//آوارہ بادل

آوارہ بادل

. تحریر صاحبزادی فائزہ احمد

تھر کے کھلے میدان میں چند لڑکیاں سامنے سے تیز تیز قدم اُٹھاتی آگے بڑھ رہی تھیں

 گھاگھرے پہنے سروں پر رنگ برنگی اوڑھنیاں لیئے جن سے چہرے اس طرح ڈھکے ہوئے ہیں کہ سوائے تھوڑی مبہم سی جھلک کے اور کچھ نظر نہیں آتا… ہاں وہ حُسن ضرور آنکھوں کو خیرہ کرتا ہے جو خود بخود ظاہر ہو رہا ہے … انکے متناسب جسم اور حیرت انگیز سیدھی متوازن اور ہموار چال ، سر پر تین تین گھڑے اٹھائے ہوئے ہیں مگر ایسی سیدھی چال ۔گردن ہنس کی طرح اُٹھی ہوئی مجال ہے کہ کوئی برتن زرا سی بھی جنبش کر جائے …

اچانک کہیں سے کوئی بادل آیا اور سروں پر میٹھا سایہ بن کر جھومنے لگا…

لڑکیاں چلتے چلتے رک گئیں… ایک ہاتھ سے سر پر رکھے گھڑوں کو سہارا کر کے زرا گردن اوپر کی اور آسمان کی وسعتوں کو جانچا… بادل کی مستیوں نے دل میں کوئی انوکھی نایاب خوشی اور ترنگ بھری … سب نے گھڑے بلکل بے ساختہ نیچے زمین پر رکھے اور خوشی سے جیسے لڈیاں ڈالی جاتی ہیں اسی طرح سے ناچنے لگیں کھلکھلا کر ہنستی تھیں ساتھ اپنی علاقائی زبان میں زور سے کہتی تھیں آ ہا بادل بادل …

تھر کی خشکی سے تڑخی ہوی زمین پر ٹھنڈی پروا کے جھونکوں اور تیز قدموں کی لہر پر محو رقص ،لڑکیوں کے لہراتے گھاگرے اور گھومتی چنریاں ان پر لگے شیشوں اور گوٹیوں کی چمکتی بجلیاں… انکے رنگ جیسے ہولی میں اُبھرتے بدلتے گھومتے ناچتے رنگوں کی پھوار … جیسے قوس قزح زمین پر محو رقص بہت سے جگنوں ہمراہ لیئے … بس دیکھنے والی آنکھ ہی اس نظارے کے جادو کو محسوس کرے بتانے والی بات کہاں…

گوری ناچے اپنی ہی جھانجھر کی تال پر

کھل کر زلف لہرائے ہوا کے میٹھے ساز پر

 بادل بادل… مگر یہ کیا بادل تو کچھ دیر میں ایک بوند بھی صدقہ کیئے بغیر یوں بھاگا کہ دور دور تک اسکا کہیں نام و نشان تک نہیں تھا جیسے سر پر سایہ فگن ہی نا ہوا تھا … شاید بس خواہشات کا سراب تھا نظر کا دھوکہ تھا …

مگر آیا تو تھا… حقیقت میں آیا ،سب نے دیکھا ،اسکی ٹھنڈک کو محسوس بھی کیا … مگر آوارہ تھا شاید جو من میں آئی تو کہیں اور چلا گیا پھر کہیں اور جائے گا اگر دل کیا تو شاید پہلے سے سیراب زمین پر ہی برس جائے…

ایک لڑکی گھبرا کر چیخی ارے ابھی تو تھا کہاں گیا … ساتھ کھڑی لڑکی نے دانت پیسے اور بولی شاید تیرے دل کی طرح کا ہی اس کا بھی مزاج ہے کہیں ٹکتا ہی نہیں …

لڑکیاں پھر سے اپنی منزل کو روانہ ہُوئیں مگر کچھ شاکی سی کچھ سوچتی ہوئی کچھ بے چین …

 “تیرے دل کی طرح کا مزاج” کیا مطلب ؟؟؟

مطلب تو آسان ہے بالکل صاف…

 ہم انسانوں کے دل بھی بادل کی طرح ہی ہیں من میں آئی تو نبھا بھی گئے دل نہ مانا تو پلک جھپکتے میں راہ بدلی ،کون روکے کون ٹوکے …

جب بات سننی ہی نہیں تو سمجھنی کیسے ہے…

انسان آخر اپنے جیسے انسان سے کیسے وفا کرے مالک سے تو کی نہیں جاتی …

راتوں کو خدا سے پیار کی لو اور صبح بتوں سے یارانے

نادان گنوا بیٹھے دن کو جو یار کمایا ساری رات

 یہی سچ ہے نا ؟…

 دل کے بادل کے پل پل بدلتے مزاج جیسے گھومتے ہوا کے بگولوں کی گھمن گھڑیاں کبھی ادھر اڑے کبھی اُدھر …

دنیا میں کوئی چھوڑ گیا مالک کی یاد آگئی کوئی مل گیا پھر بھول گئے

فائدہ ہوا تو فخر واہ واہ ہمارا کارنامہ یہ تو ہونا ہی تھا …

نقصان ہوا … پھر خدا خدا اور خدا … بس اللہ ہی ہے اسی سے لو لگاؤ۔دنیا تو مایا ہے سب مایا ہے… پھر دنیا واپس آئی گلے سے لگا لیا… جی ہم تو تھے ہی ایسے یہ تو ہونا ہی تھا ہماری قدردانی نہ ہوتی یہ کیسے ممکن بھلا …

بادل کو کیا دوش دیں وہ آوارہ کب ہے؟ بے وفا کب ہے؟ وہ تو اپنے مالک کے چلائے چلتا ہے فرمابردار ہے جہاں حکم ہو وہاں برستا ہے ورنہ آگے بڑھ جاتا ہے ان منزلوں کی طرف جن پر برسنے کا اسے اذن دیا گیا ہے …  غلطی ہماری ہے جو اسے آوارہ سمجھا اور آوارہ کہا … اوارہ تو ہم خود ہیں…

مگر اس چراغِ اُمید کو تھامے ہوئے کہ انجام کار اسی منزل پر پڑاوکریں گے جو اصل میں ہماری منزل ہے …

زندگی چاہے بھٹکی ہے بھٹکے گی مگر شمعِ امید کی روشنی یقین دہانیاں کرواتی چلی جائے گی انجام بخیر انجام بخیر…(انشاءاللہ)