//بزم خواتین کی دسویں سالگرہ پر فرینکفرٹ میں عالمی مشاعرہ
bazm

بزم خواتین کی دسویں سالگرہ پر فرینکفرٹ میں عالمی مشاعرہ

شمیم خان صدر مجلس بزم خواتین اردو جرمن کلچرل سوسائٹی

فرینکفرٹ جرمنی میں ادبی تنظیم اُردو جرمن کلچرل سوسائٹی کا قیام 1988ء میں عمل میں آیا تھا جس نے جرمنی میں اردو شاعری کے فروغ کے لئے شعراء کو پلیٹ فارم مہیا کرنا شروع کیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ شعراء کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ ان نو آموز شاعری کرنے والوں میں چند ایسی خواتین بھی شامل تھیں جو مردانہ سٹیج سے اپنا کلام سُنانے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتی تھیں۔ چنانچہ شاعرات میں ادبی فروغ کو بڑھانے اور اُن کی ذوقی کاوشوں کو سراہنے کے لئے 2009ء میں بزمِ خواتین کے نام سے اُردو جرمن کلچرل سوسائٹی میں علیحدہ ونگ قائم کیا گیا ہے جو ہر سال دو مشاعرے منعقد کرتا ہے۔ 14 جولائی کو بزم خواتین نے اپنے قیام کی دسویں سالگرہ پر ایک عالمی مشاعرہ کا اہتمام کیا۔ جس میں جرمنی کے علاوہ انگلستان، کینیڈا، ناروے، سویڈن، ڈنمارک، سوئٹزرلینڈ سے شاعرات نے شرکت کی پاکستان سے تشریف لانے والی صاحبزادی فائزہ احمد اس دس سالہ جشن کی مہمان خصوصی تھیں۔ جبکہ ناروے سے طاہرہ زرتشت اور برطانیہ سے ڈاکٹر نکہت افتخار کو مہمان اعزازی کا مقام دیا گیا تھا۔

تقریب کے آغاز میں بزم خواتین کی صدر شمیم خان نے مہمانوں کو خوش آمدید کہتے اور تقریب کی مہمان خصوصی کا تعارف کرواتے ہوئے کہا کہ صاحبزادی فائزہ احمد صرف شاعرہ ہی نہیں بلکہ وہ ایک ایسی سحر انگیز روحانی شخصیت کی صاحبزادی ہیں جن کی یاد ہمارے دِلوں کی دھڑکن کا حصہ ہے۔ بزم خواتین کی جنرل سیکرٹری درثمین احمد نے دس سالہ کارکردگی کی رپورٹ پیش کی جس میں بتایا گیا کہ بزم خواتین کی طرف سے پہلا مشاعرہ 21 جون 2009ء کو ڈاکٹر سائرہ جونیجو کی صدارت میں کروایا گیا۔ مشاعروں کے علاوہ بشریٰ اقبال۔ امۃ المنان طاہر۔ ہما ملک۔ عشرت معین اور نبیلہ رفیق کی نثری کتابوں کی تقریب رونمائی بھی کروائی گئی۔ عید ملن پارٹیاں، مینا بازار کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ پاکستان سے جذام کے مرض کو ختم کرنے میں اپنی جان کی قربانی دینے والی رحم دل خاتون ڈاکٹر روتھ فاؤ کی وفات پر تعزیتی ریفرنس بھی منعقد کیا گیا۔ پروین شاکر اور فیض احمد فیض کی شاعری پر خصوصی تقاریب ہوئیں۔ 2011ء میں جشنِ فیض میں اُن کی صاحبزادی سلیمہ ہاشمی نے شرکت کی اور اپنے ہاتھ سے فیض ایوارڈ تقسیم کئے۔ چنانچہ2011ء سے شاعری، ادب اور سوشل ورک پر ہر سال فیض ایوارڈ دیا جاتا ہے۔

دس سالہ جشن کی خصوصی تقریب دو حصوں پر مشتمل تھی۔ پہلے حصہ کی صدارت محترمہ صاحبزادی فائزہ احمد نے کی۔ اس میں مزاحیہ شاعری پیش کرنے والیوں میں لندن سے فوزیہ بٹ، ڈاکٹر نکہت افتخار، نسرین نیناں، جرمنی سے شوکت احمد شامل ہیں۔ اس کے بعد ہما احمد اور قدسیہ نور والا نے ملکہ پکھراج اور طاہرہ سید کی ہائے میری انگوٹھیاں پر پیروڈی پیش کر کے حال کو کشت زعفران بنا دیا۔ ہال بہت دیر تک تالیوں سے گونجتا رہا۔ اس کے بعد چائے کا وقفہ تھا جس کے دوران خواتین ساتھ کے ہال میں لگے مینا بازار سے محظوظ ہوئیں۔ شاپنگ کی اور مہندی لگوائی۔ مشاعرہ کی نسبت سے پان سے بھی لطف اندوز ہوئیں ۔

درمیانی وقفہ کے بعد مشاعرہ کی اصل نشست شروع ہوئی جس کی صدارت ڈاکٹر نکہت افتخار نے کی جبکہ صاحبزادی فائزہ احمد اس نشست کی مہمان خصوصی تھیں۔ اس مشاعرہ کے لئے ستائیس شاعرات کا چناؤ کیا گیا تھا تب بھی رات نو بجے تک مشاعرہ جاری رہا اور سامعین نے شاعرات کو خوب کھل کر داد دی۔ قارئین کی دلچسپی اور تعارف کے لئے بعض شاعرات کے کلام کا نمائندہ شعر پیش خدمت ہے۔

مغفورہ مُغنی نے نکہت افتخار کے کلام کی زمین میں یہ اشعار پڑھے۔

شاعری ہو یا گفتگو ہر آن

اپنے لہجے کو معتبر رکھیے

دو سنانے کی ہے اگر عادت

چار سُننے کا بھی ہنر رکھیے

’’صدف جرمنی ‘‘

وہ حسن باکمال تھا جو بھولتا نہیں

اک رات کا جمال تھا جو بھولتا نہیں

امۃ الجمیل سیال صاحبہ

اپنی چاہت کو حسین رنگوں میں یوں ڈھالا ہے

جسطرح چاند کی آغوش میں ایک ہالہ ہے

’’شاذیہ افروز جرمنی‘‘

کیوں آج وقت میری کمائی نہ دے مجھے

تا عمر وقت زیست رسائی نہ دے مجھے

’’دُرثمین احمد جرمنی‘‘

بے نام سا یہ رشتہ مر کیوں نہیں جاتا

اس سے بچھڑنے کا یہ ڈر کیوں نہیں جاتا

امۃ الشافی لندن

یہ لعل و گہر دل کو لُبھانے کے لئے ہیں

گردن میں حمائل ہیں دِکھانے کے لئے ہیں

پردیس میں بیٹھے ہیں زخم دل کو چھپائے

اور مینا و ساغر تو زمانے کے لئے ہیں

بشریٰ عمر بامی لندن

دل میں یوں اداسی طاری ہے

میں نے یونہی ایک عمر گزاری ہے

’’فہمیدہ مسرت جرمنی‘‘

مٹاتے دوریاں دل سے زمانے کی ذرا سی دیر لگتی ہے

ہر اک دیوار اُٹھانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے

’’فرزانہ نایئد جرمنی‘‘

معجزے ہوتے نہیں ہیں کبھی بھی

جو جس کا تھا اُسی کا ہو گیا ہے

’’صفیہ چیمہ جرمنی‘‘

عیباں اُتے پا پردہ تھالی اُتے تھالی رکھ

چھڈ مثالاں لوکاں دیاں اپنا آپ مثالی رکھ

’’نسرین نیناں لندن‘‘

بندے سے صرف نظر میرا خدا کرتا ہے

بندہ تو پہلے ہی خطا کا ہے خطا کرتا ہے

رابعہ چوہدری لندن نے جو غزل پیش کی اس کا مصرعہ ہے

اتنا سہہ چکا ہے یہ دل سانحے محبت کے

’’مسعودہ طارق کینیڈا‘‘

زندہ ہیں بہت عرصہ سے

تیری کمی ہوتے ہوئے بھی

’’عشرت مسٹو جرمنی‘‘

تجھے تو عادت ہے پھولوں کو دیکھنے کی

اور میں آبلئہ قلب دِکھاؤں تو دِکھاؤں کیسے

عشرت دے چکی ہے درجہ محبت کو خدا کا

اب اسے ہاتھ لگاؤں تو لگاؤں کیسے

ان کے علاوہ قدسیہ شکور، شاہین کاظمی سوئٹزرلینڈ سے، جرمنی سے شوکت احمد۔ نصرت مجید۔ حمیرا نکہت۔ فہمیدہ بٹ۔ نصرت مجید نے بھی اپنا کلام پیش کیا جو نوٹ ہونے سے رہ گیا۔ فوزیہ بٹ کا یہ شعر بہت پسند کیا گیا۔

شہر میں ہمارے تو چاند آن اُترا ہے

دور تک محبت کی چاندنی کا موسم ہے

شازیہ نورین کو سبھی لوگوں نے دل کھول کر داد دی۔ اُن کا پسندیدہ شعر ہے۔

کرب تنہائی جوگ مجھے پیارا ہے

تیری نسبت سے ملا یہ روگ مجھے

طاہرہ رباب۔ طاہرہ زرتشت اور مہمان خصوصی صاحبزادی فائزہ احمد کو بھی بڑی دلجمعی اور دلچسپی سے سُنا گیا۔ بی بی فائزہ نے اُردو کے علاوہ پنجابی کلام بھی پیش کیا۔ انکی یہ نظم بہت پسند کی گئی۔

جھوٹ کے سب بندھن توڑو سچ سے کر لو پیار

سچے یار سے یاری کر لو پیا سے کر لو پیار

پیا سے کر لو پیار

صدر شاعرہ ڈاکٹر نکہت افتخار نے اپنا کلام پیش کیا جو کہ حاصل مشاعرہ کلام ٹھہرا۔ آخر پر بزم خواتین کی صدر شمیم خان نے تمام شاعرات اور شرکاء محفل کا شکریہ ادا کیا۔ صاحبزادی فائزہ احمد خاص طور پر اس مشاعرہ میں شرکت کے لئے پاکستان سے تشریف لائیں۔ ڈاکٹر نگہت افتخار نے اپنی ڈاکٹری مصروفیات میں وقت نکال کر شریک ہوئی۔ علاوہ طاہرہ زرتشت صاحبہ ناروے سے سفر کر کے اس محفل میں شریک ہوئی۔ ہماری رہنمائی اور مدد کی جو کہ خصوصی شکریہ کے مستحق ہیں۔

مشاعرہ کے اختتام پر صاحبزادی فائزہ احمد کے ہاتھوں فیض احمد فیض ایوارڈ دِلوائے گئے۔ ادب کا فیض ایوارڈ سوئٹزرلینڈ کی حمیدہ شاہین کاظمی نے اپنے ناول ’’ندی پور کی رادھا‘‘ پر حاصل کیا۔ سوشل ورکر کا فیض ایوارڈ فرحت مُعیذ کے حصہ میں آیا۔ شاعری کا فیض ایوارڈ ڈاکٹر نکہت افتخار کے ہاتھوں صاحبزادی فائزہ احمد نے وصول کیا۔ تمام شاعرات جنہوں نے آج کے مشاعرے میں اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا اُن کو اُردو جرمن کلچرل سوسائٹی کی طرف سے ایوارڈ آف آنر دیئے گئے جو انہوں نے صاحبزادی فائزہ احمد کے ہاتھوں وصول کئے۔دو بچیوں دعا احمد اور مہک احمد جو 9 سال سے مشاعرہ کے انعقاد میں مدد فراہم کرتی ہیں۔ صاحبزادی فائزہ احمد نے حوصلہ افزائی پر انہیں انعامی شیلڈ عطا کیں اور دونوں کو گلے لگایا۔ اس مشاعرہ میں 412 خواتین نے شرکت کی۔

ایوارڈ کی تقسیم کے بعد تمام شرکاء کی خدمت میں ڈنر پیش کیا گیا جس کے بعد رات گئے تک مینا بازار کی رونق سے خواتین لطف اندوز ہوتی رہیں۔