میں ہی رہا کرو اور گزری ہوئی جاہلیت کے سنگھار جیسے سنگھار کی نمائش نہ کیا کرو اور نماز کو قائم کرو اور زکوٰة ادا کرو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ اے اہلِ بیت! یقیناً اللہ چاہتا ہے کہ تم سے ہر قسم کی آلائش دور کردے اور تمہیں اچھی طرح پاک کردے۔

تفسیر:

فَاحِشَةٌ: ناشائستہ حرکت۔ اور اس بُرے کام کو کہتے ہیں جس کی بُرائی نظر آجائے۔ چونکہ نبی کی بیویوں کو اعلیٰ نیکیوں کی تعلیم دی گئی ہے اس لئے اگر ان سے کوئی ایسا کام ظاہر ہو جو اعلیٰ نیکی نہیں گو عام نیکی ہے تب بھی وہ محاورہ میں فَاحِشَةٌ کہلائے گا۔

وَاَعْتَدْنَا لَهَا رِزْقًا كَرِيْمًا: اس میں معرفت کا نکتہ ہےکہ جو بی بی فرماں بردار ہوگی۔ اسے رزقِ کریم دیا جائے گا۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ کو اس رزق سے بہرۂ وافی ملا۔ جس سے ثابت ہوا کہ وہ بہت فرماں بردار تھیں۔

فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ: حضرت عاشہؓ کھل کر بات کہہ دیتی تھیں۔ یہ اس ارشاد کی تعمیل ہے۔

لَا تَخْضَعْنَ: دبی زبان سے مت کہو۔

وَ لَا تَبَرَّجْنَ: حضرت عائشہؓ کو ایک جنگ بھی پیش آئی مگر اس میں جاہلیت الاولیٰ کی صورت نہیں۔

لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بی بی ماریہؓ پہلے عیسائی تھیں اور صفیہؓ یہودی۔ اس قسم کے عقیدوں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں پاک ہوئیں۔

وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ: جاہلوں کی طرح اکھاڑوں میں نہ نکلو۔

وَاٰتِيْنَ الزَّكٰوةَ: عورتوں کو لازم ہے کہ اپنے مال میں سے علیحدہ خود زکوٰة دیں۔

اَهْلَ الْبَيْتِ: تین دفعہ قرآن میں یہ لفظ آیا ہے۔ تینوں جگہ بیبیاں ہیں۔ شیعہ پر حجّت ہے جو بیبیوں کو اس میں گنتے نہیں۔

(حقائق الفرقان جلد سوم صفحہ

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *