//سنہری تتلی

سنہری تتلی

. تحریر آصفہ بلال -پاکستان

اس کے چہرے پر شدید کرب کے آثار تھے۔نرس نے جب اس کے جلے ہوئے ہاتھ پر دوا لگائی تو شدت تکلیف سے اس کی نیلگوں آنکھوں میں نمی تیرگئی۔ وہ رونا چاہتی تھی مگر آنسووں کا ذخیرہ جیسے اس کے حلق میں اٹک کر رہ گیا ہو۔ “بہت درد ہو رہا ہے؟نرس نے پوچھا تو اس نے نفی میں سر ہلا دیا۔وہ اسے کیسے بتاتی کہ جسم پر لگے ہوئے گھاو تو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بھر جاتے ہیں مگر اس کے دل پر لگے زخم کون بھرے گا ؟ جو اسے راتوں کو بے چین رکھتے تھے۔جو اس کی قسمت میں لکھ دیئے گئے تھے۔ جب موسم سرد ہوا میں چپ سی گھولتے ہیں ۔جب آنسو پلکیں رولتے ہیں۔جب سب آوازیں اپنے اپنے بستر پر سو جاتی ہیں۔ تب آہستہ آہستہ آنکھیں کھولتے ہیں۔دکھ بولتے ہیں۔

کلینک سے نکل کر اس نے رکشہ لیا تا کہ بروقت گھر پہنچ سکے ۔ اسے ہر حال میں پانچ بجے سے پہلے گھر پہنچنا تھا کیونکہ اس کا شوہر منیر ٹھیک پانچ بجے گھر پہنچ جاتا تھا۔عنبرین کو موجود نہ پا کر وہ سیخ پا ہو جاتا اور سارا غصہ بچوں پر اترتا، جسے وہ اپنی ہمسائی کے گھر چھوڑ کر آئی تھی۔پریشانی اور تذبذب کے عالم میں وہ اپنے ہاتھ کی جلن کو بھی بھول گئی۔جو کل ہی بروقت کھانا نہ بنانے پر منیر نے اس کے ہاتھ پر کھولتا ہوا پانی گرا دیا۔اور یہ پہلی بار نہیں ہوا تھا اکثر اسے اپنے ناکردہ جرم کی سزائیں ملا کرتی تھیں مگروہ خاموش رہتی کہ کہتی بھی تو کس سے۔اس بھری دنیا میں اس کا اور تھا ہی کون؟

اماں ابا تو اس کی شادی کے ایک سال بعد ہی ایک حادثےمیں اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چھوڑ گئے تھے۔اور وہ جو اماں ابا کی اکلوتی لاڈلی بیٹی تھی،ایکدم ہی اکیلی ہو گئی…رشتہ دار تو اماں ابا کے ہوتے ہوئے میل جول کم رکھتے تھے تو اب کیا داد رسی کرتے…ابا کتنا لاڈ اٹھایا کرتے تھے اور بھی اپنے اکلوتے ہونے کا پورا لطف لیا کرتی تھی۔وہ تھی بھی تو لاکھوں میں ایک…نیلی نیلی آنکھوں اور سیاہ گھنگریالے بالوں میں وہ کسی گڑیا کی طرح لگتی۔ بہار کا موسم اس کے لئے خوشیوں کا پیامبر بن کر آتا۔اسے پھولوں سے عشق تھا۔اس کے اسی شوق کے پیش نظر ابا نے گھر کے آنگن میں طرح طرح کے پھول کھلا رکھے تھے۔صاف ستھری کیاریوں میں لگے دلکش پھول بہار کا منظر پیش کرتے اور جب ان خوبصورت پھولوں پر رنگ برنگی، سنہری تتلیاں منڈلاتی پھرتیں تو عنبرین اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے ان تتلیوں کو پکڑتی اور اور مٹھی میں بند کرلیتی تو ابا اسے بہتیرا ڈانٹتے …”عنبرین بیٹا ! یہ تتلیاں تو معصوم ہوتی ہیں بالکل تمھاری طرح…انھیں قید کرو گی تو ان کے پروں کے خوبصورت رنگ اتر جائیں گےاور ان کی اصل خوبصورتی جاتی رہے گی”… تبھی وہ گھبرا کر مٹھی کھول دیتی اورسنہری تتلی پلک جھپکتے اڑ جاتی مگر اس کے پروں کا رنگ اس کی ہتھیلیوں میں ہی چھوٹ جایا کرتا تھا…تب وہ رو رو کر اللہ سے معافیاں مانگتی…

وقت جیسے پر لگا کر اڑتا رہا اور عنبرین نے جیسے ہی ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی، ،ابا کو اس کی شادی کی فکر لاحق ہو گئی ۔اماں نے اسے تعلیم کے ساتھ ساتھ گھرداری میں بھی طاق کر دیا تھا۔اسی اثنا میں منیر کا رشتہ آیا، ،،کسی سرکاری دفتر میں کلرک تھا،،،والدین ان کے آبائی گاوں میں مقیم تھے ۔ابا خوش ہو گئے کہ اکیلا رہتا ہے، ،نہ ساس نندوں کا جھنجھٹ، ،سادہ لوح والدین کو اور کیا چاہیے تھا۔عنبرین سے پوچھا تو اس نے رضامندی میں سر جھکا دیا…وہ کہنا چاہتی تھی کہ وہ کالج میں لیکچرار بننا چاہتی ہے مگر الفاظ زبان پر آنے سے انکاری تھے کیونکہ یہی مشرقی لڑکیوں کا وطیرہ سمجھا جاتا ہے۔چٹ منگنی اور پٹ بیاہ والا معاملہ ہوا۔اور عنبرین دلہن بن کر منیر کے گھر ودا ہو گئی۔

نجانے اس کی محبت یا خدمت میں کہاں کمی رہ گئی تھی کہ وہ ہزاروں جتن کرتی مگر منیر کبھی اس کی پزیرائی نہ کرتا ۔بات بے بات طنز کے نشتر چلاتا…”زیادہ پڑھی لکھی لڑکیاں ویسے بھی گھر نہیں بسا سکتیں…تمہارے تیور بھی کچھ ایسے ہی دکھائی دیتے ہیں…”وہ نخوت سے کہتا تو وہ سوچتی ہی رہ جاتی کہ آخر وہ ایسا کیا کرے کہ منیر اس سے خوش ہو جائے…اس نے تو کبھی اپنی تعلیم کو جتایا ہی نہیں تھا بلکہ اسے تو شائید بھول ہی چکا تھا کہ اس کے پاس کوئی ڈگری بھی تھی…اس نے تو کبھی ابا اماں سے بھی اپنا دکھ نہ کہا تھا کہ ابا نے رخصت کرتے وقت یہی کہا تھا کہ” بیٹیاں کبھی بابل کا سر جھکنے نہیں دیتیں۔”

اماں ابا کی وفات کے بعد منیر کے حوصلے اور بھی بلند ہو گئے…وہ عنبرین کو مکمل طور پر اپنی ملکیت سمجھتا تھا…باہر نکلنا تو دور کی بات، ،اسے گھر میں بھی اپنی مرضی سے کچھ کرنے کی اجازت نہیں تھی…جب فاطمہ اس کی گود میں آئی تو اسے لگا کہ زندگی میں پھر سے بہار لوٹ آئی ہےاور شاید بیٹی کی محبت سے اس کے روئیےمیں کچھ تبدیلی آ جائےمگر منیر کو بیٹی کی پیدائش کی کوئی خوشی نہ تھی…بیٹی کی معصومیت بھی اس کا دل نرم نہ کر سکی…دو سال بعد جب فضہ پیدا ہوئی تو منیر نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔”تم ہو ہی منحوس…تم نے تو قسم کھا رکھی ہے کہ کوئی خوشی نہیں دو گی”…اور وہ اپنی بیٹیوں کو سینے سے لگائے اپنی تیرہ بختی پر ماتم کناں تھی…پہلے وہ ابا کی عزت کی خاطر ظلم سہتی رہی …اور اب یہ بیٹیاں جو کسی نازک بیل کی طرح اس سے چمٹ گئی تھیں…وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ منیر سے علیحدگی کے بعد اس کا کیا مستقبل ہو گا…کیونکہ وہ ایک ایسے بد ترین معاشرے میں رہتی تھی جہاں “”کسی بیوہ کو تو ہمدردی کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، ،خواہ اپنے شوہر کی زندگی میں اس سے کیسا ہی برا رویہ رکھتی ہو مگر ایک طلاق یافتہ کو ہمیشہ نفرت اور شک کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔یہی سوچ کر اس نے بھی اپنا آپ تج دیا تھا۔اپنی خواہش کا اظہار کرنا جیسے بھول ہی گئی تھی، ،کسی معمول کی طرح منیر کے احکامات پر عمل کرتی مگر کسی صورت راضی نہ ہوتا…کل بھی جب منیر نے گرم کھولتا ہوا پانی اس کے ہاتSet featured imageھ پر گرایا تو وہ تڑپ کر رہ گئی کہ وہ مر بھی تو نہیں سکتی تھی،،،،ساری رات تکلیف میں گزاری اور صبح منیر کے جاتے ہی بڑی ہمت جٹا کر بچیوں کو ہمسائی کے پاس چھوڑ کر کلینک تک آئی تھی مگر مسلسل دھڑکا لگا ہوا تھا…رکشہ جیسے ہی رکا وہ تیزی سے گھر کی طرف لپکی مگر گھر کا دروازہ کھلا تھا،،،اس کا دل دھک سے رہ گیا،،وہ سمجھ گئی کہ اسے دیر ہو گئی تھی،،،جیسے ہی وہ اندر داخل ہوئی ایک زناٹے دار تھپڑ اس کا گال سرخ کر گیا…منیر غصے میں آپے سے باہر ہو چکا تھا…عنبرین نے صفائی دینے کی کوشش کی تو اس نے طیش میں آ کر میز پر رکھا لوہے کا گلدان اس کے سر پر دے مارا…خون کا فوارہ عنبرین کے سر سے پھوٹ پڑا اور وہ چکرا کر

زمین پر گر پڑی…فرش پر اس کا بے گناہ لہو بہتا چلا جا رہا تھا،،جب تک ایمبولینس آئی وہ اس اذیت سے نجات پا چکی تھی…اس کی بے نور آنکھیں کھلی ہوئی تھیں، ،جن میں ایک اذیت اور حسرت نمایاں تھی…جیسے کہہ رہی ہو کہ “ابا تیری سنہری تتلی کے سارے رنگ کسی بے رحم کے ہاتھوں نے چھین لئے…”