//سرزمین ربوہ کا تاریخی اور روحانی پس منظر
Rabwah

سرزمین ربوہ کا تاریخی اور روحانی پس منظر

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 20 و 21؍ستمبر 2002ء کے شماروں میں مکرم مولانا دوست محمد شاہد صاحب کے قلم سے ربوہ کے تاریخی اور روحانی پس منظر پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔

علامہ ابن خلدون نے نئے شہروں کی تعمیر کے سلسلہ میں حضرت عمرؓ کی ہدایات کا ذکر کیا ہے۔ان ہدایات کے مطابق کوفہ اور بصرہ آباد کئے گئے۔ چنانچہ دونوں کا آغاز سرکنڈے کے کچے مکانات سے ہوا اور جب پختہ عمارات کا مرحلہ آیا تو سب سے پہلے مرکزی مسجد بنائی گئی جس کے ساتھ قصر امارت بھی تعمیر ہوا۔ ربوہ کی تعمیر بھی قریباً انہی خطوط پر ہوئی۔

تیسری صدی قبل مسیح میں چندرگپت موریہ نے چنیوٹ سے باہر نکل کر قریباً پورے مغربی پنجاب پر اپنا اقتدار قائم کرلیا تھا۔ اس کامیابی میں ایک برہمن مصنف اور دانشور چانکیہ کا بھاری عمل دخل تھا جس نے سیاست مدن پر ’’ارتھ شاستر‘‘ نامی کتاب بھی لکھی۔ وہ پہلا ہندو مصنف ہے جس کی کتابوں کے تراجم خلیفہ مامون الرشید نے عربی میں کرائے۔

چنیوٹ کی مرکزی اہمیت کے پیش نظر ہندو حکمرانوں نے دریائے چناب کے دوسرے کنارے کو بھی اپنی تمدنی اور مذہبی سرگرمیوں کا مرکز بنانا چاہا۔ تاریخی حقائق سے علم ہوتا ہے کہ ربوہ کے مقام پر سکندراعظم کے حملہ سے پہلے سنسکرت یونیورسٹی تھی اور اس شہر یا یونیورسٹی کا نام ایجاھن تھا۔ ایک دوسری تاریخی کتاب میں تحریر ہے کہ پہلا شہر دریا کے پار تھا جو کسی بڑی جنگ میں تباہ ہوگیا۔ بعد میں رانی چندن نے اسے دریا کے دوسری طرف بسایا اور ’’چندن وٹ‘‘ سے یہ چنیوٹ مشہور ہوا۔

ایک تاریخی روایت ہے کہ چنیوٹ ایک بہت قدیم شہر ہے جو ریاست عسفان کا دارالحکومت تھا۔ جب عرب فوج نے اس شہر پر حملہ کیا تو یہاں ایک ہندوراجہ حکمران تھا۔ ایک سو عرب سپاہی شہر فتح کرنے میں کام آئے جن کا قبرستان شہر کے باہر موجود ہے۔ عرب جرنیل محمد بن قاسم بھی (711ء میں) چنیوٹ سے جہلم اور وہاں سے کشمیر گیا۔

ایک اَور روایت کے مطابق ربوہ کی پہاڑیوں کے دامن میں محمود غزنوی کے سپاہیوں کی قبریں ہیں جن کی مقامی ہندو راجہ سے خونریز جنگ ہوئی۔ بیان کیا جاتا ہے کہ اس جگہ بے آبادی کے زمانہ میں مسافروں کو صبح کی اذان سنائی دیا کرتی تھی۔

1848ء میں ضلع جھنگ برطانوی عملداری میں آیا اور 1861ء میں اس ضلع کو تین تحصیلوں میں تقسیم کیا گیا۔ ربوہ جس خطہ پر آباد ہوا یہ ’’چک ڈھگیاں‘‘ کے نام سے موسوم ہے اور 1034؍ایکڑ پر مشتمل ہے۔ سلطان محمود نے یہ علاقہ ایاز کی عملداری میں دیدیا تھا۔ قطب الدین ایبک نے اسے اپنی ریاست ملتان میں شامل کرلیا۔ بعد میں شیرشاہ سوری اور پھر اکبر جیسے بادشاہوں کے زیرنگیں رہا۔ اسی دَور میں ربوہ سے متصل دریائے چناب کے دوسرے کنارے پر حضرت شاہ بوعلی قلندرؒ ساڑھے سات سال محو عبادت رہے۔ اُن کی چلہ گاہ اور حجرہ آج بھی مرجع خلائق ہے۔

ربوہ کے قرب و جوار میں بہت سے ایسے اولیاء آسودۂ خاک ہیں جن کے اثرات صدیوں بعد آج بھی لاکھوں دلوں میں روشن ہیں۔ ان کی تفصیل ’’تذکرۃالاولیاء جھنگ‘‘ میں ملتی ہے۔ ان میں حضرت سلطان باہوؒ اور شیخ محمد بہلولؒ کو ممتاز مقام حاصل ہے۔ حضرت سلطان باہوؒ قریباً 140؍کتب کے مصنف تھے۔ آپؒ خود فرماتے ہیں: ’’حضرت سرور کائناتﷺ اس فقیر کو باطن میں اپنے حرم محترم کے اندر کمال شفقت اور مرحمت سے لے گئے اور آنحضرتﷺ اور امہات المومنین نے مجھے اپنے نوری حضوری فرزند کے خطاب سے سرفراز فرمایا۔‘‘

حضرت شیخ محمد بہلولؒ، سلطان فتح علی ٹیپوؒ کے جدّامجد تھے۔ یہ سلطان ٹیپوؒ ہی تھے جنہوں نے اپنی فوج کا نام جماعت احمدی اور سونے کے شاہی سکے کا نام احمدی رکھا تھا۔ انہوں نے ایک نیا اسلامی کیلنڈر بھی جاری فرمایا تھا جس کے پہلے مہینہ کا نام بھی احمدی تھا بلکہ اپنے دارالسلطنت سرنگاپٹم کی مسجد کو’’مسجد احمدی‘‘ سے موسوم فرمایا۔

لفظ احمدی کی یہ ترویج و اشاعت آسمانی تحریک کی بدولت ہورہی تھی کیونکہ حضرت باہوؒ کی ولادت سے اٹھارہ سال قبل حضرت مجدد الف ثانیؒ کو الہاماً بتایا جاچکا تھا کہ آنحضرتﷺ کے زمانۂ رحلت کے ایک ہزار اور چند سال بعد حقیقت محمدی اپنے مقام سے عروج فرمائے گی اور حقیقت کعبہ کے مقام میں متحدہ ہوجائے گی۔ اس وقت حقیقت محمدی کا نام حقیقت احمدی ہوجائے گا۔

جماعت احمدیہ کا قیام 23؍مارچ 1889ء کو عمل میں آیا۔ اگلے ہی روز 24؍مارچ کو چنیوٹ کے حضرت مرزا خدابخش صاحبؓ (مترجم چیف کورٹ لاہور) نے بیعت کی سعادت حاصل کی۔ ان کا نام 313 صحابہؓ کی فہرست میں 42ویں نمبر پر درج ہے۔ 19؍مئی 1890ء کو چنیوٹ کی بستی برجی لون کے حضرت میاں محمد دین صاحبؓ ولد پٹھانا اور 4؍ستمبر 1890ء کو چنیوٹ کے باشندے حضرت میاں نور احمد صاحبؓ اس پاک جماعت سے وابستہ ہوئے۔ چنیوٹ کے حضرت شیخ عطا محمد صاحبؓ (تاجر اشٹام فروش) کا نام حضرت مسیح موعودؑ نے 313 صحابہؓ کی فہرست میں 241 نمبر پر درج فرمایا ہے۔ اسی طرح اس علاقہ سے تعلق رکھنے والے بہت سے پاک وجودوں نے حضرت مسیح موعودؑ کے دست مبارک پر بیعت کی سعادت حاصل کی۔

حضرت مصلح موعودؓ کو اللہ تعالیٰ نے بہت پہلے یہ خبر دیدی تھی کہ قادیان اور اس کے گردونواح میں دشمن حملہ آور ہوگا اور قادیان سے جالندھر تک خوفناک تباہی آئی گی۔ قادیان کی بستی پر بھی دشمن کا غلبہ ہوگا البتہ مسجد مبارک کا حلقہ محفوظ رہے گا۔ آپؓ پہاڑیوں کے دامن میں واقع میدان میں نیا مرکز تعمیر کریں گے اور یہ واقعہ پسرِ موعود سے متعلق انکشاف کے بعد پانچ سال کے عرصہ میں ہوگا۔ اس انقلاب کے بعد خدا کا نور تمام دنیا میں جائے گا۔ (یہ رؤیا 1938ء میں شائع ہوئی۔ 1944ء میں پسر موعود سے متعلق انکشاف ہوا)۔

5؍جنوری 1900ء کو داتہ ضلع ہزارہ کے بزرگ حضرت میر گل شاہ صاحبؓ نے حضرت مسیح موعودؑ کے نام اپنے مکتوب میں لکھاکہ آپؓ کو کشفاً ایک نقشہ میں قادیان سے اوپر ایک اَور مقدس شہر کا نقشہ دکھایا گیا ہے جس کا نام آپؓ کو بھول گیا۔

حضرت چودھری غلام حسین صاحب آف جھنگ نے 1932ء سے قبل (ان دعاؤں کے نتیجہ میں کہ ’’یا اللہ! تین کو چار کرنے سے کیا مراد ہے؟‘‘) ایک خواب دیکھا کہ دو پہاڑیاں ہیں اور درمیان میں ایک میدان میں جلسہ مصلح موعود ہے اور خدام نے کام کرتے ہوئے دو پہاڑیوں کے درمیان سڑک بناڈالی ہے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ 20؍فروری 1886ء کی عظیم الشان پیشگوئی مصلح موعود کے مذکورہ الفاظ کی دلکش عملی تعبیر ربوہؔ بھی ہے۔

بانی ربوہ سیدنا حضرت مصلح موعودؓ نے ایک پُرشوکت پیشگوئی میں یہ اعلان فرمایا:

’’ ربوہ کے چپے چپے پر اللّٰہ اکبر کے نعرے لگ چکے ہیں اور رسول کریم ﷺ پر درود بھیجا جاتاہے ۔

یہ بستی انشاء اللہ قیامت تک خدا کی محبوب بستی رہے گی۔

یہ بستی انشاء اللہ کبھی نہیں اجڑے گی بلکہ

قادیان کی اتباع میں اسلام اور محمد رسول اللہ ﷺ کے جھنڈے کو

بلند سے بلند تر کرتی رہے گی‘‘۔