نظم ۔ ۔ ۔ مہرالنّساء مہروؔ
شاعرہ: مہرالنّساء مہروؔ
لگا کر دل کسی سے چھوڑ کر جایا نہیں کرتے
محبت کرنے والوں کو تو تڑپایا نہیں کرتے
یہی تاریخ کہتی ہے یہی کردار ہے اپنا
ہم اپنے دشمنوں پر بھی ستم ڈھایا نہیں کرتے
شریعت بھی یہ کہتی ہے یہی تہذیب ہے اپنی
بنا دستک کسی کے گھر میں ہم جایا نہیں کرتے
بھری محفل میں اس نے یہ کہا ہے دیکھ کر مجھ کو
یہاں اپنے ہیں سارے آؤ شرمایا نہیں کرتے
ہمارے دل سے جو اک بار اتر جاتے ہیں اے مہروؔ
زباں پر نام ان کا ہم کبھی لایا نہیں کرتے


