//لُٹا کے دل کا سکوں بے قرار پھرتے ہیں
urdu_shairy

لُٹا کے دل کا سکوں بے قرار پھرتے ہیں

فہمیدہ مسرت۔ جرمنی

لُٹا کے دل کا سکوں بے قرار پھرتے ہیں

قبا ئے چاک لیئے خوار خوار پھرتے ہیں

جنہیں نصیب ہو قربت  تری اے جانِ جاں

نہا کے خُوشبو میں وہ مُشکبار پھرتے ہیں

جو اُٹھ کے آتے ہیں اک بار تیری محفل سے

وہ تیری یاد میں بس زار زار پھرتے ہیں

نکل کے آ ذرا دُنیا سے اپنی اےظالم

ترے ہی کوچے میں اب سوگوار پھرتے ہیں

وہ جن کے قدموں تلے کل تلک زمانہ تھا

وہی جہان میں بے اعتبار پھرتے ہیں

ستم ظریفی ہے یہ بھی کہ تیرے پروانے

اے شمع  ہو کے تُجھی پر نِثار پھرتے ہیں

یہ رنج و غم تو  اثاثہ ہیں لوگ کیوں ان کو

سجا کے چہرے پہ اک اشتہار پھرتے ہیں

انہی میں ڈُھونڈ مُسرت نصیب کا تارہ

سِتارے آسماں پر بے شُمار پھرتے ہیں