//ادبی لطائف
jokes_ghalib

ادبی لطائف

۔

(1)ايک دفعہ اکبر الہ آبادي کمشنر صاحب سے ملاقا ت کے لئے گئے۔ اکبر بہت دير تک برآمدے ميں بلاوے کے منتظر رہے۔جب شرف باريابي پايا تو اس نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ مجھے بعض نہايت ضروري امور سر انجام دينے تھے اس واسطے آپ کو انتظار کي زحمت گوارا کرنا پڑي اور بعد ميں کوئي تازہ شعر سنانے کي بھي درخواست کر دي۔ اکبر نے پہلے تو کچھ عذر خواہي کي مگر اس کے اصرار پر يہ فرمايا۔ ؎

نئي تہذيب کو کيا واسطہ ہے آدميت سے

جنابِ ڈارون کو حضرت آدم سے کيا مطلب؟

کمشنر صاحب بھي بڑے زود فہم تھے سمجھ گئے اور بہت معذرت کي مگر اب کيا ہو سکتا تھا۔

(2)مس گوہر جان کلکتہ والي اپنے وقت کي بڑي مشہور معروف مغنيہ تھي۔ بڑے بڑے راجے مہاراجے گورنر وغيرہ کے درباروں ميں گايا کرتي تھيں۔کسي ايک اسي ہي تقريب ميں کسي شخص نے اسے بتا ديا کہ وہ ہيں مشہور شاعر اکبر۔ وہ نياز حاصل کرنے کے لئے حاضرہوئي اور شعر سنانے کا بھي مطالبہ کر ديا۔ اکبر نے جواب ديا کہ اس مجلس کے برخاست ہونےپر شعر سنتي جانا۔ مجلس کے بعد وہ پھر آئي اور مطالبہ کيا۔ انہوں نے کہا لو سنو ؎

خوش نصيب ايسي بھلا کوئي ہے گوہر کے سوا

سب کچھ اللہ نے دے رکھا ہے شوہر کے سوا

(3)بھارت ميں آج کل اردو زبان کي قطعاً کوئي قدر وقيمت نہيں رہي۔ بلکہ وہ ہندي کو رائج کر رہے ہيں وزير اعظم نہرو نے بارہا اپني قوم کو سمجھايا ہے کہ اردو تو انہي کي اپني زبان ہے اس کو فراموش نہ کريں۔ مگر تعصب کا بُرا ہو کہ سني ان سني کردي گئي ہے۔

اسي حالت کے پيش نظر عمارت کے مشہور اردو شاعر جناب مصطفي خاں صاحب احمق (جو عام طور پر احمق پھپھوندوي کے نام سے مشہور زمانہ ہيں) نے 15؍ اگست1952ء کو جولال قلعہ دہلي ميں مشاعرہ ہوا اور پنڈت نہرو۔ ان کي صاحبزادي اندرا گاندھي۔ ان کي ہمشيرہ مسز پنڈت اور ديگرعمائدين کي موجودگي ميں حسب ذيل اشعار پڑھ کر سب کو لوٹ پوٹ کر ديا۔ ؎

وہ کہتے ہيں کہ دل دل کي باتيں کم سمجھتے ہيں ہم

 وہ کم سمجھيں يہ ديگر بات ہے تاہم سمجھتے ہيں

 بہت پيٹا ميں احمق آج اظہار محبت پر

مگر يہ خيريت گزري۔ وہ اردو کم سمجھتے ہيں