گوشۂ ادب

افسانچہ

Spread the love

از حمیرا قریشی

عورتیں اپنی آنکھوں پر صرف وہی چشمہ لگانا پسند کرتی ہیں جس میں سے انکا مرد انہیں ویسا ہی نظر آئے جیسا وہ دیکھنا پسند کرتی ہیں اور بہت سارے معاملوں میں مظبوط اور عقل و فہم رکھنے والی عورتیں اپنے مرد کے سامنے کمزور اور بے بس نظر آتی ہیں وہ ایسی اس وجہ سے ہوتی ہیں کیونکہ وہ اپنے مرد سے بے حد محبت کرتی ہیں اور انہیں بھی اپنے ساتھی سے اسی محبت، توجہ اور احساس کی ہمیشہ خواہش رہتی ہے اور اکثر مرد اپنی بیوی یا ساتھی کی اسی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان پر اندھا اعتماد کرنے والی عورتوں کے پاس سوائے رونے اور پچھتاوے کے کچھ نہیں رہتا ایسا ہی شوہر کی محبت میں گرفتار ایک عورت کے ساتھ ہوا جو ایک فرم میں ایک اچھے عہدے پر فائز تھی بلکہ اسکی اپنے شوہر سے پسند کی شادی ہوئی تھی اور اب وہ دو بچوں کی ماں اور ملازمت پپیشہ سمجھدار عورت تھی اور اسکے شوہر بھی ایک فرم میں اعلی عہدے پر فائز تھے ارے احسن آپکا لنچ پیک کر دیا ہے اور تم دونوں کا بھی عصمی نے سنی اور ہنی اپنے دونوں بچوں کو آگاہ کیا اور اپنے بچوں کو اسکول وین میں بٹھا کر خود بھی اپنے آفس کیلئے نکل گئی عورت ہونے کے ناطے اسے گھر کی ذمہ داریاں بھی انجام دینی تھیں اور ملازمت پیشہ ہونے کی وجہ سے آفس کی بھی سارے کاموں سے فارغ ہو کر جب وہ سونے کیلئے لیٹی تو سوچنے لگی

اسکے سارے خواب پورے ہو رہے ہیں پیار کرنے والا شوہر پیارے پیارے بچے بیٹا بھی بیٹی بھی چھوٹا سا گھر اللہ کا شکر ہے کسی کی کبھی نظر نہ لگ جائے میرے آشیانے کو اور شکر ادا کر کے وہ سوگئی آدھی رات ہوئی ہو گی شائد اچانک احسن کی آواز پر وہ چونک کر اٹھ گئی عصمی، عصمی اٹھو ہممم جی کیا ہوا وہ سنو مجھے تم سے بات کرنی تھی ارے اتنی رات گئے صبح کر لیں گے نہیں دیکھو بچے سو رہے ہیں ابھی کرنی ہے اچھا اور وہ چشمہ لگاتے ہوئے سیدھی ہو کر بیٹھ گئی جو کہ اسکی عادت تھی جی بولیں کیا ہوا سب خیریت تو ہے آفس میں کوئی مسئلہ یا امی کی کوئی بات ارے نہیں وہ بات دراصل یہ ہے کہ کئی دنوں سے ایک بات کرنا چاہتا ہوں تم سے اب میں تم سے چھپا نہیں سکتا ارے خیریت طبیعت ٹھیک ہے ہاں ہاں ٹھیک ہے وہ بات یہ ہے کہ ہمت اور حوصلے سے سننا میں نے عاشی سے دوسری شادی کر لی ہے اور یہ سب اچانک ہی ہوا وہ میرے آفس میں جاب کرتی تھی اور اس سے دوستی محبت میں تبدیل ہو گئی اور پھر اسکے زیادہ اسرار پر ایک ہفتہ پہلے اس سے نکاح کر لیا دل کے ہاتھوں مجبور ہو گیا تھا، اس سب سے تمہارے اور میرے رشتے میں کوئی فرق نہیں آئے گا تم میری پہلی بیوی ہو اور شرعی لحاظ سے…

 شرعی شرعی کیا ؟؟؟عصمی کی آواز یک دم کمرے میں گونجی یہ سب کیا بولے جا رہے ہو ؟

مذاق کر رہے ہو کیا وہ رو رہی تھی اور پوچھ رہی تھی محبت کسی اور سے اور مجھ سے جو کی تھی وہ ؟…وہ کیا تھا ؟

وہ جو وعدے محبت کے دعوے شادی بچے اور ہماری محبت وہ ختم ہوگئی کیا ؟

کسی اور کی محبت وہ کیسے بیچ میں آ گئی …میری بات تو سنو …بات، کیا بات …؟اور وہ اٹھ کر بچوں کے کمرے میں چلی گئی …۔….عصمی….

اگلے دن جب صبح ہوئی تو احسن گھڑی دیکھ کر حیران رہ گیا دس بج گئے کسی نے جگایا ہی نہیں وہ کمرے سے باہر نکلا اور سنی اور ہنی کو آواز دی اور جواب میں دونوں کی آواز نہیں آئی گھر میں کوئی موجود نہیں تھا کچن میں موجود فرج کے دروازے پہ ایک خط چپساں تھا۔

’’جناب احسن صاحب کل رات کی آپکی باتیں سننے کے بعد مجھے احساس ہو گیا ہے کہ اب وہ پیار اور احساس نہیں رہا، جس کی بنا پر ہم ایک بندھن میں بندھے تھے اور آپکی زندگی میں کوئی اور آچکا ہے میں آپ کے ساتھ اس طرح نہ رہ پاؤں گی کسی اور کا احساس بھی جان لیوا لگتا یے ابھی میں گھر سے جا رہی ہوں کیونکہ میرا دم گھٹ رہا ہے لیکن یہ گھر میرا ہے اسلئے آپ یہ گھر چھوڑ کر چلے جائیں اور اس بات کو بہت سیریس لیجئے گا کیونکہ اگر ایسا نہیں کیا تو اگلا نوٹس وکیل کا آئے گا، آج میری سالگرہ پہ آپ کا یہ تحفہ کبھی بھول نہ پاؤں گی جلد ہی میری طرف سے خلع کا نوٹس موصول ہو جائے گا اللہ حافظ‘‘

احسن نے پورا خط پڑھا اپنا سامان باندھا اور گھر کو باہر سے تالا ڈالا اور چابی پڑوسن کو دی اور نکل گیا اسے اندازہ تھا اس سب کا لیکن اس حد تک وہ جانتا تھا کہ عصمی اس سے بہت محبت کرتی ہے اور وہ اسے قائل کر لے گا لیکن اسے اندازہ نہیں تھا کہ جو عورت اس سے اتنی محبت کرتی ہے اسے ایک منٹ میں دل سے نکال دے گی اور وہ اسے کسی بھی بات سے قائل نہیں کر پائے گا اور وہ یہ بھول گیا تھا کہ اس نے اپنی محبت جو اسے اپنی بیوی عصمی سے تھی خود ہی تو بانٹی تھی اور اب کیا ہو سکتا تھا۔ …

گلابوں کے کئے وعدے،   ہمیں کانٹے ملے تم سے

خزاں سونپی بہاروں میں،   ہمیں ہیں یہ گلے تم سے

محبت تھی محبت ہے،   مگر !

لیکن ہمیں ہی ہے  تمہاری چاہ بدلی ہے،

ملے ہیں یہ صلے تم سے   ہماری ہر دعا میں تم،

WhatsApp Group Join Now

admin

An online Urdu Magazine for women.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *